بانیِ پاکستان کا یومِ پیدائش عقیدت و احترام سے منایا گیا
پاکستان میں بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا 147 واں یومِ پیدائش عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا۔
برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی شکل میں عظیم تحفہ دینے والے قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے۔ قوم نے آج عقیدت و احترام سے ان کا یوم پیدائش منایا۔ قومی اور سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرائے گئے۔
دن کا آغاز ملک کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔ کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں پاکستان ملٹری اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزار قائد کے گارڈز کے فرائض سنبھالے۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عمر عزیز تھے جنہوں نے گارڈز کا معائنہ کیا، اعزازی گارڈز نے مہمان خصوصی میجر جنرل عمر عزیز کو جنرل سلام پیش کیا اور مہمانوں کی کتاب پر تاثرات بھی قلمبند کیے۔
قائد اعظم کے یوم پیدائش کی مناسبت سے صدر عارف علوی اور وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خصوصی پیغامات میں قوم پر زور دیا کہ وہ بابائے قوم کے رہنما اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ملک کی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنائے۔ صدر مملکت نے اپنے پیغام میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کے حوالے سے پاکستان کے عہد کی تجدید کی۔
صدر عارف علوی نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک علیحدہ وطن بنانے پر قائد اعظم کا شکریہ ادا کیا جہاں ہم اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے آزاد ہیں۔ انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہمیشہ پاکستان کے لیے قائد اعظم کے نظریے کی قدر کریں جہاں ہم اپنے تمام وسائل کو منظم انداز میں متحرک کریں اور قوم کو درپیش سنگین مسائل سے منظم انداز میں نمٹیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ قائداعظم نے اپنی مستقل قوت ارادی، واضح فکر اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے تاریخ کا دھارا یکدم بدل دیا تھا، قوانین کی پاسداری سے ان کی قیادت نشان زد تھی۔ انہوں نے ٹوئٹ پیغام میں لکھا کہ قائد اعظم کا ’اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط‘ کا نصب العین قوم کے لیے مشعل راہ ہے۔
ہم بحیثیت قوم قائد اعظم کے نظریات پر عمل پیرا ہونے میں ناکام رہے ہیں۔ اتحاد کے فقدان سے بڑھ کر کوئی چیز قوم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ قائد اعظم کے نظریے کی پاسداری سے ہی ہم تمام مشکلات کو شکست دے سکتے ہیں۔ آج کے دن میرا عزم ہے کہ ہم اپنے لوگوں کی بھلائی کے لیے کام کرتے رہیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قوم سے کہا کہ وہ قائد اعظم کی زندگی سے رہنمائی حاصل کریں اور پاکستان کی ترقی و خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے ان کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم کی جدوجہد اس تصور کے خلاف تھی کہ اکثریت عددی برتری کی بنیاد پر اقلیتوں کے حقوق غصب کرے۔ قائد اعظم نے مسلمانوں کے منفرد طرز زندگی کی بحالی اور قوم کی علیحدہ سماجی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی شناخت کے لیے جدوجہد کی۔
دیگر رہنماؤں کی جانب سے بھی برصغیر کے مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے حصول کی خاطر قائدِ اعظم کی جدوجہد کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لیے آج کے دن کی مناسبت سے خصوصی پیغامات جاری کیے گئے۔