پرویز الہٰی کے پاس اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے نمبر پورے نہیں ہیں: وزیر داخلہ کا دعویٰ

  • ہفتہ 24 / دسمبر / 2022

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ پرویز الہٰی کے پاس اعتماد کا ووٹ لینے کیلئے نمبرز پورے نہیں ہیں اسی لیے وہ اعتماد کا ووٹ لینے سے گریز کررہے ہیں۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران راناثنا اللہ نے کہا کہ عمران خان نے تین چیزوں کا اعلان کیا تھا کہ پنجاب اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی  تحلیل کرنے کے علاوہ قومی اسمبلی میں پیش ہوکر استعفیٰ جمع کروانے کا وعدہ کیا تھا۔ ان میں سے کوئی وعدہ پورا نہیں ہؤا۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ گورنر کا یہ آئینی فرض تھا کہ وہ پنجاب اسمبلی توڑنے سے پہلے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہیں۔ ایک طرف وزیراعلیٰ کہہ رہے ہیں کہ پارلیمانی پارٹی کے 99 فیصد اسمبلی توڑنے کے حق میں نہیں ہے اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے سمری پر دستخط کردیے ہیں۔ اسمبلیاں آئینی ادارے ہیں اور ان سے اس قسم کا مذاق ہورہا ہے۔ اسمبلیاں کسی کی ضد ، انا اور گھٹیا سیاست کی نظر ہورہی ہوں تو ایسی صورت میں گورنر کا فرض ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لینے کا کہے۔

وفاقی وزیر عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ پنجاب کے معاملہ پر اس پر از خود نوٹس لے اور پنجاب کو معاشی کرپشن کی تباہی سے بچایا جائے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ میرا سوال ہے کہ یہ لوگ خیبر پختونخوا میں اسمبلی کیوں نہیں توڑرہے؟ دراصل عمران خان کی شکل میں یہ ٹولہ گمراہی کا شکار ہے۔ یہ ملک دشمن ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ ملک میں سیاسی عدم استحکام چاہتے تاکہ معاشی بدحالی ہو اور ملک بڑے حادثے سے دوچار ہوجائے۔

ہم نے ملک کو ڈیفالٹ سے نکالا اور معاشی استحکام کے لیے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں لیکن آئے دن یہ لوگ سازش کررہے ہیں تاکہ ملک میں استحکام نہ آئے۔ انہوں نے عدالت عالیہ اور سپریم کورٹ سے گزارش کی کہ اس معاملے پر ازخود نوٹس لے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ سیاسی ٹولہ ملک دشمن کارروائیوں میں مصروف ہے۔ عوام کو اس کا ادراک کرنا چاہیے ورنہ یہ ٹولہ ملک کو کسی حادثہ کا شکار کرسکتا ہے۔

انہوں نے کیا کہ ہم الیکشن سے نہیں بھاگتے لیکن الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں اور اسمبلیوں کو اپنی مدت پوری کرنی چاہیے۔ اگر یہ اگر اعتماد کا ووٹ حاصل کرکے اسمبلیاں توڑتے ہیں تو انتخابات کروائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہم نے الیکشن کی تیاری شروع کردی ہے۔ اگر اسمبلی کے ساتھ مذاق کرنا ہے اور پنجاب اسمبلی توڑنی ہے تو اعتماد کا ووٹ حاصل کریں تب ہم بھی بھرپور طریقے سے انتخابات میں پی ٹی آئی کا مقابلہ کریں گے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے سعد رفیق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور ان کے سہولت کاروں نے ہمیں کام نہیں کرنے دیا۔ ہمارے راستے میں گڑھے اور کھائیاں کھودیں، اس کی ایک مثال شوکت ترین کی آڈیو لیک ہے۔ اسمبلی بچوں کا کھیل نہیں جب چاہا کھیل لیا جب چاہا بنا لیا۔ گورنر نے جب محسوس کیا کہ وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینا چاہیے تو انہوں نےآئینی ذمہ داری ادا کی۔ اس آئینی ذمہ داری پر پرویز الہیٰ نے اعتماد کا ووٹ لینے سے گریز کیا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس اکثریت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ نے کہا کہ گزشتہ روز عدالتی فیصلے میں انصاف نہیں کیا گیا، ہمارے قانونی ماہرین فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ رہے ہیں۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ ہم اس فیصلے کو قانونی فورم میں چیلنج کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ قائد ایوان وہی ہوگا جس کی اکثریت ہوگی، پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ کا خدشہ ہے۔ ہمیں اطمینان ہے کہ اسمبلی ٹوٹنے کا خطرہ ٹل گیا ہے اور عمران خان کے دعوے ہوا میں تحلیل ہوگئے ہیں۔ اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو الٹی میٹم کے بجائے فوری اسمبلی توڑتے۔ وہ چاہیں تو خیبرپختونخوا کی اسمبلی توڑ سکتے ہیں، لیکن اگر وہاں ان کی حکومت ختم ہوجاتی ہے تو ان کی سیاست کا خرچہ کون اٹھائے گا۔

وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ جوڑ توڑ کی سیاست ہم نے نہیں بلکہ عمران خان نے شروع کیا۔ جب ہم کام کرنے لگتے ہیں یہ ہمیں ملک کے لیے کام نہیں کرنے دیتے، عمران خان کے پاس پنجاب اور خیربپخوتنخوا میں حکومتیں وہ وہاں کام کیوں نہیں کررہے ؟

ن لیگی رہنما نے کہا کہ دیوار سے لگانے کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔ ہم گونگے نہیں ہیں کہ غیر آئینی اقدام پر بات نہ کریں۔ ریاستی ادارے کام کررہے ہیں بعض اوقات افراد مسائل کھڑے کرتے ہیں، عمران خان کی پیدا کی ہوئی تباہی کو ہم ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔