عمران خان نے چین کو شدید ناراض کردیا تھا: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے میں مخلوط حکومت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین نے چین کو اتنا ناراض کردیا تھا کہ اگر بتادوں تو سب حیران ہوجائیں۔
ڈیرہ اسمٰعیل خان میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ عمران نیازی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ مخلوط حکومت نے دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے۔ سابق حکومت نے اپنے دور میں ترقیاتی منصوبوں کو التوا میں ڈالے رکھا، معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا جس سے ترقی اور خوشحالی رک گئی۔
انہوں نے کہا کہ دوست ممالک بھی ناراض کر دیے گئے تھے۔ عمران نیازی نے خانہ کعبہ کے ماڈل والی گھڑی بیچ کر پیسے اپنی جیب میں ڈال لئے اور ملک کو بدنام کیا۔ مخالفین پر دن رات الزام تراشی اور دشنام طرازی کی جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کا فتنہ دوبارہ سر اٹھا رہا ہے۔ بنوں میں انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں اور کمانڈو افسران اور جوانوں نے آپریشن کیا۔ اس معاملہ پر اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ ان واقعات کی روک تھام اور دہشت گردی کے ناسور کو کچلنے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ جب حلف اٹھایا تو احساس نہیں تھا کہ معیشت سابق حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اتنی تباہ حال ہو چکی ہے۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم ہو چکا تھا لیکن مخلوط حکومت اور اداروں کی کاوشوں اور عوام کی دعاؤں اور پاکستان کی ہمدردوں کی محنت اور تعاون سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کے بے پناہ چیلنجز موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں 2017 تک ترقیاتی کام ہوئے اور اس کے بعد کی حکومت نے ہر چیز پر غلاف رکھ دیا۔ ڈیرہ اسمٰعیل خان تک مغربی روٹ، چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا حصہ ہے اور 2017 تک اس کا مکمل منصوبہ بن چکا تھا مگر بعد میں جو حکومت آئی اس نے معیشت کا بیڑہ غرق کرنے کے علاوہ ان منصوبوں کو بھی سرد خانے میں ڈال دیا جس کے بعد ترقی اور خوشحالی کی بات ختم ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ چینی حکومت اور دیگر ممالک کو اس وقت کی حکومت کے سربراہ عمران نیازی نے اتنا ناراض کردیا تھا کہ ایک اگر اس میں سے کوئی ایک واقعہ بتادوں تو سب حیران ہو جائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ متعدد چیلنجز تھے اور پھر سیلاب نے تباہی مچا دی اور پاکستان کا خزانہ خالی تھا۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں اس وقت کساد بازاری ہے اور روس یوکرین تنازع نے تیل کی قیمتوں کو آسمان تک پہنچا دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے تیل مناسب قیمتوں پر حاصل کرنا محال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ہماری حکومت کے 8 ماہ باقی ہیں جس میں ہم ان منصوبوں پر کام کریں گے اور اس کے بعد انتخابات ہوں گے۔