معیشت و سیاست: تاثر اور حقیقت کے درمیان
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- ہفتہ 24 / دسمبر / 2022
تاثر اور حقیقت دو الگ الگ چیزیں مانی جاتی ہیں لیکن کبھی کبھی یہ آپس میں اِس طرح گھل مل جاتی ہیں، گُڈ مُڈ ہو جاتی ہیں کہ سب کچھ اُلٹ پلٹ جاتا ہے،خلط ملط ہو جاتا ہے اور تاثر حقیقت نظر آنے لگتا ہے، تاثر اور حقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ بن جاتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے معاشی حالات نازک ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ نازک ہو چکے ہیں۔ درآمدات کی ادائیگیوں کے لئے ڈالرز کی مطلوبہ مقدار دستیاب نہیں۔ مرکزی بینک نے درآمد کنندگان کے لیٹر آف کریڈٹ کھولنے سے ہاتھ کھینچ لیا ہے، تاجر پریشان نظر آرہے ہیں۔ اب تو صورت حال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ خام مال کی عدم دستیابی کے باعث بہت سی اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں اور کچھ اشیائے ضروریہ کی سپلائی میں خلل پڑنا شروع ہو گیا ہے، کئی ادویات مارکیٹ سے غائب ہونا شروع ہو گئی ہیں، درآمدات کے لئے زرمبادلہ کی عدم دستیابی کے باعث آٹو مینو فیکچرنگ سیکٹر بحران کاشکار ہوتا نظر آ رہا ہے۔ آٹو انڈسٹری کے سب سے بڑے کھلاڑی انڈس موٹرز نے تو اپنا پلانٹ بند کرنے کا باضابطہ اعلان بھی کر دیا ہے جبکہ دیگر کئی چھوٹی بڑی صنعتیں پہلے ہی بندش کا شکار ہو چکی ہیں۔
کووڈ19 ہماری معیشت پر پہلے ہی کاری ضرب لگا چکا ہے۔گزرے سال موسمیاتی تبدیلیاں بارشیں اور سیلاب لا چکی ہیں، کروڑوں انسان اِس کا شکار ہو چکے ہیں۔اربوں نہیں کھربوں روپے کی املاک تباہ ہو چکی ہیں۔ اوپر تلے تباہی و بربادی نے قومی معیشت کو فی الحقیقت تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران معاشی نمو کی شرح چھ فی صد تھی جبکہ اِس سال شاید تین فیصد تک رہے گی۔ ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹ پورے نہیں ہو رہے اِس لئے نئے ٹیکس لگانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد ہماری معیشت کے لئے سوہانِ روح بن چکا ہے،10لاکھ پرچون فروشوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی بھی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ایک طرف گھٹتی معاشی شرح نمو اورسکڑی معیشت ہے تو دوسری طرف ٹیکس بڑھایا جا رہا ہے، ٹیکسوں کا جال پھیلایا جا رہا ہے، عام شہری کو نچوڑنے اور نچورتے ہی چلے جانے کی پالیسی تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ ٹیکس کسی پر بھی لگایا جائے، اُسے کچھ بھی نام دیا جائے، بالآخر اُس کا بوجھ صارف اور خریدار پر ہی پڑتا ہے جو ایک عام، غریب اور لُٹا پٹا شہری ہوتا ہے۔حالات دو وقت کی روٹی سے اب تو ایک وقت کی روٹی کے لالے پڑ چکے ہیں، قدر زر میں گراوٹ اور ذرائع آمدن کی کمیابی نے عام شہری تو عام، درمیانے طبقے کے لئے بھی حالات پریشان کن بنا دیئے ہیں۔
ہم قرضوں کی ادائیگی کے لئے بھی قرضے لینے پر مجبور ہیں، معاشی نمو گر رہی ہے، معیشت کا حجم سکڑ رہا ہے، بیرون ملک ترسیلات زر گھٹ رہی ہیں، برآمدی آمدن بھی کم ہو رہی ہے،فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ گرتی چلی جا رہی ہے،گویا معیشت کے حوالے سے پایا جانے والا منفی تاثر اب حقیقت بن چکا ہے۔ پہلے اپوزیشن معیشت کی بدحالی کا ذکر کرتی تھی، اب حکمرانوں نے بھی معاشی بدحالی کا ذکر کرنا شروع کر دیا ہے۔عمران خان حکومت کی نالائقیاں اور نااہلیاں اپنی جگہ درست سہی لیکن گزرے آٹھ نو مہینوں کے دوران شہباز شریف کی حکومت بھی کچھ کر کے نہیں دکھا پا رہی۔ کہا جا رہا ہے کہ معیشت کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا اور گراوٹ میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی ہے۔یہ بات کسی حد تک درست ہے کہ عمران خان کے چار سالہ دورِ حکمرانی میں معاشی معاملات ہی نہیں مگر سیاسی و انتظامی معاملات بھی دگر گوں ہوگئے تھے۔ پی ڈی ایم کی حکومت نے اپریل 2022میں اقتدار سنبھال کر معیشت کو تباہ ہونے سے بچانے کی شعوری و منظم کاوشیں کی ہیں اور ہنوز ایسی کاوشیں جاری ہیں لیکن گراوٹ کی نوعیت اور حجم اِس قدر زیادہ ہے کہ بہتری کے آثار ظاہر نہیں ہو پا رہے۔اسحاق ڈار کا جادو نجانے کہاں چل رہا ہے، عامتہ الناس کی جو امیدیں اِسحاق ڈار کی آمد سے وابستہ تھیں وہ مایوسی کا شکار نظر آ رہی ہیں۔
دوسری طرف ہمارے سیاسی معاملات بھی بحرانی کیفیت کا شکار ہیں۔ سیاست اور سیاست دانوں کے بارے میں تاثر بنایا جاتا رہا ہے کہ وہ نااہل اور نالائق ہیں۔ سیاست دان قومی مفادات کی بجائے ذاتی مفادات کے لئے کام کرتے ہیں،ذاتی، گروہی، لسانی، قومی مفادات کو پروان چڑھاتے ہیں۔ ملکی و قومی مفادات کو پس پشت ڈالتے ہیں جس کی وجہ سے ہماری سیاست ملک و قوم کو پروان نہیں چڑھا پاتی ہے، اِس تاثر کو پروان چڑھانے میں ہر قسم کی بیورو کریسی نے خوب کردار ادا کیا۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ بذاتِ خود ایک طاقتور سیاسی کھلاڑی بن چکی ہے، سیاست میں سول بیورو کریسی قیام پاکستان کے روزِ اول سے ہی دخیل ہو گئی تھی۔ ملک غلام محمد اور سکندر مرزا جیسے بیورو کریٹس کی سیاست میں دخل اندازی نے سیاسی جماعتوں کو منظم ہونے اور قومی سیاست میں کردار ادا کرنے سے باز رکھا۔1958میں جنرل ایوب خان کے مارشل لاء کے بعد یہ کردار فوج نے اپنا لیا جو کسی نہ کسی شکل میں موجود رہنا ہے۔
دوسری طرف جاری سیاسی حالات، بالخصوص گزرے آٹھ ماہ کے دوران عمران خان اور اپوزیشن کی سیاست نے ملک کی معیشت کو جس مقام پر لا کھڑا کیا ہے اُس سے سیاست دانوں کے بارے میں عوام میں پائے جانے والے اِس تاثر کو تقویت مل رہی ہے کہ وہ نالائق ہیں۔ سیاست جس طرح ہماری قومی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے اور سیاست دان جس طرح ہوسِ اقتدار کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اُس سے اُن کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثر کو تقویت مل رہی ہے اور ایسے لگ رہا ہے کہ تاثر دراصل حقیقت ہے۔
معیشت کے بارے میں پایا جانے والا تاثر بھی حقیقت بن رہا ہے۔ ایسے میں جب معیشت اور سیاست کے بارے میں پائے جانے والے تاثر حقیقت کا روپ دھار رہے ہیں تو پھر معاملات کو تباہی و بربادی سے بچانا ناممکن ہوتا چلا جائے گا۔ باقی اللہ خیر کرے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)