نریندر مودی اور ہندوتوا کی سیاست

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری میں جہاں بہت سی رکاوٹیں یا مسائل ہیں وہیں ان میں ایک بڑا مسئلہ نریندر مودی کی انتہا پسندانہ سیاست بھی ہے۔ بھارتی حکومت پاکستان سے بہتر تعلقات میں پیش رفت کے لیے تیار نہیں۔

نریندر مودی سمجھتے ہیں کہ ان کی سیاسی طاقت اور انتخابی کامیابی کے پیچھے اصل جادو ان کی پاکستان مخالف پالیسی سے ہی ممکن ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جو لوگ بھارت میں پاکستان سے بہتر تعلقات کی خواہش رکھتے ہیں ان کو نریندر مودی کی ہندوتوا سیاست کے تناظر میں مزاحمت کا سامنا ہے۔ حال ہی میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف اپنے دہشت گردانہ اقدامات کو چھپانے کے لیے بھارت ہم پر دہشت گردی کے الزامات لگا کر ہمیں بدنام کرنے کی کوششوں میں لگا رہتاہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کی کہ ہم گرے لسٹ سے باہر نہ نکل سکیں۔

بلاول بھٹو کے اس بیان پر کہ بھارتی حکومت گاندھی کی نہیں بلکہ گاندھی جی کے قاتل کے نظریات پر یقین رکھتی ہے، ہٹلر سے متاثر ہے ۔ بلاول کے اس بیان پر کہ  ’نریندر مودی گجرات کا قصائی‘  ہے، بھارت میں انتہا پسند یا سخت گیر جماعتوں نے سخت اجتجاج کیا ہے ۔ بھارت کی سیاسی قیادت عملی طور پر انتہا پسندی پر یقین رکھتی ہے ۔ وہ پاکستان سمیت ہمسایہ ممالک کے داخلی معاملات میں نہ صرف ملوث ہے بلکہ مداخلت کو بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی یا ٹکراؤ کو پیدا کرنا بھی بھارتی اسٹیبلشمنٹ کی کوشش ہے۔ افغانستان کا میڈیا پاکستان مخالف ایجنڈے پر گامزن ہے۔ بھارت اورافغانستان کی خفیہ ایجنسی پاکستان مخالف ایجنڈا رکھتی ہے ۔

وزیر خارجہ بلاو ل بھٹو سمیت سابق وزرائے خارجہ یا سابق وزرائے اعظم نے بھی ٹی ٹی پی اور آئی ایس کے پی جیسی تنظیموں کی حمایت یا سرپرستی کا الزام بھارت پر لگایا ہے ۔ اسرائیل کی طرح بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں یو این ایس سی کو مفلوج اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد میں ناکام ہے۔

آرٹیکل 370 اور 35 اے کو  منسوخ کرنے کے اقدمات، آبادی کی پالیسی، حلقوں کی حد بندی اور کشمیر میں ای سی لاک ڈاؤن اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتے ہیں کہ بھارت خود کو عالمی سطح پر طے کردہ اصولوں کے مطابق چلانے کے لیے تیار نہیں اور اس کا قانونی واخلاقی مقدمہ بھی کمزور ہے ۔ اسی طرح نریندر مودی کے جارحانہ انتہا پسند عزائم یا انتہا پسند جماعتیں آر ایس ایس اور وی ایچ پی بھارت میں مقیم اقلیتوں کے لیے خطرہ ہیں ۔ بھارت میں عیسائیوں ، مسلمانوں ، دلتوں کے خلاف عملاً بڑھتے ہوئے نفرت انگیز جرائم بھی تشویش کا پہلو ہے ۔

بھار ت میں سیکولر یا لبرل سیاست سے جڑے افراد برملا اعتراف کرتے ہیں کہ انتہا پسند پالیسیوں نے ملک میں بنیادی اخلاقی اقدار، جمہوریت، رواداری، برداشت، قانون کی حکمرانی فرد کی آزادی یا خودمختاری، عزت ونفس اور مختلف مذاہب میں سماجی و مذہبی ہم آہنگی  کو کمزور کیا ہے ۔ بی جے پی اور اس کی اتحادی جماعتیں ذات پات، مذہب اور قومیت کی بنیاد پر انسانوں کی تفریق کرتی ہیں ۔ بھار ت کی معروف انسانی حقوق کی موثر اور بڑی آواز آرون دتی رائے کے بقول ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت مودی سرکار مسلم نسل کشی پر عمل پیرا ہے ۔

ایک برس قبل تقریباً سو ماہرین انسانی حقوق، سابق ججز، ریٹائرڈ بیوروکریٹ ، اسکالرز او ر سول سوسائٹی سے وابستہ افراد نے نریندر مودی کے اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر بھارتی صدر اور سپریم کورٹ کے سربراہ کو خط لکھا کہ وہ ان معاملات پر غیرمعمولی اقدامات کی طرف توجہ دیں ، وگرنہ حالات قابو سے باہر ہوں گے۔ بھارتی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز نے بھی ایک خط صدرکو لکھا کہ وہ ان معاملات پر کچھ کریں اور خاموشی کو توڑیں ۔

پاکستان اگر واقعی علاقائی ممالک کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے تو اس کی ایک بڑی شکل پاک بھارت تعلقات میں بہتری سے جڑی ہوئی ہے ۔ اس میں دونوں ممالک کو ذمے دارانہ کردار ادا کرنا ہے ۔ دونوں ملکوں میں جو ڈیڈ لاک ہے، وہ بھی بھار ت ہی کا پیدا کردہ ہے۔ پاکستان تواتر سے بھارت سے بہتر تعلقات اور مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہا ہے۔ لیکن بھارت مذاکرات کے لیے تیار نہیں اور وہ سمجھتا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو فائدہ دیں گے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ بھارت کی ساری توجہ پاکستان مخالف ایجنڈے کو بنیاد بنا کر اپنی سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذ پر جاری جنگ ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنی سفارت کاری کی مدد سے پاکستان کو دنیا میں تنہا کرسکتا ہے یا  دباؤ ڈال کر دفاعی سطح پر لاسکتا ہے۔  مستحکم پاکستان کے مقابلے میں کمزور پاکستان اس کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو عملًا انتہا پسندی یا بھارت مخالف ایجنڈا رکھتے ہیں ۔ لیکن جو شدت ہمیں آج بھارت میں دیکھنے کو مل رہی ہے، وہ زیادہ خطرنا ک ہے ۔

اصول تو یہ ہی کہتا ہے کہ دونوں ممالک کو بہتر تعلقات کی بنیاد پر ان قوتوں کا مقابلہ کرنا ہے جو پاک بھارت تعلقات کی بہتری میں رکاوٹ ہیں۔ اسی طرح انتہا پسندی یا دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک مل کر اینٹی دہشت گردانہ میکنزم تشکیل دیں اوراس پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ بھارت، پاکستان اور دنیا کی آوازیں سننے کے لیے تیار نہیں اورسمجھتا ہے کہ پاکستان سے تعلق ہمارا باہمی مسئلہ ہے اور کسی ملک یا ادارے کو ان معاملات میں مداخلت کا حق نہیں۔

جب سابق امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی یا مقبوضہ کشمیر کے حل میں تیسرے فریق کے طور پر پیش کیا تھا تو بھارت نے اس پیش کش کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کی جائے ۔ بلکہ بھارت کا امریکا سمیت دیگر بڑی طاقتوں پر دباؤ ہے کہ وہ پاکستان کو مجبور کرے کہ وہ خطہ میں بھارت کی بالادستی کو قبول کرے۔ حالانکہ بھارت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں خطہ یا علاقائی تعلقات کی بہتری میں خود کو ایک بڑے ملک کے طور پر پیش کرے۔ لیکن بھارت پاکستان سمیت خطہ میں تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کی بہتری کی بجائے اس میں مسائل پیدا کرنے کے کھیل کا حصہ بن گیا ہے ۔

ایسے میں امن کی سیاست ، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت خطہ کے محروم طبقات کی شفافیت کا ایجنڈا اسی انتہا پسند سیاست کی نذر ہورہا ہے۔