حالات کیسے ٹھیک ہوں گے؟

شیر علی خالطی پاکستان کے ایک معتبر قومی انگریزی اخبار سے منسلک ہیں۔ خبریں ڈھونڈنا، حقائق تلاش کرنا اور اُنہیں درست سیاق و سباق میں قارئین کی نذرکرنا اُن کا خاصا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا پر  بھی بطور تجزیہ نگار دکھائی دیتے ہیں۔

عوامی مسائل اور پسے ہوئے طبقات کے مسائل پر دبنگ انداز میں بلند آہنگ میں گفتگو کرنے میں خصوصی ملکہ رکھتے ہیں۔کبھی کبھی اُن سے ملاقات ہوتی ہے، گفتگو ہوتی ہے تو اُن کے تجزیے سے بھی لطف اندوز ہونے اور اندر کی باتیں  بھی جاننے کا موقع ملتا ہے۔گزشتہ روز اُن سے ایک ٹی وی مذاکرے میں بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ جاری سیاست کے حوالے سے بات چیت ہوئی۔اُن کا کہنا ہے کہ عمران خان   سیاست میں کمزور ہوتے چلے جا رہے ہیں، اُن کی اہمیت میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ اپریل 2022میں ووٹ آف نو کانفیڈنس کے ذریعے وزارتِ عظمیٰ سے رخصتی کے بعد سے ہنوز عمران خان کی سیاست ہر روز بند گلی کی طرف جا رہی ہے۔ اُنہوں نے استعفوں سے لے کر اسمبلی توڑنے تک ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا ہے۔پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی توڑنے کا حتمی آپشن  بھی استعمال کر کے اپنے ترپ کا آخری پتہ بھی کھیل دیا ہے لیکن نتیجہ صفر ہے۔

حکومت کسی طور پر بھی عمران خان کے کسی مطالبے کو ماننے پر تیار نظر نہیں آ رہی۔لانگ مارچ، شارٹ مارچ میں بدلا، دھرنا، مظاہروں میں بدلا گیا ، اب صرف اور صرف خطاب ہی رہ گیا ہے جو عمران خان زمان پارک والے اپنے گھر میں بیٹھ کر ہی کرتے ہیں جبکہ اُن کے چاہنے والے کبھی لبرٹی چوک میں جمع ہو کر اور کبھی گورنر ہاؤس کے سامنے اکٹھے ہو کر سنتے ہیں اور سر دھنتے ہیں۔ایسے پروگراموں میں عامتہ الناس کی شمولیت کا گراف گرتے گرتے کہیں غائب ہو چکا ہے اور  کہا یہ جاتا ہے یا کہا یہ جا رہا ہے کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت میں بہت اضافہ ہو گیا ہے۔ پی ٹی آئی کی پراپیگنڈہ مشینری عمران خان کی عوامی پذیرائی کے بارے میں تاثر پھیلانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا رہی ہے کہ اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد ان کی عوامی پذیرائی میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا ہے،یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی  والے فوری عام انتخابات منعقد کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ اُنہیں یقین ہے کہ عوام اُنہیں دوتہائی اکثریت دے کر واپس اقتدار میں لے آئیں گے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عمران خان کے مارچوں،دھرنوں اور جلسے جلوسوں میں عوامی شمولیت کا گراف شرمناک حد تک گِر چکا ہے لیکن وہ جھوٹ پر جھوٹ بولتے چلے جا رہے ہیں۔

 

دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی اور عوامی معیشت کی حالت بھی دگر گوں ہے،قدرِ زر پست ترین سطح تک جا پہنچی ہے، افراطِ زر حیران و پریشان کن حد تک بڑھ چکا ہے، بیروز گاری، عام ہے۔ذرائع آمدن سکڑ رہے ہیں۔ معاشی نمو بدحالی کا شکار ہے، لوگوں کے لئے دو وقت کی نہیں ایک وقت کی روٹی کا حصول بھی مشکل سے مشکل تر ہو چکا ہے۔درآمدات کی ادائیگیوں کے لئے زرمبادلہ دستیاب نہیں، بجلی و گیس کے شعبے کے نقصانات سرکلر ڈیٹ ناقابل ِ بیان حد تک بڑھ چکا ہے، عالمی قرضوں کا حجم فی الاصل بیان ہو چکا ہے، طے شدہ ادائیگیوں کے لئے بھی مزید قرض لینا پڑ رہا ہے۔ معیشت کا کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں جو بدحالی کا شکار نہیں ہے، صنعتی شعبے کی حالت دگرگوں ہو چکی ہے۔ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کا کوئی پتہ نہیں، لوکل سرمایہ کاری بھی نہیں ہو رہی ہے، معاشی تاثر مکمل طور پر منفی نظر آ رہا ہے۔عالمی معاشی صورت حال بھی پریشان کن ہے۔ کووڈ19 کے بعد موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں معاملات مزید خراب ہوئے ہیں، سال بھر سے جاری یوکرین کی جنگ نے بھی عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ عالمی رسد بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ توانائی کی عالمی منڈی بھی پریشان کن صورت حال کا شکار ہے۔یہ سارے عوامل بھی پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ معاشی نمو میں گراوٹ اِس کا واضح ثبوت ہے۔

معیشت چاہے عالمی ہو یا ہماری قومی،اُن کی فوری بہتری کے امکانات نظر نہیں آ رہے۔یوکرین جنگ کا دائرہ کارگھٹنے کی بجائے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ امریکہ اور دیگر مغربی طاقتیں یوکرین کو ڈٹے رہنے پر قائل کر رہی ہیں،اسلحہ دیا جا رہا ہے،جنگ کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔دوسری طرف چین میں کووڈ کا نیا ویرئنٹ بھی پھیلنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔عالمی معاشی ادارے عالمی معیشت کی فوری بحالی کے بارے میں مایوسی کا اظہار کر رہے ہیں اور صورت حال خاصی گھمبیر نظر آ رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت، سیاسی صورت حال کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔  ہماری قومی سیاست قومی معیشت کی طرح کمزور اور پستی کا شکار نظر آ رہی ہے۔ سیاست اصولوں سے ہٹ کر پست فکر وعمل کا شکار ہو چکی ہے، قومی اور عوامی ایشوز کی بجائے، ذاتی مفادات اور شخصی زندگیوں پر کیچڑ اُچھالنے کی سیاست ہو رہی ہے۔الزام اور دشنام کے ذریعے سیاسی ماحول کو مکمل طور پر گدلایا جا چکا ہے۔ہماری اسٹیبلشمنٹ غیر سیاسی ہو چکی ہے، سیاست دان دھڑا دھڑ لڑائی مارکٹائی میں مصروف ہیں۔عمران خان اقتدار چھن جانے کے بعد، اقتدار میں واپسی کے لئے تن من دھن کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ وہ ایک طرف تو اقتدار میں واپسی کے لئے کوشاں ہیں تو دوسری طرف پی ڈی ایم کی حکومت کو ناکام بنانے کے مشن میں جُتے ہوئے ہیں۔

عمران خان حکومت کو ناکام بنانے کے لئے کسی اخلاقی، سیاسی اور قومی اصول اور ضرورت کا لحاظ رکھے بغیر آگے بڑھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔یہ بھی درست ہے کہ حکمران اتحاد کی عوامی و سیاسی پذیرائی میں گراوٹ آئی ہے،گزرے آٹھ نو ماہ کے دورِ حکمرانی میں معاشی صورت حال میں بہتری لانے کی کاوشیں بار آور ہوتی نظر نہیں آ رہیں۔ اس بارے میں دو رائے نہیں ہیں کہ عمران خان کے 44ماہ کے دورِ حکمرانی میں قومی سیاسی، سفارتی اور معاشی معاملات بگاڑ کا شکار ہوئے۔ پی ڈی ایم معاملات کو بہتر بنانے کے دعوے پر اقتدار میں آئی۔ معاشی حکمت کاری کے حوالے سے اسحاق ڈار ترپ کا پتہ سمجھے جا رہے تھے وہ بھی اپنا آپ نہیں دکھا سکے ہیں۔ سیاست تو عمران خان خراب کر ہی رہے ہیں لیکن معیشت بھی حکمرانوں سے ٹھیک ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ عوام پست سے پست حالات کا شکار ہو چکے ہیں،مالی وسائل سکڑتے چلے جا رہے ہیں، اخراجات کا پہاڑ، آمدن کم، زرمبادلہ کی ضروریات بہت زیادہ، اس کی دستیابی محدود، سیاسی عدم استحکام، معیشت کو برباد کرتا چلا جا رہا ہے۔  حالات کی درستگی، مستقبل قریب میں کہیں نظر نہیں آ رہی۔

ملک کے ڈیفالٹ ہونے کا تاثر پھیلایا جا رہا ہے، آئی ایم کے ساتھ معاملات ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں۔ ٹیکسوں کی و صولیوں کے اہداف پر نظرثانی کی باتیں ہو رہی ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ آئی ایم ایف اُنہیں گھٹانے کی اجازت دے دے کیونکہ معاشی نمو میں پستی کے باعث ایسا کرنا ضروری ہے جبکہ آئی ایم ایف طے شدہ معاہدے کے مطابق ٹیکس وصولیاں چاہتی ہے۔ آئی ایم ایف کی اگلی قسط کی ادائیگی موخر ہوتی نظر آ رہی ہے۔عمران خان کا فوری انتخاب کا مطالبہ زور پکڑتا چلا جا رہا ہے ویسے عمران خان کو بھی پتہ ہے کہ عام انتخابات اپریل 2023 میں کسی طور بھی ممکن نہیں ہیں۔ مردم شماری، ڈی لمیٹیشن وغیرہ کے بغیر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے لیکن وہ اپنی ہی دُھن میں حکومت پر دباؤ بڑھانے میں لگے ہوئے ہیں،وہ تمام مسائل کا حل فوری انتخابات  ہی بتا رہے ہیں لیکن قوم کو یہ نہیں بتا رہے کہ نئے انتخابات کے نتیجے میں ایسا کیا ہو جائے گا کہ مسائل حل ہونا شروع ہوجائیں گے۔

معاشی صورت حال کیسے تبدیل ہو گی، صنعتی ترقی کیسے بحال ہو گی، معاشی نمو میں بہتری کیسے آئے گی،ڈالر کی ریل پیل کیسے ہو گی،اُن کے پاس معاشی بحالی کا کیا منصوبہ ہے؟ اِن سوالوں کے جواب اُن کے پاس نہیں ہیں لیکن وہ انتخاب، انتخاب کی رٹ لگائے ہوئے ہیں اور حکومتی بے بسی کا مذاق اڑا رہے ہیں۔حکومت فوری یا قبل از وقت انتخابات کرانے کے لئے ہر گز تیار نہیں ہے، پھر حالات کیسے ٹھیک ہوں گے، کسی کو کچھ پتہ نہیں ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)