کراچی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کی برتری، حتمی نتائج میں تاخیر

  • سوموار 16 / جنوری / 2023

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی پولنگ مکمل ہونے کے تقریباً ایک دن بعد الیکشن کمیشن کی طرف سے صرف 123 یونین کونسلز کے غیر حتمی نتائج جاری کیے گئے ہیں جس میں پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہے۔

الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ غیرحتمی نتائج کے مطابق 123 یونین کونسلز میں سے پاکستان پیپلز پارٹی  58 پر کامیاب ہوکر پہلے نمبر پر ہے جبکہ 31 یونین کونسلز کے ساتھ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر اور تحریک انصاف 26 کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق 4 یونین کونسلز پر مسلم لیگ (ن) اور ایک پر بالترتیب جمیعت علمائے اسلام، تحریک لبیک پاکستان، آزاد امیدوار اور ایم کیو ایم پاکستان نے کامیابی حاصل کی ہے۔ خیال رہے کہ کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ کے دیگر اضلاع سے بلدیاتی انتخابات کے غیر حتمی و غیرسرکاری نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے جن کے مطابق حیدر آباد میں کُل 160 یونین کونسلز میں سے 100 پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشن قاسم آباد میں 12 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔ حسین آباد میونسپل کارپوریشن میں 4، نہرون کوٹ میں 2، سچل سرمست میں ایک، میاں سرفراز میں ایک، ٹنڈو فضل میں 6 اور 5 ٹنڈو جام میونسپل کارپوریشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر جماعت اسلامی کے میئر کو آنے سے زبردستی روکا گیا تو جماعت اسلامی کے پاس آپشن موجود ہیں۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں اس حق سے محروم نہ کیا جائے جس میں ہمیں اکثریت سے اقلیت میں بدلنے کی کوئی کوشش کی جائے۔ زبردستی کرنے کی کوشش کی تو ہمارے پاس زوردار احتجاج کا آپشن موجود ہے۔ ہمیں مجبور نہ کریں کہ ہم ایسا احتجاج کریں جس میں یہ پورا عمل ہی سوالیہ نشان بن جائے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ 100 کے قریب نشستیں ایسی ہیں جس میں جماعت اسلامی کامیاب ہوگئی ہے۔ تقریباً 15 سے 20 کے قریب یو سیز ایسی ہیں جس میں ابہام ہے، تنازع ہے۔ ہمارے پاس بہت سارے شواہد ہیں جس کی بنیاد پر ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سادہ اکثریت کی طرف جارہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی الیکشن کمیشن سمیت وزیر اعلیٰ اور وزرا سے بات ہوئی، انہوں نے بھی یہ کہا کہ فوری طور پر اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔ اس وقت تک کی صورتحال یہ ہے کہ 18 گھنٹے گزرنے کے باوجود آر اوز سے نتائج جاری نہیں ہوئے جبکہ رزلٹ تیار ہے تو پھر یہ کر کیا رہے ہیں؟ ہمارے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں لیکن آر اوز ہمیں رزلٹ نہیں دے رہے، میں اس کی شدید مذمت کرتا ہوں۔

صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے کافی نشستیں جیتی ہیں اس لیے میئر لانے کے لیے ان سے بات کریں گے مگر تحریک انصاف سے بات کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ بلاول بھٹو سے لے کر ہم سب نے کئی بار یہ بات کی ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی کی سب سے بڑی جماعت ہوگی۔

پاکستان تحریک انصاف رہنما علی زیدی نے کہا ہے کہ کراچی میں بوری بند لاش دینے والوں کو اکٹھا کیا گیا ہے۔ کراچی میں ہر روز بوری بند لاش ملنا شروع ہوگئی ہے اور بوری بند لاش دینے والوں کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔

کیا کراچی کے لوگ ان چور اور ڈاکوؤں کو ووٹ دیں گے جنہوں نے 15 سال میں کراچی سمیت دیگر شہروں کو تباہ کردیا ہے۔ ہم سادہ الفاظ میں صاف اور شفاف الیکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیا پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہمیں یہ حق نہیں کہ صاف اور شفاف الیکشن ملے۔