سال رواں کے دوران خیبرپختونخوا دہشتگردی میں اضافہ
خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ مقامات قرار دیا گیا ہے۔ پولیس نے رواں برس امن و امان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد یہ اندازہ قائم کیا ہے۔
ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنز) محمد علی باباخیل نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جنوبی اضلاع بشمول شمالی اور جنوبی وزیرستان کے ساتھ ساتھ لکی مروت اور بنوں کے اضلاع دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر مقامات ہیں۔ سیکیورٹی صورتحال کے سالانہ جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان سے بھتہ خوری کی کالز کی تعداد بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے برعکس 2022 میں پولیس کے خلاف ٹارگٹ حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔ افغانستان سے امریکا اور اتحادی ممالک سمیت غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے بعد 7 ارب مالیت کا اسلحہ افغانستان میں رہ گیا تھا جو بہرحال کسی نہ کسی کے ہاتھ آنا ہی تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں خودکش حملوں کی تعداد میں بھی رواں برس اضافہ ہوا جبکہ مقامی باشندوں کو موصول ہونے والی بھتہ خوری کی زیادہ تر کالز افغانستان سے کی گئیں۔ دراصل افغانستان بھتہ خوری کی کالز کا مرکز ہے، ان جرائم میں کچھ مقامی مجرم بھی ملوث ہیں۔
محمد علی باباخیل نے بتایا کہ محکمہ انسداد دہشت گردی نے 81 مقدمات میں مطلوب 158 بھتہ خوروں کو گرفتار کیا جبکہ اغوا برائے تاوان کے الزام میں 62 ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔ سی ٹی ڈی نے صوبے میں کارروائیوں کے دوران 806 عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جن میں سے 90 کے سر کی قیمت مقرر کی گئی تھی، علاوہ ازیں 196 عسکریت پسندوں کو ہلاک کردیا گیا۔
2 ہزار 609 ’تھریٹ الرٹس‘ جاری کیے گئے جن میں سے 93 فیصد عمومی اور 6 مخصوص تھے۔ 129 الرٹس جاری کیے گئے جبکہ 41 الرٹس مختلف مقامات کے حوالے سے جاری کیے گئے۔
دہشت گردوں سمیت جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائیوں میں 118 پولیس اہلکار شہید اور 117 زخمی ہوئے۔ رواں برس پولیس نے صوبے بھر میں 20 ہزار 601 ’سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز‘ میں قانون کی خلاف ورزیوں میں ملوث تقریباً ایک لاکھ 29 ہزار 637 افراد کو گرفتار کیا جبکہ 22 ہزار 416 ہتھیار اور 5 لاکھ 11 ہزار 447 گولیاں ضبط کیں۔
پولیس نے 2022 کے دوران ضلع ملاکنڈ میں مجموعی طور پر ایک ہزار 877 ’سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز‘ اور انٹیلی جنس پر مبنی 148 آپریشن کیے جس کے نتیجے میں متعدد عسکریت پسند اور بھتہ خور ہلاک اور گرفتار کیے گئے۔ ریاست مخالف اور جرائم پیشہ عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں اس لیے پولیس افسران نے ان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کریک ڈاؤن کا حکم دیا ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔