کالعدم ٹی ٹی پی پاک افغان تعلقات میں بڑی رکاوٹ ہے

  • اتوار 08 / جنوری / 2023

ایک تھنک ٹینک نے یہ نوٹ کیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کابل حکومت کے ساتھ اسلام آباد کے تعلقات میں خرابی کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

اسلام آباد میں موجود پالیسی ریسرچ اینڈ ایڈووکیسی تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز نے ہفتے کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا کہ پارلیمنٹ اجتماعی فیصلہ سازی کا مرکز ہے۔ پارلیمنٹ کو دہشت گردی کے خلاف کوششوں میں قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے بارے میں واضح اور دو ٹوک مؤقف اپنانا چاہیے۔ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے موضوعات صرف سیکیورٹی ایجنسیوں کے خصوصی ڈومین نہیں ہونے چاہییں۔

پاکستان سکیورٹی رپورٹ 2022 میں نوٹ کیا گیا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہمسایہ ملک افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہے، وہ سال 2022 کے دوران پاکستان میں ہونے والے تشدد کے اکثر واقعات میں ملوث رہی جب کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ملک میں دہشت گرد حملوں کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔

ملک میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد میں مسلسل دوسرے سال بھی اضافہ جاری رہا۔ پاکستان میں ایک سال میں کل 262 دہشت گرد حملے ہوئے جن میں 14 خودکش بم دھماکے بھی شامل تھے۔ ان دہشت گرد حملوں میں 419 افراد جاں بحق اور 734 افراد زخمی ہوئے۔ سکیورٹی رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان طالبان کے کابل میں برسر اقتدار آنے اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ امن مذاکرات کی پاکستانی ریاست کی مستقل خواہش نے عسکریت گروپ کو دوبارہ منظم ہونے اور ملک میں دہشت گرد سرگرمیوں کو بڑھانے کا حوصلہ دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ طالبان غیر ملکی عسکریت پسند گروپوں جیسے القاعدہ، اسلامک اسٹیٹ موومنٹ آف ازبکستان، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ یا ترکستان اسلامک پارٹی اور ٹی ٹی پی کے خلاف اپنے وعدوں کے مطابق کارروائی کریں گے۔ افغان طالبان نے اب تک صرف داعش کے خلاف کارروائی کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق کالعدم ٹی ٹی پی، مقامی طالبان گروپس جیسے کہ حافظ گل بہادر گروپ، داعش اور اسی طرح کے دیگر مذہبی شدت پسند گروپوں نے 2022 میں پاکستان میں مجموعی طور پر 179 دہشت گرد حملے کیے جب کہ گزشتہ سال 128 حملے کیے تھے جن میں 250 افراد جاں بحق اور 262 زخمی ہوئے۔