دشمنیوں کو دوستیوں میں بدلیں

العربیہ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ایک مرتبہ پھر انڈین وزیراعظم نریندرا مودی کو دو طرفہ تعلقات کی بحالی کیلئے مذاکرات کی دعوت دی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ اس طرح ہم جموں و کشمیر کے ایشو کو بھی زیر بحث لاسکتے ہیں۔

اس پر انڈیا کی طرف سے کیا ردعمل سامنے آتا ہے، اس سے پہلے ہماری اپوزیشن پارٹی پی ٹی آئی کے ترجمان کا فوری رد عمل آیا ہے کہ جب تک انڈیا اپنے پانچ اگست 2019والے اقدام کو واپس نہیں لیتا وزیراعظم پاکستان نے اسے مذاکرات کی دعوت کیوں دی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں اس نوع کی انتہائی سوچ رکھنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے جو کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے اس کے حصول تک انڈیا سے مذاکرات کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اسی طرح انڈین قیادت بھی ہماری کسی کمزور عوامی اعتماد کی حامل حکومت کے ساتھ بات چیت کیلئے تیار نہیں ہے مگر دوسری طرف یہاں ایسی حقائق آشنا آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ آج پاکستان معاشی بدحالی میں جس طرح دیوالیہ کے قریب پہنچ چکا ہے اسے دشمنیاں پالنے اور ہمسائیگی میں جنگی ماحول بنائے رکھنے کی فضا سے جتنی جلدی ممکن ہو چھٹکارا پاتے ہوئے اپنے اصل ایشو ز کی طرف توجہ دینی چاہیے۔

حالانکہ ہمارے یہ عقاب بشمول پرویز مشرف جب خود حکومت میں ہوتے ہیں تو شکوہ کرتے ہیں کہ انڈین وزیراعظم ان کا فون کیوں نہیں سنتا۔ پاکستان کشمیر کے بغیر الحمد اللہ پچھلے پچھتر برسوں سے زندہ و موجود ہے اور آگے بھی انشاء اللہ نہ صرف قائم و دائم رہ سکتا ہے بلکہ پھل پھول بھی سکتا ہے۔ پانی کا مسئلہ نہرو لیاقت معاہدے میں ایک طرح سے حل ہو چکا ہے لیکن ہمارا آج کا اصل ایشو ہماری ڈوبتی اکانومی ہے۔ اگر پاکستان کی معیشت نہ سنبھالی جاسکی تو پھر عالمی سطح پر اس کا وقار ہی نہیں ڈوبے گا خدانخواستہ اس کا وجود یا اس کی سا لمیت پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں بجا طور پر سوویت یونین کی مثال دی جاتی ہے کیا وہ ایٹمی طاقت نہیں تھی؟ کیا وہ دنیا کی دوسری بڑی مسلح و چاق و چوبند فو ج نہیں رکھتی تھی؟ جتنے ہمارے پاس ایٹم بم ہیں اس سے کہیں زیادہ ایٹم بم اور روایتی اسلحہ کے انبار ان کے پاس محفوظ تھے۔ مگر جب ان کی معیشت بیٹھ گئی تو ہر چیز دھڈام سے نیچے آگری۔

درویش اس کی مثال اس طرح دیتا ہے کہ بالفرض آپ کی آمدن پانچ لاکھ ماہانہ ہے لیکن آپ نے اپنے گھر کی سیکیورٹی کیلئے بیس گارڈ پچیس ہزار فی کس ماہانہ کی تنخواہ پر رکھے ہوئے ہیں ایسی حالت میں آپ انہیں پالیں گے یا اپنے کنبے کی بنیادی ضروریات پوری کریں گے؟ آپ کی فیملی نے بھی کھانا پینا ہے بچوں کے تعلیمی اخراجات ہیں، بزرگوں کی صحت کے مسائل ہیں لیکن آپ کہتے ہیں کہ نہیں میری خطرناک اور مجھ سے تگڑے ہمسائے سے لڑائی ہے بلکہ ایک اور ہمسایہ بھی مجھے بری نظروں سے دیکھ رہا ہے، اس لیے میں اپنے گارڈز کی کٹوتی نہیں کرسکتا۔ تو پھر ٹھیک ہے آپ منگتے بن جائیے۔ ہمہ وقت اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کی جیبوں پر نظریں جمائے یہ کہتے رہئے کہ بھائی دیکھئے میں کوئی عادی یا پکا بھکاری نہیں ہوں بس یہ ہے کہ بوجوہ میرے گھر کے حالات ایسے نہیں رہے ہیں۔ اس لیے یا شیخ میری کچھ مدد کردیں اور وہ ترس کھا کر آپ کی مدد کردیتا ہے۔ لیکن کب تک؟

اب سوچیں اس طرح آپ کی اپنے رشتہ داروں اور دوستوں میں کیا عزت رہ جائے گی؟ جبکہ آپ کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے والا بھی کہہ گیا تھا کہ دیکھو عزت ِ نفس خودی و خوداری بڑی چیز زمانے میں ہے۔ یا یہ کہ خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر، کیا یہ سب باتیں سننے سنانے یا ثواب دارین کیلئے ہی ہیں؟ بحثیت قوم ہم سب یہ سوچیں کہ آخر کیا وجہ ہے پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان جنونیت یا پھر کشکول ہی بن کر کیوں رہ گیا ہے؟ کوئی بھی ہمارے ملک آتا ہے ہم لوگ پوچھنے لگتے ہیں کہ وہ ہمیں کیا دے کر گیا ہے؟ ہم دنیا میں کہیں بھی جاتے ہیں ہم سے مراد ہماری قیادت ہمارا وزیراعظم کہیں بھی جاتے ہیں فوری پوچھا جاتا ہے کہ وہ وہاں سے کیا یا کتنا مال لے کر آیا ہے؟ ایسے حالات میں ہم دیانتداری سے یہ فیصلہ کریں کہ کیا ہم انڈیا جیسی دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت سے جنگ جیسی ہولناکی کا پنگا لینے کی پوزیشن میں رہ گئے ہیں؟

ایسی کسی بھی حرکت کی صورت میں پاکستان کے اندر معاشی بربادی کی بدتر صورتحال کیا مزید نہیں ابھرے گی؟ ہم تو اپنے ملازموں کو تنخواہیں دینے کے قابل بھی نہیں رہیں گے لیکن بڑھکیں ہماری ہمالیہ کو چھو رہی ہیں۔ خدا کیلئے یہاں کشمیر پر اوپن مباحثے ہونے دیں تاکہ ہمارے عام لوگ اس نام نہاد ایشو کی اصلیت تک پہنچ سکیں ہماری معاشی حب یا شہ رگ کشمیر نہیں کراچی ہے۔ ہم اس کی فکر کریں اس کی تعمیر و ترقی اور وہاں کی عوام کی خوشحالی کا سوچیں۔ جتنا کشمیر ہمارے پاس ہے غور کریں وہاں کی ترقی کیلئے ہم نے کیا کیا ہے؟ ذرا دیانتداری سے اس کے انفراسٹرکچر کا تقابل انڈین کشمیر کے انفراسٹرکچر سے کیجئے، آنکھیں کھل جائیں گی کہ یہاں ہماری جنت نظیر میں خاک کیوں اڑ رہی ہے؟

اور پھر سچائی سے سروے کروا کر دیکھ لیں کہ ہمارے کشمیری بھائی خود ہمارے متعلق کیا سوچ رہے ہیں؟ ہم انہیں کیوں مجبور کرتے ہیں کہ اگر الیکشن لڑنا ہے تو پہلے الحاق پاکستان کا حلف نامہ دو، کیا وہ واقعی یہ مانتے ہیں کہ کشمیر بنے گا پاکستان؟ اگر گلگت بلتستان بھی اس کا حصہ ہے تو پھر ہم اسے اپنا پانچواں صوبہ کیوں بنانے جارہے ہیں ؟ اگر انڈیا نے اس کی خصوصی حیثیت ختم کی ہے تو ہم نے جو حیثیت دے رکھی ہے اس کا بھی کسی دن درویش کو پوسٹ مارٹم کر لینے دیں۔ زمینی حقائق کی مطابقت میں ایشوز کوسمجھنے کی کوشش کی جائے تو کشمیر کا مسئلہ ایک طرح سے حل ہی حل ہے جس پر ہم نے آج آنا ہے یا ایک صدی بعد جو اُن کا ہے وہ اُن کا ہے اور جو ہمارا ہے وہ ہمارا ہے۔

اگر ہمارے دعوے کے مطابق وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے تو آج پوری دنیا بھارت کے ساتھ کیوں کھڑی ہے؟ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کیا سنکیانگ میں ہمارے مسلمان بھائیوں کے خلاف نہیں ہورہی ہے؟ وہاں ہماری زبانیں کیوں گنگ ہوجاتی ہیں؟ یہ سارے مخصوص مفادات کی خاطر بنائے گئے سٹنٹ ہیں۔ بہتر ہے ہم اپنی آنکھیں کھولیں پورے سنٹرل ایشیا کو براستہ پاکستان انڈیا کے ساتھ ملانے کیلئے خود آواز اٹھائیں جس سے پاکستان کے لئے معاشی ثمرات کا دروازہ کھل جائے گا ورنہ انڈیا تو اپنی تجارت براستہ چاہ بہار پورٹ (یعنی ایران) جاری و ساری کر چکا ہے۔ انڈین خارجہ پالیسی کا کمال ہے کہ وہ بیک وقت سعودیوں کا بھی محبوب ہے اور ایرانیوں کا بھی، امریکیوں کا بھی اور روسیوں کا بھی۔ اسرائیلیوں کا بھی اور فلسطینیوں کا بھی جبکہ ہماری دشمنیوں کا بخار ہی نہیں اتر رہا۔