اگلے ہفتے ڈالر آنے سے زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال بہتر ہو جائے گی: گورنر اسٹیٹ بینک

  • بدھ 18 / جنوری / 2023

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئندہ ہفتے سے امریکی ڈالر کی آمد شروع ہو جائے گی جس سے ملک میں تیزی سے کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھنا شروع ہو جائیں گے۔

فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ اینڈسٹریز یں کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے تسلیم کیا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ہو گئے ہیں تاہم پائپ لائن میں جو منصوبے ہیں ان سے زرمبادلہ کے ذخائر کی بہتری میں مدد ملے گی۔

آئی ایم ایف اور دوست ممالک سے ڈالر نہ آنے کی وجہ سے چھ جنوری کو ختم ہونے والے ہفتے کو ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 4.34 ارب ڈالر کی سطح پر آ گئے تھے جو فروری 2014 کے بعد زرمبادلہ کے ذخائر کی کم ترین سطح ہے۔ ملک کو ڈالر کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں اشیائے خوردونوش اور صنعتی خام مال کی درآمدات پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ملکی ذخائر کی موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک میں ایک ماہ کی اوسط درآمدات کا احاطہ کرنے کے لیے بھی مناسب مقدار میں ڈالر موجود نہیں ہیں۔

گوکہ اسٹیٹ بینک نے رواں سال کے اوائل میں چند اہم اشیا کی درآمدات پر عائد پابندی ہٹا دی تھی لیکن اس کے باوجود مختلف شعبوں کی ایسوسی ایشنز نے شکایت کی ہے کہ لیٹر آف کریڈٹ نہ کھولنے کی وجہ سے قلت پیدا ہو گئی ہے اور متعدد کمپنیاں اپنے آپریشن تک بند کرنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے درآمدات پر عائد پابندی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اشیائے خورونوش کی درآمدات، فارماسیوٹیکل اشیا، تیل، زرعی مصنوعات اور برآمدات سے منسلک صنعت کے لیے خام مال سمیت چند شعبوں کے لیے ایل سی کھولنے کو ترجیح دیں۔ برآمدات کے نتیجے میں ملک میں ڈالر میں اضافہ ہوتا ہے، ہم نے ایکسپورٹرز کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کچھ ترجیحات کا تعین کیا ہے تاکہ ان کا کاروبار چل سکے اور برآمدات پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔

جمیل احمد نے کہا کہ ہم نے ان شعبوں کو ترجیح دینے کی کوشش کی اور بینکوں سے کہا کہ اگر ان کے پاس ڈالر ہوں تو وہ دیگر شعبوں کو بھی سہولت فراہم کریں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ دیگر شعبے مرکزی بینک کے لیے اہم نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں استعداد اور ملک میں موجود ڈالر کو دیکھتے ہوئے انہیں سہولت دینی ہے لیکن ہمارے پاس زیادہ ڈالر دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے ہم انتظامی بنیادیوں پر مداخلت کرتے ہوئے درآمدات پر پابندی لگا رہے ہیں تاکہ ملک میں ڈالر ایک مناسب سطح پر برقرار رہ سکیں۔