خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کردی گئی

  • بدھ 18 / جنوری / 2023

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے سے متعلق ارسال کی گئی سمری پر دستخط کردیے ہیں جس کے بعد صوبائی اسمبلی ٹوٹ گئی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا کی جانب سے وزیر اعلیٰ محمود خان اور قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی کو ارسال کیے گئے اسمبلی تحلیل کرنے کے نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ کے پی اسمبلی اور صوبائی کابینہ کو آئین کے آرٹیکل 112 کی شق ون کے تحت فوری طور پر تحلیل کردیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئین کے آرٹیکل 112 (1) کے تحت اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری 17 جنوری کو گورنر کو ارسال کی تھی۔

گورنر کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ نگراں وزیر اعلیٰ کا تقرر وزیر اعلیٰ محمود خان اور قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی کی مشاورت سے گورنر کرے گا۔  گورنر نے ہدایت کی ہے کہ وہ 21 جنوری تک اس عہدے کے لیے اپنے نامزد امیدواروں کے نام فراہم کریں۔  نگران وزیراعلیٰ کے تقرر تک محمود خان صوبے کے روزمرہ کے امور انجام دینے کے لیے اپنے عہدے پر فائز رہیں گے اور ذمے داریاں نبھاتے رہیں گے۔

بعد ازاں پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قوم کا وقت جمع بچانے کے لیے فوری طور پر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیے۔ میں نے کئی مرتبہ پہلے بھی کہا ہے کہ توڑنے کی بات چھوڑ دیں اور جوڑنے کی بات کریں، وہ بات نہیں مانی گئی لیکن امید ہے کہ محمود خان اور اکرم درانی قوم کا وقت ضائع نہیں کریں گے اور اتفاق رائے سے جلد نگراں وزیر اعلیٰ کے لیے کسی نام کا فیصلہ کریں گے۔ تاکہ ملک سیاسی اور معاشی بحران سے نمٹ سکے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی کی خواہش کے تحت نہیں بلکہ آئین کے تحت چلنا ہے، میں نے اپنا امتحان پورا کردیا۔ اب وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف کا امتحان ہے کہ وہ اپنی آئینی ذمہ داری جلد پوری کریں۔

گورنر کے دستخط کے بعد خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل ہوگئی ہے۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ محمود خان نے اپنی ٹوئٹ میں سمری بھیجنے کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ دو تہائی اکثریت حاصل کرکے قائد عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے۔