پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے: امریکا

  • بدھ 04 / جنوری / 2023

امریکا نے پاکستان کی جانب سے قومی سلامتی کمیٹی  کے حالیہ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کے لیے کیے گئے فیصلوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 2 روز قبل قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر فیصلوں کے لیے ملک کے اعلیٰ ترین سول ملٹری فورم این ایس سی نے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروپوں کو کچلنے کے پختہ عزم کا اظہار کیا۔

31 دسمبر اور 2 جنوری کو ہونے والے اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی نے براہ راست نام لیے بغیر افغانستان کے حکمرانوں سے واضح اور دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان سےفرار ہونے والے دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکیں اور ان کی سرپرستی ختم کریں۔ قومی سلامتی کمیٹی نے ملک کے اندر سرگرم دہشت گرد گروہوں کو پوری طاقت سے کچلنے کا عزم  دہرایا تھا۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے غیر معمولی سخت الفاظ پر مشتمل بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور پاکستانی سرزمین کے ایک ایک انچ پر ریاست کی مکمل رٹ برقرار رکھی جائے گی۔

منگل کے روز ہونے والی ایک پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکا، قومی سلامتی کمیٹی کے حالیہ بیان سے آگاہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ دہشت گرد حملوں سے پاکستانی عوام کو بے پناہ نقصان پہنچا ہے، پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان طالبان کو اپنے اس عزم اور وعدے کو نبھانا چاہیے جو انہوں نے کیا تھا کہ ان کی سرزمین کو کبھی بھی عالمی دہشت گرد حملوں کے لیے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہونے نہیں دیا جائے گا۔ یہ عزم ان بنیادی وعدوں میں سے ہے جنہیں طالبان آج تک پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں یا جنہیں وہ پورا کرنا ہی نہیں چاہتے۔