الیکشن کمیشن کی مسلم لیگ (ن) کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کیلئے 2 ماہ کی مہلت

  • جمعرات 12 / جنوری / 2023

الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کو 14 مارچ تک انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی مہلت  دی ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے مسلم لیگ (ن) کے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کرانے کے کیس کی سماعت کی۔ مسلم لیگ (ن) کے وکیل احسن جہانگیر خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم بننے کے بعد شہباز شریف کی مصروفیات بڑھ گئی ہیں اس لیے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے میں تاخیر ہوئی ہے۔

ممبر خیبرپختونخوا جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان نے ریمارکس دیتے ہوۓ کہا کہ ہم آپ کو کب سے انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کا کہہ رہے ہیں، کیوں نہ آپ سے پارٹی نشان واپس لے لیا جائے۔ مسلم لیگ (ن) کے وکیل نے کہا کہ ہمیں 31 جنوری تک وقت دیا جائے، جس پر ممبر پنجاب بابر حسن بھروانہ نے مسلم لیگ (ن) کے وکیل سے پوچھا کہ اگر آپ 31 جنوری تک الیکشن نہ کروا سکے تو آپ سے پارٹی نشان واپس لے لیں گے۔

احسن جہانگیر نے استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کروائیں گے لیکن انتخابی نشان واپس نہ لیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا کہ ایسے شخص کو پارٹی صدر نہیں ہونا چاہیے جو اتنا مصروف ہو کہ انٹرا پارٹی الیکشن ہی نہ کروا سکے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے مسلم (ن) کو 2 ماہ کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ 14 مارچ تک انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں۔

خیال رہے کہ 21 مئی 2022 کو الیکشن کمیشن نے وزیر اعظم شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) میں انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے پر شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) کی انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کی آخری تاریخ 22 مارچ 2022 تھی تاہم مسلم لیگ (ن) کی درخواست پر تاریخ میں 14 مئی 2022 تک توسیع کی گئی، قانون کے مطابق پارٹی کو 21 مئی تک الیکشن کمیشن کو سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوتا ہے۔