عدالت کی وزارت انسانی حقوق کو ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن سینٹر بنانے کی ہدایت

  • منگل 10 / جنوری / 2023

وفاقی شرعی عدالت نے وزارت انسانی حقوق کو عمر رسیدہ اور کم عمر ٹرانسجینڈرز کے لیے پروٹیکشن سینٹر بنانے کے حوالے سے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

گزشتہ سماعت پر وفاقی شرعی عدالت نے خواجہ سرا بچوں کے لیے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ قائم کرنے کا حکم دیا تھا۔ قائم مقام چیف جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور اور جسٹس خادم حسین شیخ پر مشتمل عدالت کے 2 رکنی بینچ نے ٹرانسجینڈر (تحفظ حقوق) ایکٹ 2018 کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے یہ ہدایت جاری کی۔

چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نے کہا کہ سیکریٹری انسانی حقوق آج ہی قائم کردہ کمیٹی کے کنوینر زمرد خان سے ملاقات کریں، پروٹیکشن سینٹرز کے لیے ایس او پیز فوری بنائے جائیں۔ وزارت انسانی حقوق آئندہ سماعت پر پروٹیکشن سینٹر کی عمارت اور ایس او پیز پر مبنی رپورٹ پیش کریں۔

انہوں نے کہا کہ زمرد خان کامیابی سے اپنے ادارے کو چلا رہے ہیں، حکومت ٹرانسجینڈرز کے لیے کچھ نہیں کر سکتی تو بتا دے۔ سوائے وزارت انسانی حقوق کے سب ہی ٹرانسجینڈرز کے لیے کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ وزارت انسانی حقوق کی پیش کردہ رپورٹ عدالتی حکم کے مطابق نہیں ہے۔

اس دوران سیکریٹری وزارت انسانی حقوق نے کہا کہ عدالتی حکم پر وزارت انسانی حقوق نے ٹرانسجینڈرز پروٹیکشن سینٹرز کے لیے زمرد خان کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے۔ زمرد خان نے کہا کہ پروٹیکشن سینٹرز کے لیے اب تک وزارت انسانی حقوق کی جانب سے کوئی عمارت فراہم نہیں کی گئی، صرف عمارت فراہم کردی جائے، باقی سہولیات ہم خود فراہم کردیں گے۔

وفاقی شرعی عدالت نے وزارت انسانی حقوق کو عمر رسیدہ اور کم عمر ٹرانسجینڈرز کے لیے پروٹیکشن سینٹر بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کردی۔

مئی 2018 میں قومی اسمبلی نے ٹرانسجینڈر زکو قانونی شناخت فراہم کرنے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ٹرانسجینڈرز افراد کے ساتھ امتیازی سلوک کو قابل سزا جرم قرار دینے کے لیے یہ قانون نافذ کیا تھا۔

ٹرانسجینڈر (تحفظ حقوق) ایکٹ 2018 کے تحت ٹرانسجینڈر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ سرکاری اداروں میں بطور ٹرانسجینڈر رجسٹر ہوسکتے ہیں یا خود اپنی پہچان لکھوا سکتے ہیں۔