ملکی سلامتی کے لئے قومی معیشت مستحکم کرنا ہوگی: قومی سلامتی کمیٹی

  • منگل 03 / جنوری / 2023

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان میں دہشت گردی کو برداشت نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کشیدگی پھیلانے والے عناصر یا تمام تنظیموں سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹنے کا عزم دہرایا گیا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے بعد وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا 40واں اجلاس منعقد ہوا ، جس میں متعلقہ وفاقی وزرا، مسلح افواج کے سروسز چیفس اور انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان نے شرکت کی۔

’قومی سلامتی‘ کا تصور معاشی سلامتی کے گردگھومتا ہے اور یہ کہ معاشی خودانحصاری یا خودمختاری کے بغیر قومی خودمختاری اور وقار پر دباﺅ آتا ہے۔ اجلاس میں ملک کی معاشی صورت حال اور ان چیلنجز کا جامع انداز میں جائزہ لیا گیا جس کا خاص طور پر پاکستان کے کم آمدنی اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے عوام کو سامنا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے اجلاس کو معاشی استحکام کے روڈمیپ کے حوالے سے بریفنگ دی، جس میں عالمی مالیاتی اداروں سے مذاکرات کا اسٹیٹس بھی شامل ہے۔ باہمی مفادات پر مبنی دیگر مالیاتی ذرائع تلاش کرنے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔ بیان میں بتایا گیا کہ معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے قومی سلامتی کمیٹی نے ٹھوس اقدامات پر اتفاق کیا ہے، جس میں درآمدات کی ریشنلائزیشن اور کرنسی کے غیر قانونی انخلا اور ہنڈی حوالے کو روکنا شامل ہے۔

اعلامیے کے مطابق اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خاص طور پر زرعی اور صنعتی پیداوار بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جائے گی تاکہ خوراک کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔ اس کے علاوہ متبادل درآمد اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

ایسی عوام دوست پالیسیاں بنانا ترجیح ہوگی جن کا فائدہ عام آدمی کو منتقل ہو گا۔ مؤثر اور تیز رفتار اقتصادی بحالی اور روڈ میپ کے حصول کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ 3 کروڑ 30 لاکھ سیلاب متاثرین کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے  کے لئے تمام وسائل بروئے کار لا کر صوبائی حکومتوں اور کثیر الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر سیلاب متاثرین کی بحالی اور تعمیرنو پر اتفاق کیا گیا۔

کمیٹی کو ملک کی سیکیورٹی کی صورت حال اور خاص کر خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوام کے لیے سماجی اقتصادی ترقی اور نیشنل انٹرنل سیکیورٹی پالیسی کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کی سرپرستی کریں گی۔ مسلح افواج بھرپور، محفوظ اور سازگار ماحول فراہم کریں گی۔

 کسی بھی ملک کو دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ گاہ یا سہولت فراہم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پاکستان اس حوالے سے اپنے شہریوں کی حفاظت کے تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی میں پاکستان میں دہشت گردی کو برداشت نہ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا اور کشیدگی پھیلانے والوں یا تمام تنظیموں سے نمٹنے کا عزم دہرایا گیا۔ دہشت گردی سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل جمعے کو ہونے والے اجلاس میں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے دہشت گردی کو بھرپور قوت سے بلاتفریق ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور اجلاس پیر تک مؤخر کردیا تھا تاکہ تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلوں کو حتمی شکل دی جاسکے۔