جے آئی ٹی وزیرآباد حملے کے شواہد اور حقائق کو تبدیل کررہی ہے: ملزم کے وکیل کا دعویٰ

  • جمعرات 05 / جنوری / 2023

وزیرآباد میں سابق وزیراعظم عمران خان پر حملے میں ملوث مشتبہ ملزم کے وکیل نے دعویٰ کیا ہے کہ پنجاب حکومت کی تشکیل کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے کیس سے متعلق تمام حقائق کو تبدیل کیا اور شواہد کو ضائع کردیا ہے۔

وکیل میاں داؤد نے جے آئی ٹی میں شامل کردہ شواہد کی روشنی پر آج پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف  کے چیئرمین عمران خان اور جے آئی ٹی پر الزامات عائد کیے۔ خیال رہے کہ اس سے قبل تحقیقات سے باخبر ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ ’گرفتار ملزم نوید مہر کے علاوہ 3 نامعلوم حملہ آوروں نے نامعلوم ہتھیاروں سےگولیاں فائر کیں جوکہ کافی اونچائی سے چلائی گئی تھیں‘۔

یاد رہے کہ گزشہ سال وزیرآباد اللہ والا چوک میں پی ٹی آئی کے وفاقی حکومت کے خلاف حقیقی آزادی مارچ کے دوران سابق وزیر اعظم عمران خان پرقاتلانہ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک پی ٹی آئی کارکن جاں بحق ہوگیا جبکہ عمران خان سمیت دیگر 14 کارکنان زخمی ہوگئے تھے۔

ملزم کے وکیل میاں داؤد نے آج لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وزیرآباد حملے کے دوران پی ٹی آئی کا کارکن عمران خان کے سکیورٹی اہلکار کی گولی سے جاں بحق ہوا تھا۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ عمران خان نے محافظوں کے پاس موجود اسلحہ کی فارنزک رپورٹ کرائی گئی ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ محافظوں کی طرف سے کوئی گولی نہیں چلائی گئی تھی۔

میاں داؤد نے پی ٹی آئی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موقع پر موجود ویڈیو کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جارہا، ہلاک شخص معظم گوندل عمران خان کے گارڈ کی گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔ معظم کی ہلاکت کی ویڈیو کو ریکارڈ کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہلکار اور عمران خان کو قتل کے مقدمے سے بچانے کے لیے جے آئی ٹی نے سارے حالات و واقعات تبدیل کرنے کی کوشش کی۔  معظم پر گولیوں کا رُخ اہلکار کی پوزیشن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جے آئی ٹی کی جانب سے 90 پولیس اہلکاروں کے بیانات ریکارڈ ہوئے ہیں لیکن آج یہ تمام اہلکار غائب ہیں۔ جے آئی ٹی کے کام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سارا واقعہ پلانٹڈ اور خود ساختہ تھا اور صرف پی ٹی آئی کے سیاسی مقاصد کی خاطر سب کچھ کیا گیا تھا۔