بھارت کا چینی اور پاکستانی سرحدوں پر 120 بیلسٹک میزائل نصب کرنے کا منصوبہ
بھارت، چین اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر 120 ٹیکٹیکل میزائل نصب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ یہ منصوبہ ملک میں حکومت پر ہونے والی تنقید کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایک خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام وزیر اعظم نریندر مودی پر مبینہ چینی جارحیت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے الزام اور اندرونِ ملک تنقید کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔ بھارتی حکومت نے اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث کرانے سے انکار کر دیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مقامی سطح پر تیار کردہ پرالے بیلسٹک میزائل کے اب تک صرف 2 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ بظاہر اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ یہ میزائل کم از کم 2 برس تک فعال نہیں ہوں گے کیونکہ بیلسٹک میزائل کے لیے موبائل پلیٹ فارم کی سپورٹ ہونا لازمی ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بھارت نے چین اور پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں پر نصب کرنے کے لیے 120 پرالے میزائلوں کی خریداری کی منظوری دے دی ہے۔
بھارتی خبر رساں ایجنسی ’اے این آئی‘ نے دفاعی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں مسلح افواج کے لیے تقریباً 120 میزائلوں کے حصول اور انہیں سرحدوں پر نصب کرنے کی منظوری دی گئی‘۔ رپورٹ کے مطابق پرالے میزائل 500 کلومیٹر کی رینج تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور راستہ بدلنے کی صلاحیت کی بدولت انہیں فضا میں روکنا مشکل ہوتا ہے۔
بنیادی طور پر پرالے مقامی سطح پر تیار کردہ مختصر فاصلے تک مار کرنے والا ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل ہیں اور اکثر اس کا موازنہ روسی ’اسکندر‘ میزائل سے کیا جاتا ہے۔ پرالے میزائل کی ساخت بھارت کے ایک اور بیلسٹک میزائل ’پرتھوی‘ پر مبنی ہے لیکن اسے روس کے اسکندر بیلسٹک میزائلوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جو یوکرین کے خلاف جنگ میں بڑی تعداد میں نصب کیے گئے اور اپنی جنگی صلاحیت بھی ثابت کر چکے ہیں۔