حکومت ایک بار عوام پر بھروسہ کرکے بھی دیکھ لے!
- تحریر سید مجاہد علی
- جمعہ 06 / جنوری / 2023
وزیراعظم شہباز شریف نے ’خوشخبری‘ سنائی ہے کہ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹینا جارجیوا نے وعدہ کیا ہے کہ مالیاتی فنڈ کا وفد نویں جائزہ کے لئے تین روز کے اندر پاکستان آئے گا تاکہ پاکستان کو سو اارب ڈالر کی نئی قسط ادا کرنے کا مرحلہ عبور ہوسکے۔ جب ایک پبلک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک کا وزیر اعظم یہ معلومات کسی خوشخبری کے طور پر بیان کرتا ہے تو اس سے ملک کی مالی صورت حال اور معاشی مجبوریوں کی کہانی پوری کراہت کے ساتھ عیاں ہوتی ہے۔ لیکن شہباز شریف کے پاس بھی یہ بیان دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
سٹیٹ بنک کے زرمبادلہ کے ذخائر ساڑھے پانچ ارب ڈالر کے لگ بھگ رہ گئے ہیں اور حکومت کو کہیں سے اس وقت تک کوئی امداد ملنے کی امید نہیں ہے جب تک پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات درست نہیں کرتا اور یہ فنڈ پاکستان کے ساتھ طے پانے والے 7 ارب ڈالر کے معاہدہ کے تحت اگلی قسط ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ آئی ایم ایف نے یہ قسط اس لئے روکی ہوئی ہے کہ مفتاح اسماعیل کو وزارت خزانہ سے نکلوا کر خود یہ عہدہ سنبھالنے والے اسحاق ڈار نے ملکی مالی حالات کا اندازہ کئے بغیر اور آئی ایم ایف کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کو سمجھے بغیر ، پہلے نوا ز شریف کو شیشے میں اتارا اور یقین دلایا کہ وہ ان عالمی اداروں سے نمٹنا بخوبی جانتے ہیں۔ اس لئے یہ معاملہ ان پر چھوڑ دیا جائے۔ آئی ایم ایف کی کیا مجال کہ وہ ان کے سامنے پر بھی مار سکے۔ اس کے بعد عالمی ادارے کے ساتھ بات چیت میں کوئی دلیل قبول کروانے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
اسحاق ڈار کی اس عاقبت نااندیشانہ پالیسی ہی کا نتیجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ایک بار پر پھر تناؤ کا رشتہ استوار کرلیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ موجودہ معاہدہ تحریک انصاف کے دور میں طے پایا تھا لیکن پھر تحریک عدم اعتماد کی وجہ سے پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال میں عمران خان نے اس معاہدے کو بھلا دیا اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے علاوہ انہیں بجٹ تک منجمد کرنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح عالمی ادارے کے ساتھ اعتماد کا تعلق ختم ہوگیا اور اسلام آباد کی نیک نیتی کے بارے میں سنگین سوالات اٹھائے جانے لگے۔ پی ڈی ایم کی حکومت میں مفتاح اسماعیل نے وزارت خزانہ سنبھالنے کے بعد آئی ایم ایف سے بات چیت کا آغاز کیا اور آمدنی بڑھانے اور غیر ضروری مدات میں سبسڈی ختم کرنے کے متعدد اقدامات پر اتفاق رائے کیا ۔ شہباز حکومت کی طرف سے مفتاح اسماعیل نے واشنگٹن میں قائم عالمی مالیاتی ادارے کو یہ یقین بھی دلایا کہ موجودہ حکومت ماضی کی طرح اپنے وعدوں سے انحراف نہیں کرے گی کیوں کہ وہ بھی قومی معیشت کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں آئی ایم ایف نے اگلی قسط بھی جاری کردی اور 6 ارب ڈالر کے معاہدے کی حد بڑھا کر 7 ارب ڈالر کردی گئی۔ اسی دوران پاکستان میں دو واقعات رونما ہوئے:
1)شدید سیلاب کی وجہ سے پاکستان کے وسیع علاقے زیر آب آگئے۔ کروڑوں لوگ بے گھر ہوگئے۔ لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہوگئے اور ہزاروں ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور اگلے موسم کے لئے کاشت کے قابل بھی نہ رہیں۔ اس سیلاب سے تباہی و آبادکاری کے اخراجات کا تخمینہ تیس ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے پاکستان میں آنے والے سیلاب کو انسان کی بے اعتدالی کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ یعنی ترقی یافتہ صنعتی ممالک نے عالمی ماحولیات میں زہریلی گیسوں کے اخراج سے درجہ حرارت میں جو اضافہ کیا ہے، اس کے نتیجے میں پاکستان کو اس تباہی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالانکہ کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کے باوجود دنیا کے امیر ممالک ابھی تک اس حوالے سے اپنی ذمہ داری قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہیں۔
2)اسی دوران مفتاح اسماعیل کے سخت معاشی اقدمات اور عوام کے لئے مشکل بجٹ پیش کرنے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی میں اضافہ ہؤا اور عوام کے لئے اقتصادی حالات دگرگوں ہونے لگے۔ عمران خان موجودہ سیٹ اپ کے خلاف مسلسل احتجاجی تحریک چلا رہے تھے لہذا انہوں نے حقیقی معاشی مسائل کو تسلیم کرنے اور بیان کرنے کی بجائے ، بگڑے ہوئے مالی حالات کی ساری ذمہ داری نئی حکومت پر عائد کرنا شروع کردی اور یہ دعویٰ کرنے لگے کہ تحریک انصاف نے تو ملکی معیشت کو وپر اٹھا لیا تھا لیکن اب ’چوروں لٹیروں‘ کی حکومت ایک بار پھر معیشت پر بوجھ بن چکی ہے۔ اس مہم جوئی کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں سیاسی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور یہ اندازہ کیا جانے لگا کہ یہی صورت حال جاری رہی تو پارٹی کا ووٹ بنک بری طرح متاثر ہوگا اور کسی نئے انتخاب میں تحریک انصاف کی مقبولیت کے سامنے بند باندھنا ممکن نہیں رہے گا۔
ان حالات میں نواز شریف کی سربراہی میں لندن میں غور خوض شروع ہؤا ۔ اسحاق ڈار نے اس ساری مشکل کی جڑ مفتاح اسماعیل کی پالیسیوں کو قرار دیا اور نواز شریف سے کہا کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ ڈالر کو بھی کنٹرول کرلیں گے اور آئی ایم ایف کو بھی ’نکیل ‘ ڈال لیں گے۔ اسحاق ڈار کا قیاس تھا کہ پاکستان کے ساتھ مالی معاہدہ مکمل کرنا پاکستانی حکومت کی بجائے شاید آئی ایم ایف کی مجبوری ہے۔ وزارت سنبھالتے ہی انہوں نے ایک طرف ڈالر کو دو سو روپے کی حد میں لانے کی باتیں کرنا شروع کردیں اور دوسری طرف آئی ایم ایف کو پیغام دیا کہ وہ مفتاح اسماعیل کی مانی ہوئی شرائط پر مزید بات چیت کے لئے تیا رنہیں ہیں۔ آئی ایم ایف کو کچھ رعایت دینا ہوگی تاکہ حکومت کی سیاسی پوزیشن کو نقصان نہ پہنچے۔ اس مقصد کے لئے سیلاب سے پیدا ہونے والی نئی معاشی حقیقت کو دلیل کے طور پر پیش کیا گیا۔ البتہ اسحاق ڈار اور ان کے معاونین آئی ایم ایف کو اس بات پر قائل نہیں کرسکے کہ پہلے تحریک انصاف کی حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی اور اب شہباز حکومت خود طے شدہ شرائط سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اسحاق ڈار آئی ایم ایف کو تو قائل نہیں کرسکے لیکن اپنی ذاتی پبلک ریلیشننگ کے لئے روزانہ کی بنیاد پر ٹی وی ٹاک شوز میں آکر یہ دعوے ضرور کرتے رہے کہ ان کا کام پاکستان کا مفاد دیکھنا ہے۔ وہ عالمی اداروں کی سب شرائط کو نہیں مان سکتے۔ اس ہٹ دھرمی اور عاقبت نااندیشی کا نتیجہ نکلا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نواں ریویو کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر پانچ ارب ڈالر سے کچھ ہی زیادہ ہیں اور بلیک مارکیٹ میں ڈالر اڑھائی سو روپے کی حد چھونے لگا ہے۔ یعنی اسحاق ڈار جو دعوے کرتے ہوئے وزیر خزانہ بنے تھے، ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کرسکے۔
اب وزیر اعظم نے اعتراف کیا ہے کہ چین کے توسط سے آئی ایم ایف سے رابطہ کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں ان کی کرسٹینا جارجیوا سے فون پر بات ہوئی ہے اور وہ آئی ایم ایف کا وفد نویں جائزے کے لئے پاکستان بھیجنے پر راضی ہوگئی ہیں۔ اب بھی اگر اسحاق ڈار نے مکمل تعاون نہ کیا ا ور پہلے سے طے شدہ شرائط کو پورا کرنے پر آمادگی ظاہر نہ کی تو یہ بحران طول پکڑ سکتا ہے۔ پاکستان البتہ اس نئے بحران کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہی کے نتیجہ میں سعودی عرب اور چین سے نئی فنانسنگ کا امکان پیدا ہوگا تاکہ ملک ڈیفالٹ کے فوری خطرہ سے باہر نکل سکے اور بیرونی ادائیگیوں کا سلسلہ شروع ہوسکے۔ اس معاہدہ کے نتیجہ میں بھی عوام کو کوئی سہولت حاصل نہیں ہوگی لیکن ملکی معیشت کو ایسی ناگہانی ایمرجنسی سے بچایا جاسکتا ہے جسے ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونے کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ معاشی صورت حال پیدا ہو جائے تو ہر قسم کی درآمد فوری تعطل کا شکار ہوجائے گی۔ پاکستان اس وقت پیٹرولیم مصنوعات ہی درآمد نہیں کرتا بلکہ گندم جیسی جنس بھی درآمد کرکے ملکی غذائی ضرورت پوری کی جاتی ہے۔ یہ قیاس کرنا بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ سب درآمد بند ہوجائے تو ملک میں احتیاج و قلت کی کیسی قیامت خیز صورت حال پیدا ہوگی۔ اسحاق ڈار اور شہباز شریف کو اس بارے میں چوکنا رہنے اور عالمی اداروں سے کئے گئے وعدوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے سے باز رہنے کی ضرورت ہے۔
حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ موجودہ مالی صورت حال کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے حالات مہنگائی کی صورت میں ملک کے ہر شہری کو متاثر کرتے ہیں۔ حکومت کو خوف ہے کہ اس مالی بحران کی سیاسی قیمت ناقابل برداشت ہوگی اور تحریک انصاف اس صورت حال کو حکومت کے خلاف استعمال کرکے اس کی سیاسی پوزیشن کمزور کرے گی۔ البتہ شہباز حکومت کو یہ جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ وہ سابقہ حکومت کی غلط کاریوں کے بارے میں جو دعوے بھی کرتے رہیں لیکن انہوں نے جان بوجھ کر تحریک انصاف کے دور میں پیدا ہونے والی مالی مشکلات کا بوجھ خود اٹھانے کا عزم کیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ ان مسائل کو حل کرکے دکھائیں گے۔ اگر وہ اس مقصدمیں کامیاب نہیں ہوتے تو عوام کسی قیمت ان پر بھروسہ کرنے پر تیار نہیں ہوں گے۔
البتہ مفتاح اسماعیل جیسے پروفیشنل کو ہٹا کر پاپولسٹ اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ بنانے سے سیاسی اعتماد بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔ شہباز شریف جو باتیں آئی ایک ایف کی سربراہ اور دوست ملکوں سے مدد مانگتے ہوئے کہتے ہیں، ان کے بارے میں عوام کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ اب یہ راگ الاپنا بند کیاجائے کہ تحریک انصاف نے ان کے راستے میں ’بارودی سرنگیں ‘ بچھا دی تھیں۔ اس کی بجائے دیانت داری سے حقیقی معاشی صورت حال عوام پر واضح کی جائے اور بتایا جائے کہ اس مشکل سے نکلنے کے لئے صرف حکومت ہی نہیں ہر شہری کو بچت کرنا ہوگی۔ سب کاروباری اداروں کو اپنی ذمہ داری پورا کرنا ہوں گی۔ جو لوگ اب تک نظام کی خرابی کا بہانہ بنا کر ٹیکس دینے سے گریز کرتے رہے ہیں، انہیں قومی غیرت کے نام پر اپنے حصے کا ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جائے اور عوام کو ایسے تاجروں اور اداروں کی نگرانی پر مامور کیا جائے جو اس بحران میں قومی تعمیر و بحالی کے منصوبہ کو بدستور نقصان پہنچا رہے ہیں۔
شہباز شریف نے آج آئی ایم ایف کے حوالے سے جس بے چارگی کا اظہار کیا ہے، یہ صورت حال صرف وزیر اعظم کے لئے ہی شرمندگی کا سبب نہیں ہے بلکہ اس ملک کے ہر شہری کے لئے ندامت کا باعث ہے۔ حکومت کو اس مشکل سے نکلنے کے لئے ایک بار عوام پر بھروسہ کرکے دیکھنا چاہئے۔ تاہم اس مقصد کے لئے ان کے ساتھ سچ بولنا پڑے گا ۔ دوسروں کی غلطیاں تلاش کرنے کی بجائے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرکے عوام کی مدد مانگی جائے۔ عوام کو اعتماد میں لے لیا جائے تو وہ شاید حکومت کو مایوس نہ کریں۔