توشہ خانہ معلومات افشا کرنے سے غیر ملکی تعلقات خراب ہو سکتے ہیں: حکومت کا عدالت میں مؤقف

  • جمعرات 19 / جنوری / 2023

لاہور ہائی کورٹ نے 1947 سے اب تک توشہ خانہ سے تحائف وصول کرنے کی تفصیلات کی فراہمی کے لیے دائر درخواست پر سماعت کرتے ہوئے معلومات کے ’کلاسیفائیڈ‘ ہونے کے حوالے سے 2 ہفتے میں حلف نامہ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت کی جانب سے یہ مؤقف توشہ خانہ کے تحائف کا ریکارڈ پبلک کرنے کی درخواست کی سماعت کے دوران سنگل رکنی بینچ کے سامنے پیش کیا گیا۔ یہ درخواست شہری منیر احمد نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کے توسط سے دسمبر 2022 میں دائر کی تھی۔ گزشتہ سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو حکم دیا تھا کہ قیام پاکستان کے بعد سے سیاسی حکمرانوں اور بیوروکریٹس کو غیر ملکی شخصیات کی جانب سے ملنے والے توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات جمع کرائی جائیں۔

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عاصم حفیظ نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی وساطت سے دائر شہری منیر احمد کی درخواست پر سماعت کی۔ دوران سماعت جسٹس عاصم حفیظ نے استفسار کیا کہ یہ دستاویزات کلاسیفائیڈ ہیں، اس پر سرکاری وکیل کیا کہتے ہیں جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد نے جواب دیا کہ سیکریٹری کابینہ ڈویژن کی جانب سے جواب دے دیا ہے۔ 1973 میں توشہ خانہ وزارت خارجہ امور سے کابینہ ڈویژن کو منتقل ہوگیا تھا، یہ تحائف کسی پاکستانی شہری نے نہیں دیے ہوتے۔

جسٹس عاصم حفیظ نے استفسار کیا کہ جب تحائف فروخت کردیے جاتے ہیں تو پھر یہ کلاسیفائیڈ کیسے ہیں۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر حلف نامہ آئے کہ یہ کلاسیفائیڈ معلومات ہیں تو عدالت پھر اسے پبلک یا ڈسکلوز نہیں کرے گی۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ ہو سکتا ہے کہ عدالت ایک لائن کھینچ دے کہ یہ معلومات اوپن کرنی ہے اور یہ نہیں کرنی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نصر احمد نے کہا کہ میں حلف نامہ دے دوں گا۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ محکمے کی جانب سے حلف نامے میں آپ وجوہات دیں گے کہ یہ معلومات کلاسیفائیڈ کیسے ہیں، اگر یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہوا تو اسے اوپن نہیں کریں گے۔

اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حلف نامہ جمع کروانے کے لیے وقت دے دیں۔ عدالت نے کہا کہ آپ حلف نامے کے ساتھ ریکارڈ بھی دیں گے، بند کمرے میں سماعت کر لیں گے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کابینہ آئندہ سماعت سے پہلے اس پر ایسا فیصلہ کر دے جس سے ساری عدالتیں مطمئن ہو جائیں۔