مقبوضہ کشمیر میں دہشت کا ماحول، بات کرنے پر گرفت کا اندیشہ

مقبوضہ کشمیر میں خوف ااور دہشت کا ماحول ہے۔ لوگ جب گھر پر بھی بات کر رہے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں بات مت کرو۔ ہوسکتا ہے فون ٹیپ ہو رہا ہو۔ راستے میں بھی لوگ دھیمی آواز میں بات کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دیواروں کے بھی کان ہیں۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق  مقبوضہ کشمیر  میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی تھی کہ کشمیر سے ان دنوں نہ احتجاج کی خبریں آ رہی ہیں نہ کسی قسم کی مزاحمت کی۔ کیا کشمیر میں واقعی سب کچھ ٹھیک ہو گیا ہے؟ ایک شہری سلطانہ کا کہنا ہے کہ ’انڈین حکومت اب مختلف طریقے سے آوازوں کو دبا رہی ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ احتجاج ہوں گے اور یہ تصور تھا کہ تشدد ہوگا، بندوقیں ہوں گی، راستوں پر جھڑپیں ہوں گی۔ لیکن اب سب کچھ بدل گیا ہے۔‘

بہت ساری ویب سائٹس کشمیر کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ وہ کشمیر میں نہیں چلتیں۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس معطل کر دیے جاتے ہیں۔ میرے خیال میں ہم کسی کو مارے بغیر ایک قسم کا آن لائن احتجاج کر رہے ہیں۔ لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹ کریں تو کسی نہ کسی الزام کے تحت گرفتار کر لیا جاتا ہے، لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں اور اس طرح تفتیش کرتے ہیں۔ دھیرے دھیرے وہ ماحول بن رہا ہے، جہاں لوگوں کو لگ رہا ہے کہ اگر اپنی زندگی بچانی ہے تو پھر بات کم کرنی ہے۔

عام کشمیریوں نے اس ماحول کے حوالے سے بی بی سی کو بتایا ہے۔ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کو یہ بات سمجھا دی گئی ہے کہ خطے میں تشدد کو ڈاکومنٹ کرنے کی قیمت چکانی پڑے گی۔ کچھ لوگوں کو مثال بنا سب کو خاموش کر دیا گیا ہے۔ ایک اور خاتون نے بتایا کہ ’لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے۔ کوئی لکھے تو وہ گرفتار ہو جاتا ہے۔ صرف کشمیر کے باہر نہیں بلکہ کشمیر کے اندر بھی کوئی خبر نہیں۔ ہم جو سانس لیتے ہیں اس تک میں خوف ہے۔‘

ایک نوجوان کشمیری مرد نے بتایا کہ ’صرف کشمیری ہی نہیں، مجھے لگتا ہے انڈیا بھی اس خاموشی پر الجھن میں ہے۔ پتا نہیں کشمیریوں کی خاموشی کے پیچھے مجموعی سمجھداری ہے یا پھر ناامیدی۔‘

اگر سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے اعداد و شمار دیکھے جائیں تو اس کی وجہ کچھ سمجھ آنے لگتی ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کے مطابق پانچ اگست 2019 کے بعد سے انڈین حکام نے کم از کم 27 صحافیوں کو گرفتار کیا اور قید رکھا۔ اور اسی عرصے میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے 60 واقعات رپورٹ ہوئے۔

2022 تک تین برسوں میں اس غیر قانونی حراست کے خلاف دائر درخواستوں میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔ اور ان کیسز میں یو اے پی اے، اور پی ایس اے جیسے متنازع قوانین کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ اس کے علاوہ لوگوں کی نقل حرکت پر غیرقانونی اور غیر اعلانیہ پابندی ہے۔ جیسے کہ پولیٹزر ایوارڈ جیتنے والی ثنا ارشاد مٹو کو ویزا اور ٹکٹ ہونے کے باوجود ملک سے باہر سفر کرنے سے روک دیا گیا۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اس نے ایک خوف کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ صحافی اور تجزیہ کار انورادھا بھسین کہتی ہے کہ ’حکومت کی جانب سے نگرانی کے ذریعے نمٹا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے لوگ خاموش ہوجاتے ہیں کہ ہم پر نظر رکھی جا رہی ہے۔ کئی سوشل میڈیا صارفین کو بھی کئی بار اسی طرح سے ڈرایا دھمکایا جاتا ہے جس طرح پریس کو۔‘ مودی یا آر ایس ایس سرکار کا ایجنڈا صرف علاقائی ہیئت بدلنا نہیں ہے بلکہ وہاں کی آبادی کو بے اختیار کرنا ہے۔