تحریک انصاف کے ارکان استعفوں کی تصدیق کے لئے بدھ کو قومی اسمبلی جائیں گے
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فرخ حبیب نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایم این ایز اپنے استعفوں کی منظوری کے لیے بدھ کے روز قومی اسمبلی جائیں گے۔
پی ڈی ایم کی تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد پی ٹی آئی نے اپریل میں قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر استعفوں کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے ایوان کے قائم مقام اسپیکر کی حیثیت سے پی ٹی آئی کے 123 ایم این ایز کے استعفے منظور کر لیے تھے۔ تاہم نئے اسپیکر راجا پرویز اشرف نے بعد میں چند اراکین کے استعفوں کی تصدیق کی تھی۔ 27 جولائی کو صرف 11 قانون سازوں کے استعفے منظور کئے تھے۔
راجا پرویز اشرف کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی رکن کا استعفیٰ اس وقت تک منظور نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ مطمئن نہ ہوں کہ استعفیٰ رضا مندی کے ساتھ دیا گیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی قانون سازوں کو اپنے استعفوں کی تصدیق کے لیے پیش ہونے کی دعوت دی تھی۔ تاہم پی ٹی آئی کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا تھا کہ پارٹی اجتماعی استعفوں کی منظوری کے لیے اسپیکر سے نہیں بلکہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی۔
اس کے برعکس فرخ حبیب نے آج فیصل آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے استعفے منظور کرانے کے لیے بدھ کے روز قومی اسمبلی جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی نے تحریری طور پر استعفے جمع کرائے تھے۔ لیکن انہوں نے بددیانتی کی وجہ سے صرف 11 استعفے قبول کیے۔
پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کے قومی اسمبلی میں جانے اور راجا پرویز اشرف سے رابطہ کرنے سے متعلق ارادے کا اظہار سابق وزیراعظم عمران خان اور پارٹی رہنما شاہ محمود قریشی نے بھی رواں ماہ کے شروع میں کیا تھا۔
دوسری جانب قاسم سوری کی جانب سے پی ٹی آئی ایم این ایز کے استعفوں کی منظوری کو غیر آئینی قرار دینے کے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کے لیے پی ٹی آئی کی درخواست سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔