شبانہ رحمان کو باوقار طریقے سے الوداع کہاگیا

ناروے کی معروف اسٹینڈاپ کامیڈین، مصنفہ اور آزادی اظہار کی علمبردار شبانہ رحمان کی آخری رسومات ریاستی تدفین کے تحت 10جنوری کوانتہائ احترام سے ادا کردی گئیں۔

 ریاست کے خرچ پرتدفین ایک ایسا اعزاز ہے جس کی روایت 1881 سے چلی آرہی ہےاور یہ اعزاز ناروے کے سرکردہ سیاسی راہنماؤں، کھلاڑیوں اور ثقافتی کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پہ 1906 میں ڈرامہ نگار ہینرک ابسن، 1909 میں موسیقار ایدوارڈگریگ اور 1999 میں تھیٹر کے اداکار پھیراوبل کو ریاستی تدفین کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔ تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ کسی تارک وطن کو اس پُروقار اعزاز سے نوازا گیاہے۔

شبانہ رحمان کے اہل خانہ کی خواہش تھی کہ یہ ایک ہیومنسٹ جنازہ ہو جو متنوع معاشرہ کی عکاسی کرے اور جہاں انسانیت پسند اقدار  پر توجہ مرکوز ہو۔ اس لئے حکومت نے شبانہ رحمان کی آخری رسومات کی تقریب کو ترتیب دینےکی ذمہ داری سیکولر تنظیم ہیومنسٹ ایسوسی ایشن کو دی تھی۔

تقریب کا انعقاد اوسلو کے ٹاؤن ہال کی بلڈنگ کے اُس ہال میں کیا گیاجہاں ہر سال امن کا نوبل انعام دینے کی تقریب منعقد ہوتی ہے۔ تقریب کا وقت بارہ بجے تھا مگر ہرشعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد گھنٹوں پہلے ہی ٹاؤن ہال کی عمارت کے باہر قطاروں میں کھڑے ہوگئے تھے۔ تقریب میں شاہی خاندان کی نمائیندگی ولی عہد شہزادہ ہوکوُن نے کی۔  مرکزی حکومت کے متعدد وزراء ، اوسلو کی میئر اور چیف جسٹس نے بھی تقریب میں شرکت کی۔

مقررین نے شبانہ رحمان کی منفی سماجی بندشوں کے خلاف لڑائ اور اظہاررائے کے حق میں منفرد جدوجہد کو بہترین الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ ناروے کے سرکاری ٹی وی چینل  این آر کے پر آخری رسومات کو براہ راست دکھایا گیا۔ شبانہ رحمان 29 دسمبر کو کینسر کی وجہ سے 46 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ مگر تاریخ کی کتابوں میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گی۔