افغانستان میں شدید سردی سے ایک ہفتے میں 78 افراد ہلاک ہوگئے
افغانستان میں طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ افغانستان میں سردی کی شدت کے باعث گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 78 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ 10 جنوری کے بعد سردی میں آنے والی شدت سے 78 ہلاکتیں ہوئیں اور 75 ہزار سے زائد مویشی بھی ہلاک ہوچکے ہیں۔
طالبان نے پورے ملک میں اندازاً 10 لاکھ افراد تک مدد پہنچانے کی کوشش کی ہے اور سخت موسم میں مزید خاندانوں تک امداد پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اگست 2021 میں افغانستان پر طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے ملکی معیشت میں آںے والی ابتری کے باعث لاکھوں افراد غربت اور بھوک کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے جمعرات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا ہے کہ شدید سردی سے افغانستان کے مغربی و شمالی علاقوں میں مبینہ طور پر ہزاروں مویشی ہلاک ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارے کے مطابق مویشیوں کی ہلاکت اور املاک کے ضیاع کے باعث افغان خاندانوں کو درپیش خطرات بڑھ جائیں گے۔ ملک میں پہلے ہی تقریباً دو کروڑ 12 لاکھ افراد کو خوراک کی فراہمی اور زراعت کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی پیش گوئی کے اعتبار سے رواں ہفتے کے اختتام تک افغانستان کے کئی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔ انسانی بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں متعدد خاندانوں کو حرارت کے لیے ایندھن، نقد اور گرم کپڑے فراہم کررہی ہیں۔ تاہم اقوامِ متحدہ کے بقول طالبان حکومت کی جانب سے غیر سرکاری تنظیموں کی خواتین کارکنوں پر عملاً پابندی کے باعث امدادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔