جنیوا ڈونرز کانفرنس:ویل ڈن پاکستان
- تحریر مصطفی کمال پاشا
- بدھ 11 / جنوری / 2023
جنیوا میں پاکستانی سیلاب زدگان کی بحالی کے لئے منعقد کی جانے والی ڈونرز کانفرنس کامیاب نظر آ رہی ہے۔یہ کانفرنس پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کا نتیجہ ہے اور پاکستان کے عالمی برادری میں اہمیت کی عکاس ہے،اتحادی حکومت گزرے نو ماہ سے قومی معاشی معاملات کو ٹریک پر لانے کے لئے کوشاں ہے۔
شہباز شریف کی سربراہی میں اتحادی حکومت دن رات اِن معاملات کو بھی سنوارنے میں مصروف ہے جنہیں بگاڑنے میں اُن کا ہر گز ہاتھ نہیں ہے جبکہ اتحادی حکومت کی اپوزیشن ملک کو زبانی کلامی ڈیفالٹ میں گرا چکی ہے اور اِس کی بھرپور کوشش بھی ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے تاکہ اتحادی حکومت ناکام ہو جائے اور پھر وہ دوبارہ اقتدار کے مزے لوٹ سکیں۔حکمران اتحاد شہباز شریف کی قیادت میں ملک کو مخدوش معاشی و سفارتی صورت حال سے نکالنے کی کامیاب کاوشیں کر رہا ہے۔ڈونرز کانفرنس کا انعقاد اور وہ بھی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے آشیر باد کے ساتھ پاکستان کی سفارتی کا میابی ہے،چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بھاری بھر کم کامیابی ہے پھر اِس کانفرنس میں 10 ارب ڈالر سے زائد کی امداد کے وعدے اِس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اقوام عالم پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہیں۔شہباز شریف حکومت اِس سے پہلے شرم الشیخ کانفرنس میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے اقوام عالم کو آگاہ بھی کر چکی تھی بلکہ اُنہیں اِس بات پر آمادہ بھی کر چکی تھی کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کا شکار ہوا ہے اور اِس سارے قضیے میں پاکستان کا کوئی حصہ یا کردار نہیں ہے۔یہی وجہ ہے کہ پھر طے پایا کہ جنیوا میں پاکستان کی مدد کرنے کے لئے ڈونرز کانفرنس بلائی جائے۔
سفارتی کامیابی کے ساتھ ساتھ ڈونرز کی طرف سے اعلان کردہ امداد کے وعدے پاکستان کی توقعات سے زیادہ ہیں۔شہباز شریف کار سرکار بہترین انداز میں کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں۔اُنہوں نے اِس کانفرنس میں اپنا مقدمہ بھرپور تیاری کے ساتھ پیش کیا جس کے نتیجے میں اقوام عالم کی طرف سے بھرپور رسپانس ملا اور توقع سے زیادہ امداد کے وعدے مل گئے۔ وزیراعظم پاکستان کی طرف سے اقوام عالم کو پیش کی جانے والی پریزنٹیشن میں بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پاکستان کو30 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا ہے، تین کروڑ30 لاکھ انسان اِس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے، ایک انتہائی پاکستان سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوا۔ہمارا انفراسٹرکچر بھی تباہ ہوا، مکانات اور ڈھور ڈنگر بھی تباہ ہو گئے، کھڑی فصلیں بہہ گئیں۔ آئندہ کاشتکاری کے لئے درکار بیج و دیگر وسائل نہیں ہیں، خوراک کی کمی کا اندیشہ ہے، سڑکیں اور ریلوے ٹریک بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔حکومت پاکستان کی طرف سے پیش کردہ منصوبے کی تفصیلات کے مطابق معاملات کو بیک ٹو ٹریک لانے کے لئے16 ارب ڈالر سے زائد کے وسائل درکار ہیں جبکہ درکار وسائل کا نصف پاکستان اپنے داخلی ذرائع سے مہیا کرے گا۔
پاکستان ڈونرز کانفرنس سے آٹھ ارب ڈالر کے ملنے کی توقع کر رہا تھا جبکہ اِسے10ارب ڈالر سے زائد حاصل ہونے کی توقع پیدا ہو گئی ہے بلاشبہ یہ پاکستان کی سفارتی و معاشی میدان میں بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ اقوام عالم کی طرف سے پاکستان کی بھرپور امداد سے پاکستان پر اعتماد کا اظہار ہوتا ہے جو پاکستان کی بہتر ساکھ کا آئینہ دارہے۔اِس بہتر ساکھ کے باعث پاکستان کو اپنے معاشی معاملات درست کرنے کے لئے درکار مالی وسائل کے حصول میں آسانیاں پیدا ہوں گی بالخصوص آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات کرنے میں آسانی کا امکان ہے۔پاکستان معاشی بدحالی کا شکار ہے، بجٹ خسارہ ہو یا مالی خسارہ، توازن تجارت ہو یا زرمبادلہ کے ذخائر کی حالت، کچھ بھی مطلوبہ معیار کے مطابق نہیں ہے بلکہ انتہائی خراب حالت میں ہے۔ قدرِ زر میں گراوٹ نے مہنگائی کا فلڈ گیٹ کھول دیا جس کے باعث عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔انتظامی بدانتظامی نے معاملات کی شدت میں اضافہ کر دیا ہے۔
سیاسی صورتحال بھی اتنی ہی خراب ہے مرکز میں اتحادی حکومت قائم ہے۔صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں عمران خان اتحادی حکومتیں قائم ہیں۔ سندھ میں پیپلزپارٹی ہے اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے گویا تمام چھوٹی بڑی قابل ذکر جماعتیں اقتدار میں ہیں اور اپوزیشن میں بھی ہیں۔مرکز اور صوبے ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہیں،ڈیڈ لاک کی صورت حال ہے، عمران خان اور اُن کے چند ہمنوا مسائل کے حل کے لئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن جس حکومت اور الیکشن کمیشن نے یہ سب کچھ کرنا ہے اُسے تسلیم نہیں کرتے پھر الیکشن کیسے ہوں گے اور کون کرائے گا؟
وہ سب کچھ نہیں بتاتے ہیں گویا اُن کا مطالبہ صرف مطالبہ برائے مطالبہ ہے فی الاصل سیاسی انتشار و افتراق کو ہوا دینا مقصود ہے تاکہ حکومت کی معاشی بہتری کے لئے کی جانے والی کاوشیں ناکام ہوتی نظر آئیں اور ملک ڈیفالٹ کر جائے لیکن عمران خان اور ہمنواؤں کی ایسی کاوشیں کامیاب ہوتی نظر نہیں آ رہی ہیں۔ بلوم برگ نے بھی کہہ دیا ہے کہ پاکستان کے معاشی معاملات جون2023 تک بہتری کی طرف جاتے نظر آ رہے ہیں۔ پاکستان کی ساکھ مستحکم ہے عالمی برادری نے اِس پر صاد بھی کیا ہے اور ڈالروں کے ذریعے اپنے اعتماد کا عملی ثبوت بھی فراہم کر دیا ہے۔
معاملات،سیاسی ہوں یا اقتصادی کھل کر سامنے آنے لگے ہیں ایک فریق ملک کو اقتصادی ڈیفالٹ سے بجانے کے لئے سرگرم عمل ہے وہ ”سیاست نہیں ریاست“ کے بیانیے پر اپریل 2022 میں اقتدار میں آیا اور ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے میں لگ گیا۔ جبکہ عمران خان نے اتحادی حکومت کو ناکام بنانے کی جدوجہد کا آغاز کیا، گزرے نو ماہ کے دوران عمران خان اور ان کے ہمنوا مسلسل ایسی کاوشیں کر رہے ہیں جس سے سیاسی افتراق و انتشار بڑھے اور حکومت کی ناکامی کا تاثر گہرا ہو اور وہ ناکام ہو جائے۔ڈونرز کانفرنس کی کامیابی پر عمران خان اور ان کے ہمنواؤں نے انتہائی پست درجے کا بیان دے کر پاکستان کی سفارتی کامیابی کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ 10ارب ڈالر سے زائد کے وعدے وہ بھی ایسے وقت میں جب پاکستان ایک ایک ڈالر کے لئے ترس رہا ہے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔
یہ پاکستان کی ڈوبتی معیشت کے لئے مژدہ جاں افزاہے لیکن عمران خان اپنی ہی دھن میں منفی سیاست کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں، اُنہیں اِس بات کی ہر گز پرواہ نہیں ہے کہ اُن کی سیاست کے ملکی سالمیت پر منفی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں اور غریب عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)