سال نو کی خوشیاں اور شمسی و قمری کیلنڈر
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 29 / دسمبر / 2022
میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی عرب میں پہلی بار نئے سال 2020 کے استقبال کا جشن منانے کے لیے اہتمام کیا گیا تھا۔ اس فرمان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عوام 31 دسمبر شام 6بجے سے صبح ایک بجے تک یہ جشن منا سکیں گے۔
موسیقی پروگراموں کے علاوہ آتش بازی کے مظاہرے اور دیگر سرگرمیاں بھی اس میں شامل ہوں گی۔ واضح رہے کہ ماقبل سعودی عرب میں اس نوع کی تقریبات کبھی منعقد نہیں ہوئیں۔ سعودی عرب میں پہلے ہجری کیلنڈر استعمال ہوتا رہا ہے اب اس سلسلے میں بھی ڈھیل دیتے ہوئے عوامی سہولت کے لیے عیسوی کیلنڈر کو اختیار کر لیا گیا ہے۔ اس کی دو وجوہ ہیں ایک تو عیسوی کیلنڈر کے مطابق ایام اور تواریخ کے تعین میں کسی نوع کا ابہام نہیں رہتا ہے، جبکہ ہجری کیلنڈر چونکہ چاند کی مطابقت میں ہے اس لیے 29اور 30 کی تواریخ کا ایشو چلتا رہتا ہے۔ دوسرے عالمی سطح پر تجارتی و روز مرہ کے امور میں جب سارا سسٹم عیسوی کیلنڈر کی مطابقت میں ہے تو پھر کسی ایک آدھ ملک کے لیے یہ امر مشکل تر ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا سے کٹ کر یا ہٹ کر چلے۔
سال نو کے حوالے سے ہماری عرض ہے کہ اگر ہمارے نوجوان کسی کو نقصان پہنچائے بغیر اس رات خوشیاں مناتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کی ان معصوم خوشیوں کا قاتل نہیں بننا چاہئے۔ ہمارے بہت سے ایسے مذہبی انتہا پسند ہیں، جو عامۃ المسلمین کو سال نو کی خوشیوں میں شریک ہونے سے روکتے ہوئے دلیل یہ دیتے ہیں کہ سن عیسوی تو مسیحیوں کا کیلنڈر ہے۔ ہمارا کیلنڈر تو سن ہجری ہے، اس لئے ہمیں کافروں کی پیروی نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن ایسے حضرات کو مشکل یہ پیش آتی ہے کہ وہ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہجری کیلنڈر کے مطابق سال نو کی خوشیاں منانے کو جائز یا درست قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت دے دیں۔ اس لئے کہ ہجری سال تو شروع ہوتا ہے محرم کے مہینے سے؟ جو شہادت حسینؓ کی وجہ سے سوگ کامہینہ قرار پایا ہے۔
مسلمانوں کے خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ کی شہادت کا دن ہی یکم محرم ہے، اس لئے وہ سال نو کے آغاز میں خوشیوں کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ سو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسی بھی سال نو کی خوشی منائی ہی نہ جائے۔ ایرانیوں نے اس کا حل جشن نو روزمیں نکال رکھا ہے، جسے ایرانی قوم قبل از اسلام سے مناتی چلی آ رہی ہے۔ جس طرح ایرانی شہنشاہیت میں یہ سال نو منایا جاتا رہا۔ مزے کی بات ہے کہ خمینی کے اسلامی انقلاب میں بھی یہ اسی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے، اگرچہ مُلا لوگ اس کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایرانیوں کی جبلت میں جشن نوروز اتنی باریکی وپختگی سے داخل ہے کہ کوئی مذہبی آیت اللہ بھی اسے ختم کرنے کا یارا نہیں رکھتا۔ ختم کیا کرتا اُلٹا ڈاکٹر جاوید اقبال کے بقول دیگر ممالک کے مسلمانوں میں سال نو منانے کی رسم ایران سے ہی داخل ہوئی ہے۔ اب مسلم امہ کے نوجوان جشن نو روز تو نہیں مناتے لیکن عیسوی کیلنڈر کی مطابقت میں 31دسمبر اوریکم جنوری کی نصف رات کو گزرے سال کو الوداع کہتے ہوئے نئے سال کا استقبال زور شور سے کرتے ہیں۔
مذہبی و حکومتی سطح پر مخالفت و مزاحمت کے باوجود ہمارے شہروں کی سڑکوں پر خوب رونق میلا ہوتا ہے۔ درویش سے لبرل ہیومن فورم پرکئی نوجوان یہ پوچھتے ہیں کہ کیا واقعی نئے سال کی خوشی منانا یا مبارکباد کے پیغامات بھیجنا غیر اسلامی افعال ہیں؟ تو جواب یہ ہوتا ہے کہ دیکھیں ہر چیز اسلامی یا غیر اسلامی کے خانوں میں نہیں ہوتی۔ بہت سی باتیں ہیں جو مباح ہوتی ہیں۔ آپ کے ذوق پر ہے کہ آپ کریں، بے ذوق ہیں توبھلے نہ کریں۔ مہینے یا سال اسلامی ہوتے ہیں نہ غیر اسلامی…… مسئلہ صرف یہ ہے کہ اسلام جس خطے میں پروان چڑھا، وہ عرب خطہ تھا تو لازمی بات ہے کہ عربوں کے مذاق مزاج اور کلچر کی بہت سی باتیں اس کا حصہ بن گئیں۔ حالانکہ اگر تجزیہ کیا جائے تو ان میں سے بہت سی چیزیں یونیورسل نہ تھیں۔ جن کو ہم اسلامی مہینے کہتے ہیں، یہ بنیادی طور پر قمری مہینے ہیں اور جن کو ہم عیسوی مہینے یا سال کہتے ہیں، وہ بنیادی طور پر شمسی مہینے یا سال ہیں۔
یہ پوری کائنات اگر خدا کی ہے تو چاند اور سورج دونوں اسی پروردگار عالم کی تخلیق ہیں۔ اس لئے دونوں میں سے جس کے مطابق بھی حساب کتاب کر لیا جائے، وہ سب کا سب جائز و مستحسن ہے۔ اگر ایرانی لوگ جشن نو روز مناتے ہیں تو وہ بھی مستحسن ہے۔ قمری مہینوں کو ہی اسلامی قرار دینے پر ضد کرنے والے غور فرمائیں کہ اگر ان کی بات کو درست مان لیا جائے تو پوری دنیا کے انسان متفقہ تاریخوں سے محروم ہو جائیں گے۔ امریکہ میں کوئی اور تاریخ ہو گی تو یورپ میں کوئی اور، افریقہ اور ایشیا میں کوئی اور حتیٰ کہ صرف ایک ایشیا میں آباد مختلف ممالک کوئی ایک متفقہ تاریخ طے نہیں کر پائیں گے۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ آپ کا دین یونیورسل ہے تو پھر جواب دیں جو چیز یو نیورسل بننے کی صلاحیت ہی سے عاری ہے وہ اسلامی کیسے قرار پا سکتی ہے؟
ہجری کیلنڈر کا اجرا جسے آج ہم اسلامی قرار دلوانے پر بضد ہیں اپنے وقت اجرا از خود ایک بدعت تھی کیونکہ پیغمبر اسلامؑ کی پوری زندگی میں کبھی اس کا استعمال ہوا نہ اجرا بلکہ بالعموم عام الفیل کا تذکرہ ملتا ہے۔ پیغمبرؑ کے دنیا سے پردہ فرما نے یا رحلت کے بعد سید نا ابو بکر ؓ کے دور خلافت میں بھی مسلمانو ں میں کوئی سن ہجری یا ہجر ی کیلنڈر نہ تھا بس عر ب مہینے چلتے تھے۔ سیدنا عمرفاروقؓ کے دور اقتدار میں ایک واقعہ پیش آیا جس کے کارن ضرورت محسوس ہو ئی کہ سالوں کی تخصیص کیسے کی جائے؟ سوا انہوں نے اپنے احباب کی مشا ورت سے واقعہ ہجرت کو اس کی بنیا د بنایا۔ اسلام جب تشکیل پایا تو وہ عربستان تک محدود تھا، اس لئے اسے اس نوع کے چیلنج درپیش نہیں تھے، مگر مابعد یہ الجھنیں بہرحال پیدا ہونی تھیں، سوان کا سامنا ہم کشادہ ذہن کے ساتھ ہی کر سکتے ہیں۔
عربوں میں تو تعلیم بھی زیادہ نہ تھی، اس لئے وہ تواریخ کا حساب چاند کے گھٹنے بڑھنے سے لگاتے تھے، جبکہ آج کی دنیا کے یہ مسائل نہیں، دیگر مسائل ہیں۔ سو ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو عالمگیر سچائی کی حیثیت سے پیش کرنا از خود جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دنیاوی معاملات چلانے کے لئے یہ کیلنڈر یا تاریخیں ہیں۔ ہر قوم اپنے حالات کی مناسبت میں جس طرح سہولت محسوس کرے، اسی کیلنڈر کو اختیارکرسکتی ہے (مذہبی عبادات کامعاملہ ایک قطعی استثنائی مسئلہ ہے)۔ اور ان کی قمری مطابقت میں یہ بھلائی پائی جا تی ہیں کہ ہم مو سمی تغیرات سے مساوی طور پر مستفید ہو سکتے ہیں اور کئی جگہ نہیں بھی ہو تے جبکہ شمسی کیلنڈر نے پوری دنیا میں بدلتے ماہ و سال اور مو سموں کے با وجودایک استحکام ایکتا اور وحدت پیدا کی ہے۔
دنیا بھر کے انسانوں کو جو سہو لت شمسی کیلنڈر نے بخشی ہے وہ قمر ی کیلنڈر کے بس میں نہ تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر ہم سچائی کے ساتھ جائزہ لیں تو ہماری سوسائٹی میں کتنے لوگ ہیں جو اپنے روز مرہ کے معاملات میں چاند کے حساب سے اپنی تاریخوں کا تعین کرتے ہوں گے۔ شاید دیہاتوں کے چند ان پڑھ لوگ ہی ایسے ملیں گے، وہ بھی بالعموم ہندی یا دیسی مہینوں کا زیادہ حساب رکھتے ہیں، ورنہ ہمارے 99فیصدلوگ عیسوی مہینوں اور سالوں کا ہی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔ لہٰذا اگر وہ اس کی مناسبت سے سال نو کی تقریبات مناتے ہیں تو کسی مذہبی گروہ، شدت پسند تنظیم یا حکومت کو کوئی بل نہیں آنا چاہئے۔ درویش یہاں ایک اور ایشو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہے، جب موجودہ نئی صدی ہجری کا آغاز ہو رہا تھا تو اس وقت پاکستان میں جنرل ضیا الحق کی فوجی یا مارشلائی یا اسلامی حکمرانی چل رہی تھی۔ ضیاء کے حکم پر اے کے بروہی کی نگرانی میں تشکیل دی گئی ہجرہ کمیٹی نے جو نام نہاد اسلامی فیصلے لیے ان میں سے ایک یہ تھا کہ پاکستان کے تمام اخبارات اپنی پیشانی پر ہجری تاریخ پہلے لکھیں گے اور عیسوی تاریخ بعد میں۔ یہ ایک محض نمائشی غلط اور خلاف حقیقت فیصلہ تھا جو محض سستی شہرت کیلیے کیا گیا تھا۔ جب ہماری ننانوے فیصد آبادی عیسوی کیلنڈر کا استعمال کرتی ہے اور روزمرہ میں جب بھی تاریخ دیکھنی ہوتی ہے تو ہم شمسی مہینوں کی دیکھتے ہیں حتی کہ سعودی عرب بھی عیسوی کیلنڈر اختیار کر چکا ہے تو پھر ہم لوگوں نے ایک ڈکٹیٹر کی جاری کردہ منافقت آج تک کیوں اپنا رکھی ہے؟
اگر کسی کو تبرک یا ثواب دارین لینا ہے تو وہ اس کا نجی و ذاتی معاملہ ہے، اس نوع کی حرکات ریاست کا کام نہیں ہے ۔