یوکرین ہمارے مطالبات مان لے ورنہ روسی فوج مسئلہ حل کرے گی: روسی وزیرِ خارجہ

  • منگل 27 / دسمبر / 2022

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لیوروف نے یوکرین کو الٹی میٹم دیا ہے کہ یوکرین، روس کے مطالبات پورے کرے، جن میں یوکرینی علاقے کو روس کے کنٹرول میں دینا بھی شامل ہے، ورنہ روسی فوج یوکرین کی تقدیر کا فیصلہ کرے گی۔

انہوں نے یہ بات روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اس بیان کے ایک دن بعد کی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاہم امریکہ کی جانب سے اسے ’چال بازی قرار دیا گیا ہے‘۔ اب لیوروف نے یوکرین کو خبردار کیا ہے کہ کیئو ’اپنے بھلے کے لیے‘ ماسکو کی خواہشات کی تعمیل کرے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمارے مطالبات دشمن کو اچھی طرح معلوم ہیں جن میں روسی کنٹرول والے علاقوں سے فوجیں واپس بلانا شامل ہے۔ اس کے علاوہ روس کو لاحق سکیورٹی خطرات کا خاتمہ کیا جائے۔ لیوروف نے کہا کہ ’بات بہت سادہ سی ہے۔ ان مطالبات کو اپنے بھلے کے لیے پورا کریں۔ ورنہ یہ مسئلہ روسی فوج حل کرے گی۔‘

سرکاری خبر رساں ایجنسی کی جانب سے جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ تنازع کب تک جاری رہے گا تو ان کا کہنا تھا کہ ’گیند اب ریجیم (یوکرین) کے کورٹ میں اور واشنگٹن ان کے پیچھے ہے۔‘ یوکرین اور روس کے درمیان ہونے والی جنگ کو اب 11 مہینے ہوچکے ہیں۔ ماسکو کو میدانِ جنگ میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے لیکن پھر بھی روسی فوجی یوکرین میں مشرق اور مغرب میں شدید لڑائی کررہی ہے۔ جبکہ روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں نے یوکرین کے شہری انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جس کے بعد یہاں اکثر افراد بجلی اور پانی جیسی بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔ کا ذریعہGETTY IMAGES

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے پیر کی رات ایک ویڈیو پیغام میں کہا  تھا کہ ڈونباس میں سرحدی علاقے پر صورتحال ’مشکل اور درد ناک‘ ہے اور اس وقت پورے ملک کی ’توجہ اور طاقت‘ درکار ہے۔ انہوں نے بتایا روس کی جانب سے یوکرین کے توانائی کی پیداوار سے منسلک انفراسٹرکچر پر حملوں سے اس وقت نو کروڑ افراد بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق سرگئی لیوروف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی یوکرین کے ساتھ مل کر روس کو ’جنگ کے میدان‘ پر شکست دینا چاہتے ہیں تاکہ اسے تباہ کر سکیں۔‘ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کا سٹریٹیجک مقصد روس کو شکست دینا ہے تاکہ وہ ملک کو بہت زیادہ کمزور کریں اور اسے تباہ کر دیں۔

سرگئی لیوروف کا امریکہ کے حوالے سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے بائیڈن انتظامیہ سے رابطے بحال رکھنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ وہ ہمارے ملک کو سٹریجک شکست دینے کے درپے ہیں۔‘ واشنگٹن کا ’جارحیت پر مبنی روس مخالف بیانیہ وقت کے ساتھ زیادہ بڑے پیمانے پر اور شدید ہو گیا ہے۔

روس یوکرین جنگ کے باعث امریکہ اور روس کے تعلقات دہائیوں بعد انتہائی خراب ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے روس پر پابندیاں عائد کرنے کے علاوہ یوکرین کو اربوں ڈالر کی امداد بھی دی ہے جس میں ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کا حالیہ پیکج بھی شامل ہے۔