جنیوا کانفرنس کے موقع پر اسحٰق ڈار کی آئی ایم ایف وفد سے ملاقات کا امکان
وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی عالمی مالیاتی فنڈ کے وفد سے جنیوا میں ہونے والی کانفرنس کے موقع پر ملاقات متوقع ہے تاکہ فریقین کے درمیان حل طلب امور پر بات چیت کی جاسکے۔
پاکستان میں سیلاب کی صورت حال کے بارے میں عالمی کانفرنس 9 جنوری کو جنیوا میں منعقد ہوگی۔ اس کی میزبانی حکومتِ پاکستان اور اقوام متحدہ مشترکہ طور پر کریں گے۔ کانفرنس کا مقصد 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد عوام اور حکومت کی مدد کے لیے حکومتی نمائندوں، سرکاری اور نجی شعبوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کو اکٹھا کرنا ہے۔
ترجمان آئی ایم ایف نے بتایا ہے کہ منیجنگ ڈائریکٹر آی ایم ایف کرسٹالینا جارجیوا نے 6 جنوری کو وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ فون پر سیرحاصل گفتگو کی۔ کرسٹالینا جارجیوا نے سیلاب سے براہ راست متاثر ہونے والوں سے اظہار ہمدردی کیا اور بحالی کے اقدامات کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔
توقع ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد جنیوا کانفرنس کے موقع پر اسحٰق ڈار سے ملاقات کرے گا جس میں حل طلب مسائل پر آگے بڑھنے کے لیے تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 2 روز قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ ’7 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے نویں جائزے کو حتمی شکل دینے کے لیے 2 سے 3 روز میں آئی ایم ایف کا ایک وفد پاکستان آئے گا‘۔
پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 میں 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ برس اس میں مزید ایک ارب ڈالر کا اضافہ کردیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے بعد پاکستان کو ایک ارب 18 کروڑ ڈالر جاری ہوں گے جو التوا کا شکار ہیں۔ 2 ماہ تک مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے عالمی ادارے کی مخصوص شرائط ماننے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اختلاف تاحال ختم نہیں ہوسکا ہے۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کے ساتھ وزیر اعظم کی ٹیلی فونک گفتگو کے بعد 6 جنوری کو وزیر اعظم آفس سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے کرسٹالینا جارجیوا کو جنیوا میں کلائمیٹ ریزیلنٹ پاکستان کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق کرسٹالینا جارجیوا نے دعوت پر وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا لیکن وضاحت کی کہ 9 اور 10 جنوری کو آئی ایم ایف بورڈ کے پہلے سے طے شدہ اجلاسوں کے سبب وہ کانفرنس میں صرف آن لائن شرکت کر سکیں گی۔