ہم کہاں کھڑے ہیں؟

پاکستان کی معیشت مشکلات میں گِھری ہوئی ہے، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، قدرِ زر میں شدید گراوٹ ہے اور ڈالر کی قیمت آسمان کی طرف محو ِ پرواز ہے۔ اسحاق ڈار نے بظاہر ڈالر کی اُڑان پر رکاوٹ لگا دی ہے لیکن عملاً ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔

 زرمبادلہ کی کھلی منڈی میں ڈالر کی قیمت25،20 روپے زائد ہے،یہاں بھی ڈالر دستیاب نہیں۔بینک ریٹ یا کنٹرول ریٹ پر تو ڈالر کہیں بھی دستیاب نہیں،ہماری ضروری درآمدات بھی مسائل کا شکار ہو چکی ہیں۔صنعت کی ترقی تو دور کی بات،اُس کی معمولی رفتار بھی قائم نہیں رہ پا رہی۔ہماری صنعت،زراعت پر انحصار کرتی ہے۔حالیہ طوفانی بارشوں اور اُس کے نتیجے میں تباہ کاریوں نے ہماری زراعت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ خام مال کی درآمد میں کمی نے بھی پیداواری عمل کو شدت سے متاثر کیا ہے۔ ہماری صنعت اپنی پیداواری صلاحیت سے نصف پر چل رہی ہے۔عالمی معیشت بھی مسائل میں اُلجھی ہوئی ہے۔ یوکرین کی  طویل جنگ نے عالمی معیشت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کئے ہیں،اِس طرح کے عالمی اور علاقائی مایوس کن حالات کے باعث ہماری قومی معیشت بدحالی کا شکار ہے۔

 

مہنگائی کا طوفان بلاشبہ سونامی کی شکل اختیار کر چکا ہے، قدرِ زر میں گراوٹ اور توانائی ذرائع بشمول پٹرول، ڈیزل، مٹی کا تیل، گیس اور بجلی و غیر ہم کی قیمتوں میں اضافے کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہو چکا ہے۔مہنگائی میں اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات کی منڈی میں ہماری مصنوعات مقابلے سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ ایسے تمام عوامل نے مل جل کر قومی معیشت میں ہلچل مچا دی ہے، انفرادی معیشت مکمل طور پر بدحالی کا شکار ہو چکی ہے۔ بے روزگاری کے ساتھ ساتھ، قوتِ خرید میں کمی اور مہنگائی کے سونامی نے عوامی انفرادی معیشت کی بھی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔معاملات خوشگوار اور قابل بھروسہ ہر گز نہیں، منظر پر مایوسی اور پشیمانی طاری ہے۔

دوسری طرف سیاسی منظر نامہ بھی اطمینان بخش نہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہماری تمام چھوٹی بڑی، قومی علاقائی، لسانی مذہبی تمام جماعتیں کسی نہ کسی سطح پر اقتدار میں شامل ہیں۔تیرہ جماعتوں کا اتحاد مرکز میں مقتدر ہے۔پاکستان کی شاید ہی کوئی قابلِ ذکر سیاسی جماعت اقتدار سے باہر ہو  لیکن صورت حال یہ ہے کہ سیاسی بحران کی باتیں ہو رہی ہیں، عمران خان کی پارٹی خیبرپختونخوا اور پنجاب میں حکمران ہے۔ یہاں پنجاب میں اُن کی حکومت چوہدری پرویز الٰہی  کے10ممبران کی حمایت سے انہی کی سربراہی میں قائم ہے۔عمران خان 10اپریل2022میں مرکز سے فارغ ہونے کے بعد سے زبردست احتجاجی موڈ میں تیر تلوار بننے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔

 اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی کھو جانے کے بعد شدید غصے میں ہیں، وہ پی ڈی ایم کی حکومت کو ماننے کے لئے ہرگز تیار نہیں، اُنہیں سلیکٹڈ ہی قرار دے رہے ہیں۔ اُنہوں نے جاری سیاسی نظام کا دھڑن تختہ کرنے کے لئے ہر حربہ استعمال کر کے دیکھ لیا حتیٰ کہ اُنہوں نے دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا آخری پتہ بھی کھیل دیا ہے لیکن وہ اِس میں کامیاب نہیں ہو سکے۔اِس سے پہلے وہ قومی اسمبلی سے مستعفی ہو کر بھی دیکھ چکے ہیں لیکن کچھ بھی نہیں ہوا۔اب وہ نہ صرف حکومت کو ناکام بنانے کے لئے سسٹم کو بھی بلڈوز کرنے کی پالیسی پر گامزن ہو چکے ہیں بلکہ اُن کے نزدیک ملک، قوم اور ریاست سب کچھ بے معنی ہو چکا ہے۔ اُن کے طرزِ عمل سے تو ایسا ہی نظر آ رہا ہے کہ وہ ملک کو ڈیفالٹ کرانے پر بلکہ عملاً ڈیفالٹ کی طرف دھکیلنے پر ڈٹے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ نازک معاشی معاملات کو سیاسی بے چینی بڑھا کر مزید نازک بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔

معاشی و سیاسی حالات نازک ہونے کے باوجود مایوس کن ہرگز نہیں،مشکلات کا حجم بہت وسیع،وزنی اور شاید ناقابل ِ برداشت حد تک بڑھا ہوا ہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ سب کچھ ختم ہونے کو ہے، ہم ڈیفالٹ نہیں کر رہے لیکن ہم پریشان کن صورت حال کا شکار ہونے کے باوجود، پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچے۔ہماری طاقتور ترین اسٹیبلشمنٹ اپنی سیاسی سرگرمیوں سے نہ صرف تائب ہو چکی ہے اور اِس کا اعلان بھی کر چکی ہے بلکہ وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر کے آئندہ ”اے پولیٹیکل“ رہنے کا اعلان کر چکے ہیں اور سرِ دست ایسا لگ رہا ہے کہ وہ فی الاصل اپنے عہد پر قائم ہیں۔

عمران خان کو اب خود اپنے بل بوتے پر سیاست کرنا پڑے گی تو وہ کچھ نہ کچھ ضرور سیکھیں گے، ابھی تازہ تازہ زخم خوردہ ہیں، حالاتِ حاضرہ کے ساتھ سمجھوتہ کرنے میں تھوڑا سا تو وقت لگے گا۔دوسری طرف300ارب ڈالر کی ہماری معیشت ہے جس میں زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبے  ہیں گزرے سال میں معیشت کے اِن شعبوں نے30، بالترتیب3.4 فیصد،6.5 فی صد اور 4.6 فیصد بڑھوتی پائی جبکہ معیشت کی مجموعی بڑھوتی 4.8 فیصد کا تخمینہ ہے۔ہماری ورک فورس سات کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہے جس میں زیادہ تر نوجوانوں ہیں۔

جاری مالی سال(2022-2023) کے لئے ہم نے  تقریباً7500 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف مقرر کیا ہے۔31دسمبر2022تک ہم نے ہدف کے مطابق ٹیکس جمع کر لیا ہے۔300 ارب روپے کا شارٹ فال ظاہر ہو رہا ہے جو شاید اگلے ماہ تک پورا ہو جائے۔ یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ معاملات خراب ضرور ہیں لیکن پہیہ تو چل ہی رہا ہے، صنعت و حرفت جاری ہے، کارخانے چل رہے ہیں اور کاروبار ہو رہے ہیں تاہم یہ سب کچھ جیسے ہونا چاہیے ویسے نہیں ہو رہا، معاشی پہیہ مطلوبہ رفتار سے نہیں چل پا رہا اور اِسی وجہ ہے کہ ہم معاشی گرداب میں پھنس چکے ہیں۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاملات کیسے ٹھیک ہوں گے؟ ہم معاشی گرداب سے کیسے نکلیں گے؟ ہمارے معاشی مسائل اور موجودہ معاشی بدحالی کی دو وجوہات ہیں۔ ایک وجہ تو بذاتِ خود ہمارا معاشی ماڈل ہے، ہم جو اپنے اخراجات کے مطابق آمدنی نہ ہونے کے باعث قرض لینے کی دائمی عادت کا شکار ہیں۔ ہم طویل عرصے سے اپنے وسائل سے زیادہ حیثیت کی زندگیاں گزارنے کے عادی ہو چکے ہیں لیکن ضرورت کے حساب سے اپنے مالی وسائل بڑھا نہیں سکے بلکہ اِس طرف توجہ ہی نہیں دی جس کا نتیجہ ہے کہ ہمارے اندرونی و بیرونی قرضوں کا حجم ہماری معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ بن چکا ہے، ہماری مجموعی ٹیکس آمدنیوں کا نصف تقریباً قرض کے  اصل زر اور سود کی ادائیگیوں میں خرچ ہو جاتا ہے  پھر دفاعی اخراجات کے علاوہ کارِ سرکار چلانے کے اندھا دھند اخراجات نے ہمارے معاملات دگر گوں کر دیے ہیں۔

کام چوری اور بددیانتی کے کلچر نے پیداواری صلاحیت بھی منجمد کر رکھی ہے۔اب حالات اِس قدر بگڑ چکے ہیں کہ ہمیں انقلابی قسم کی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔اپنے اخراجات پر قومی جذبے کے ساتھ قابو پانا ہو گا اور نئے طرزِ فکر و عمل کو اپنا کر اپنے معاشی معاملات درست کرنا ہوں گے وگرنہ ہم کسی بڑے حادثے کا شکار بھی ہو سکتے ہیں۔ہمارے معاشی بگاڑ کی دوسری وجہ ہماری سیاست ہے۔ سیاسی عدم استحکام،مار دھاڑ،احتجاج،ہٹو بچو، وغیرہ نے غیر یقینی کی صورت حال قائم کر رکھی ہے جس نے معاشی صورت حال کے بگاڑ کو تیز کر دیا ہے۔ضرورت اِس بات کی ہے کہ سیاست دان سیاسی تدبر کا مظاہرہ کریں اور ذاتی و جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کو جاری معاشی صورت حال سے نکالنے کی تدابیر کریں۔

(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)