آئیڈیل انسانی سوسائٹی اور ہمارا سماج ؟

اپنے سماج اور اس کی اقدار کا مطالعہ کرتے ہوئے بارہا یوں محسوس ہوتا ہے کہ یا تو ہم اکیسویں صدی کی بجائے ساتویں آٹھویں صدی میں رہ رہے ہیں یا ہمارے معدے مذہبیت کے حوالے سے بڑی حد تک بدہضمی کا شکار ہیں۔ کیونکہ ہمیں ضرورت سے کہیں زیادہ اس کی خوراکیں عنایت فرمائی گئی ہیں۔

جسے شک ہے وہ پاکستان بننے سے لے کر آج تک کی ہماری شعوری و سائنٹیفک ترقی کا تقابل مذہبی پھیلاؤ اور مدارس کی تعداد و ترقی سے کرلے۔ پچھلے پچھتر سالوں میں ہمارے اندر سائنس دان، تاریخ دان، معاشی و طبی ماہرین اور فلاسفر کتنے پیدا ہوئے ہیں اور دینی مدارس سے فارغ التحصیل مولوی صاحبان کس تعداد میں برآمد ہوئے ہیں ؟ کچھ یہی عالم فرقہ بندی کی بنیاد پر تعمیر ہونے والی مساجد کا ہے۔ پورے عالم اسلام کے ستاون ممالک کی مجموعی طور پر کتنی یونیورسٹیاں ہیں جو عالمی معیار پر پوری اترتی ہیں؟ یا ان میں گنی جا سکتی ہیں؟ یا ان کے بجٹ کا ترقی یافتہ مہذب ممالک کے تعلیمی اخراجات سے تقابل کیا جاسکتا ہے ؟ مغرب میں سائنس اور ٹیکنالوجی پر ہی نہیں سوشل سائنسز ، ماحولیات، الہیات، سیاسیات ، ادبیات، سماجیات، نفسیات، انٹرنیشنل ریلیشن پیدائش و اموات ، دل، دماغ، آنکھ، کان، ناک، اور نہ جانے کن کن انسانی ضروریات اور زندگی کی خوبصورت احتیاجات پر تحقیقات کروائی جاتی ہیں۔ ہر شعبہ حیات کے ماہرین و مدبرین یا سپیشلسٹ تیار کئے جاتے ہیں۔

جبکہ ہمارے یہاں عجب وتیرہ ہے کہ جس بندے کو دنیا کی سائنٹیفک علمی ترقی کا کچھ ادراک نہیں وہ بھی آنکھیں ملتے ہوئے اٹھتا ہے اور نعرے لگاتا ہے کہ اس کا عقیدہ مکمل ضابطہ حیات ہے اور جو اس پر اعتراض کرے وہ اپنی زندگی کی خیر منائے۔ کیونکہ ایسے گستاخ کی ایک ہی سزا سر تن سے جدا ہے ۔ اس پس منظر میں ہمارے یہاں کوئی بھی ایشو ہو۔ چاہے سائنس سے متعلق یا سوشل سائنسز سے تان اسلامی یا غیر اسلامی پر ٹوٹنی ہے۔ بندہ پوچھے طبیعات کا الہیات کے ساتھ کیا تعلق بنتا ہے؟ جمہوریت ، جمہوریت ہوتی ہے یہ اسلامی جمہوریت اور غیر اسلامی جمہوریت تو ایسے ہی ہے جیسے اسلامی سوشلزم اور غیر اسلامی سوشلزم اسلامی سیاست اور غیر اسلامی سیاست۔ اسلامی میڈیا اور غیر اسلامی میڈیا، اسی طرح ادب یا لٹریچر کی تقسیم۔ حد ہے ٹرانس جینڈرز کے حوالے سے خالصتاً انسانی نفسیات و حسیات کا معاملہ آیا ہے تو شور اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ ہم نے اسے اسلامی فٹے سے ماپنا ہے۔ یہاں ماشااللہ ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو طب کو بھی طب نبوی بنا کر اسلامی اور غیر اسلامی خانوں میں بانٹتے پائے جاتے ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا ورنہ یہ لوگ فزکس، کمسٹری یا الجبرا کو بھی اسلامی اور غیر اسلامی کے خانوں میں بانٹ دیں ۔

جس طرح آلو اور پیاز انڈیا سے آئیں تو وہ ہندو آلو پیاز ہیں اور اگر یہ براستہ متحدہ عرب امارات تشریف لائیں تو وہ اسلامی آلو پیاز بن کر جائز ہو جائیں گے کہ جیسے انہوں نے عرب شریف میں کلمہ شریف پڑھ لیا تھا۔ ایسے لوگوں سے اگر بات کی جائے تو اپنی روایتی قدامت پسندی پر مبنی پٹوری سے اس نوع کے گھسے پٹے دلائل ڈھونڈ نکالیں گے کہ دیگر تمام شعبہ جات میں اگر ہماری ا علیٰ اخلاقی تعلیمات و ہدایات شامل ہو جائیں گی تو وہ شعبہ مشرف بہ اسلام ہو جائے گا بصورت دیگر وہ کفر پر قائم گردانا جائے گا۔ بندہ پوچھے کہ کیا باقی دیگر تمام ممالک و اقوام یا مذاہب و عقائد اعلیٰ انسانی اخلاقیات سے عاری و خالی ہیں؟ دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہبیت اپنی پیش کردہ اخلاقیات کو اعلیٰ و برتر ہی خیال کرتی ہے لیکن وہ اپنے ہر شعبہ حیات میں اس کے اوپر اپنی مذہبیت کا مخصوص ٹھپہ لگانے سے احتراز کرتی ہے۔ آخر ہمی کو یہ شوق کیوں بیٹھنے نہیں دیتا کہ ہم سا کوئی نہیں ہے یہ تو ہٹلر کی اپروچ ہے۔

دانائی و حکمت تو انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے یہ جہاں سے بھی ملے اسے اختیار کرنے میں لیت ولعل یا حجت بازی نہیں ہونی چاہئے۔ درویش سے جب کوئی حلال و حرام کے حوالے سے سوال کرتا ہے تو وہ عرض گزار ہوتا ہے کہ جو چیز تمہاری صحت کیلئے مفید و موزوں ہے وہ حلال ہے جو اس کیلئے مضر ہے وہ حرام ہے۔ جس چیز کو پڑھ سن کر تمہارے اندر اچھائی یا خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، وہی کلام مقدس ہے اور جسے پڑھ سن کر تمہارے اندر وحشت و منافرت پر مبنی ذہنیت پروان چڑھتی ہے۔ وہ غیر مقدس ہے اور اس سے احتراز بہتر ہے ۔ یہی وجہ ہے آج دنیا بھر میں ’دارالسلام‘ اوردارالحرب  کے شرعی تصورات متروک یا آؤٹ ڈیٹڈ ہو چکے ہیں حالانکہ حکم تو اپنی جگہ موجود ہے یہ کہ اہل ایمان دارالحرب یا دارالکفر سے ہجرت کرتے ہوئے دارالسلام یعنی اسلامی ریاست میں لوٹ آئیں۔ آج اگر کوئی حضرت صاحب اس نوع کی نصوص پیش کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کی کاوش کریں گے تو منہ کی کھائیں گے۔

آج کی دنیا کو اس نوع کے خانوں میں بانٹنا قطعی ممکن نہیں رہا ہے۔ سچائی کے ساتھ غوروفکر کیا جائے تو واضح ہوگا کہ وہ تمام معاشرے یا ممالک و اقوام جہاں کے باسیوں کو انسانی حقوق اور آزادیاں میسر ہیں جہاں آپ انسانیت کے وسیع تر مفاد میں کھلے بندوں اظہار خیال کر سکتے ہیں، کوئی آپ کو مارنے یا جبر کرنے نہیں دوڑتا، آپ انسانوں پر مسلط کی گئی غیر ضروری بندشوں اور پابندیوں کو ختم کرنے کی بات کرتے ہیں تو کوئی آپ کو حقارت سے نہیں دیکھتا تو یقین رکھئے یہی انسانی سوسائٹی ہے۔ آپ اپنی ٹھرک کیلئے اسے اسلامی کا لاحقہ بھی لگا سکتے ہیں۔ اس کے برعکس جن ریاستوں یا سوسائٹیوں میں جبر کی کارفرمائی ہے، چاہے اس کی کوئی بھی شکل ہو وہ غیر انسانی اور غیر اسلامی سماج ہیں۔ آپ کو ان کے خلاف بولنا اور اٹھنا چاہئے چاہئے۔ وہ چین روس یا شمالی کوریا ہوں یا ایران شام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان۔

دنیا میں کتنی ایسی ترقی یافتہ ریاستیں ہیں جن کی غالب آبادی مسیحی ہے۔ آپ شوق سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دنیا کےسب سے بڑے مذہب مسیحیت سے منسلک مسیحی ریاستیں ہیں کیا انہیں کبھی اس نوع کا شوق چڑھا ہے کہ دنیا بھر کے مسیحیو، ایک ہو جاؤ یا او آئی سی کی طرز پر عالمی کرسچین تنظیم قائم کرو۔ وہاں تو جمہوری حکومتیں ہیں جواپنے عوم کی ضرورت کے مطابق میں چلتی ہیں اور ان کے دکھوں کا مداوا کرتی ہیں۔ ہماری طرح کا سیاسی و مذہبی جبر نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہاں کے کروڑوں مسیحی عوام کو اس نوع کا مذہبی ودینی بخار نہیں جو ہمیں ہمہ وقت چڑھا رہتا ہے۔ کیا بہتر نہیں ہے کہ ہم انسانیت کی بات کرتے ہوئے ہر چیز کو مخصوص مذہبی عینک کی بجاۓ صرف انسانی اور غیر انسانی حوالے سے دیکھیں۔