ہیومن رائٹس اور مسلم معاشرے؟
- تحریر افضال ریحان
- بدھ 28 / دسمبر / 2022
مسلم اقوام میں انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی شکایات تو متنوع ہیں لیکن عمومی شکایات اقلیتوں اور خواتین کے بنیادی حقوق کی تلفی سے متعلق ہوتی ہیں۔ جیسے کہ ان دنوں ایران اور افغانستان خبروں میں نمایاں ہیں۔
افغانستان میں خواتین کی تعلیم بالخصوص ان کی اعلی تعلیم پر پابندی کی مذمت بشمول اقوام متحدہ پوری عالمی برادری کر رہی ہے۔ طالبان حکومت نے افغان بچیوں کی اعلی تعلیم پر ہی نہیں، قومی و بین الاقوامی فلاحی تنظیموں میں ان کے کام کرنے پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ افسوسناک امر یہ بھی ہے کہ ان ظالمانہ قدغنوں کے خلاف دونوں ممالک ایک دوسرے کو مطعون بھی کیے جا رہے ہیں لیکن اپنے اپنے ظالمانہ رویے پر شر مندگی کسی ایک کو بھی نہیں ہو رہی- ایران میں حجاب یا پردے کے خلاف جاری احتجاج کو ختم کرنے کے لئے ایرانی حکومت ایک طرف اس سخت گیر مذہبی قانون اور اس پر عملدرآمد کروانے والی مذہبی پولیس ’’گشت ارشاد‘‘ کو ختم کرنے کے اعلانات کر رہی ہے تو دوسری طرف اسی عوامی لاوے کو کچلنے کیلئے گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ پھانسیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
حال ہی میں انسانی حقوق کے عالمی دن سے چند روز قبل ایک 23 سالہ سرگرم ایرانی نوجوان محسن شکیری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ اس نوجوان پر الزام تھا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اس نے ایک سکیورٹی اہل کار کو زخمی کر دیا تھا جس پر اسے 17 ستمبر کو شروع ہونے والے مظاہروں کے دوران 25 ستمبر کو گرفتار کر لیا گیا۔ 20 نومبر کو سزائے موت سنا دی گئی۔ اسے اپنی صفائی کے مناسب مواقع نہیں دیے گئے، اپنے حق میں وکیل بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ اور پھر کسی سکیورٹی اہلکار کو زخمی کرنا اگر ثابت ہوتا بھی تھا تو اس کی سزا موت تو نہیں بنتی تھی۔ اسی نوع کے الزامات عائد کرتے ہوئے ابھی تین روز قبل مشہد میں ایک نوجوان مجید رضارہناورد کو بغیر پراپر ٹرائل کیے یا صفائی کا موقع دیے پھانسی پر لٹکا دیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا یہ کہنا بجا طور پر قابل فہم ہے کہ پھانسی کی آخری سزا قتل عمد کا جرم ثابت ہونے پر تو سمجھ آتی ہے، زخمی کرنے پر نہیں بنتی۔ لیکن مذہبی شدت پسندی اس نوع کے دلائل کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں۔ وہ تو اس سے بھی کہیں آگے بڑھ کر محض مخالفت میں بولنے پر بھی ایسی سزائیں سنا دیتے ہیں۔
اس حوالے سے کردستان سے تعلق رکھنے والے دو نوعمر ایرانی فنکاروں کی مثالیں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔ جس طرح طالبان نے کابل پر قبضہ کرتے ہوئے ایک مزاحیہ آرٹسٹ کو بدترین توہین و تشدد کرتے ہوئے مار ڈالا تھا محض اس الزام پر کہ اس نے غنی حکومت کے دوران سٹیج ڈرامے میں ملاعمر کے مزاحیہ خاکے کیوں سنائے۔ مورالٹی پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والی نو عمر لڑکی مہاسا امینی کا تعلق چونکہ ایرانی کردستان سے تھا اس لیے کرد لوگوں میں اس اندوہناک قتل کے خلاف زیادہ غم و غصہ پایا گیا اور وہاں کے فنکاروں نے بھی اپنے گیتوں میں اس مظلوم بچی کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایرانی ملاؤں اور ان کی بری حکمرانی کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان پاپولر گلوکاروں میں ایک تئیس سالہ کرد سمن یٰسین اور دوسرا 22 سالہ توماج صالحی تھا۔ تہران کی اسلامی انقلابی عدالت نے ان گرفتار آرٹسٹوں کو یکے بعد دیگرے پھانسیوں پر لٹکایا ہے۔ فرد جرم میں ان پر الزام ’’محاربہ‘‘ یعنی خدا کے خلاف جنگ اور ’فساد فی الارض‘ کا لگایا گیا ہے۔ ان کے لیے کوئی شنوائی یا وکیل صفائی تھا اور نہ ہی انہیں اس مذہبی عدالت کے خلاف کہیں اپیل کا کوئی حق دیا گیا۔
توماج صالحی کے متعلق تو رپورٹس ہیں کہ اس معصوم کو گرفتاری کی حالت میں مزاحمت پر بدترین تشدد کا سامنا کرنا پڑا، اس کی ناک اور انگلیاں کاٹی گئیں اور ایک ٹانگ پر بھی گہرا زخم تھا۔ ایک اور طالبہ پر دوران حراست تشدد اور ہلاکت اتنی دردناک تھی کہ اس کی ماں یہ صدمہ برداشت نہ کر سکی اور اس نے خود کشی کرلی۔ سوال یہ ہے کہ میڈیا پر جس نوع کی سخت قدغنیں ہیں اگر وہ نہ ہوں تو کیسی کیسی دردناک تصاویر دنیا کے سامنے آئیں۔ بیشتر شہروں میں کالجز اور یونیورسٹیاں بند ہیں اور انٹرنیٹ پر بھی طرح طرح کی قدغنیں ہیں۔ ایرانی حکومت پہلے تو ان احتجاجی مظاہروں کو امریکا اور اسرائیل کے سپانسرڈ قرار دیتی رہی جو ایرانی انقلاب کے خلاف ہمہ وقت سازشوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اور اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے کئی ایرانی نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے پھانسیوں پر لٹکا دیا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی جاسوس تھے اور ان پر جاسوسی ثابت ہوئی ہے۔ احتجاج کرنے والے جو ایرانی سڑکوں پر مر رہے ہیں، کیا وہ بھی اسرائیلی و امریکی جاسوس ہیں؟
یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا یہ عالم ہے کہ محض اس الزام پر کہ اس نوجوان نے سڑک بلاک کی ہے لہٰذا یہ فساد فی الارض کا مجرم ثابت ہو گیا ہے، اس لیے اسے سزائے موت دی جاتی ہے۔ ایرانی ولایت فقیہہ کی یہ کنٹرولڈ یا جبری حکمرانی ہے جو سیاسی طور پر یہاں اپوزیشن کو کھڑے ہونے کے قابل نہیں چھوڑا گیا۔ یوں یہ تمام تراحتجاج ایک طرح سے کسی پاپولر عوامی قیادت کے بغیر تین مہینوں سے جاری ہے۔ عین ممکن ہے کہ ایرانی حکومت اپنے جبری ہتھکنڈوں کے ذریعے اسے کچلنے میں کامیاب ہو جائے جس طرح ماقبل کے برسوں میں جب بھی اس نوع کی احتجاجی لہر اٹھتی رہی ہے، ایرانی ملاؤں کا جبر اسے سختی سے دبانے میں کامیاب ہوتا رہا ہے۔ لیکن کب تک؟ درویش نے انقلاب کے ابتدائی ادوار میں لکھا تھا کہ اس انقلاب کی عمر سوویت انقلاب سے زیادہ نہیں ہو پائے گی کیونکہ اس کی بنیادیں سوویت جبر سے بھی بدتر جبر پر استوار ہیں۔ کسی بھی جبر میں جب عقیدے کا تقدس شامل ہو جائے تو وہ زیادہ ہولناک ہو جاتا ہے۔
ایرانی ملاؤں کو سوچنا چاہیے کہ ایک طرف وہ یزیدی آمریت اور ظلم و جبر کے قصے سناتے اور روتے پیٹتے نہیں تھکتے اور دوسری طرف خود کیا کرتے ہیں؟ یزید نے اگر اپنی اپوزیشن پر بدترین ظلم کیا تھا تو یہ ولایت فقیہہ کے علمبردار و دعویدار جو کچھ اپنی اپوزیشن کے خلاف کر رہے ہیں، یہ کیا ہے؟ اگر کربلا کی اذیت ہولناک تھی تو یہ آج جو اپنے شہروں اور قصبوں میں مذہبی جبر کے تقدس میں کربلا بپا کئے ہوئے ہیں اس کی ہولناکی کو کیا نام دیا جائے گا؟ آج اگر ایرانی عوام میں آزادانہ ریفرنڈم کروایا جائے تووہ بلبلا اٹھیں گے کہ اس مقدس مذہبی جبر کے بالمقابل رضا شاہ پہلوی کا جبر تو کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ یہ درویش ربع صدی قبل حوالہ جات کے ساتھ تحریر کرتا رہا ہے کہ خمینی انقلاب سے ایرانی عوام کو کیا ملاہے؟ وہ شاہی جبر کے کنویں سے نکال کر اسلامی جبر کے کنویں میں پھینک دیے گئے ہیں۔ کل اگر جنتا روتی تھی تو آج کہیں بڑھ کر روتی اور ماتم کناں ہے؟
مسئلہ محض ایران، افغانستان یا پاکستان کا نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ جہاں بھی راسخ العقیدگی کو اقتدار ملتا ہے، وہیں جبر کی ریشو کئی گناہ کیوں بڑھ جاتی ہے؟ دور جانے کی ضرورت نہیں ہندوستان کی مثال لے لی جائے۔ یہاں طویل ترین حکمرانی جلال الدین اکبر اور اورنگ زیب کو حاصل ہوئی اول الذکر اگر سیکولر حکمران تھا تو دوسرا راسخ العقیدہ۔ دونوں کے نصف نصف صدی پر محیط ادوار کا تقابلی جائزہ لیں تو فرق واضح ہو جائے گا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مذہبیت کے نام پر برسر اقتدار آنے یا رہنے والوں کا پہلا اور فوری نزلہ یا قہرسوسائٹی کے کمزور طبقات بالخصوص خواتین اور اقلیتوں پر ہی کیوں گرتا ہے؟ اس کے بعد آرٹ، موسیقی یا دیگر فنون لطیفہ کو برباد کرنے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں؟ آخر یہ ’نیک‘ لوگ دوسرے انسانوں کو خوش ہوتے یا ہنستے مسکراتے کیوں نہیں دیکھ سکتے۔ اور اس نوع کے وعظ کیوں شروع کر دیتے ہیں کہ زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہو جاتا ہے۔ جبکہ میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ کھل کر ہنسنے سے طبیعت بہتر ہو جاتی ہے۔
یہ نام نہاد مذہبی لوگ خود داڑھی رکھیں یا برقع و حجاب پہنیں ان کی چائس ہو سکتی ہے مگر یہ دوسروں پر اس حوالے سے کیوں مسلط ہوتے ہیں؟ خدا کے بندو چار دن کی زندگی ہے پھر اندھیری رات ہے، آپ خود بھی جیو اور دوسروں کوبھی خوشی و اطمینان سے جینے دو۔