بھارت نے نریندر مودی پر بی بی سی کی دستاویزی فلم کو پروپیگنڈا قرار دیا
- تحریر بی بی سی اردو
- جمعہ 20 / جنوری / 2023
بھارتی وزارت خارجہ نے جمعرات کو وزیر اعظم نریندر مودی پر نشر کی گئی بی بی سی کی دستاویزی فلم کو ’پراپیگنڈہ‘ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔
’انڈیا: دی مودی کویسچن‘ نامی اس دستاویزی فلم میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ مودی بطور وزیر اعلیٰ 2002 کے گجرات فسادات کو روکنے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں ناکام کیوں ہوئے۔ خیال رہے کہ 2002 میں مودی انڈیا کی مغربی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے جب وہاں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔ ان فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ لوگوں کی اموات ہوئی تھیں جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب ہندو یاتریوں کو لے جانے والی ایک ٹرین میں آگ لگی اور اس واقعے میں 59 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد فسادات پھوٹ پڑے۔ مودی نے بارہا اس الزام کو مسترد کیا ہے۔ 2012 میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے اس کیس میں نریندر مودی کو بے قصور قرار دیا تھا جبکہ اس فیصلے کے خلاف ہونے والی اپیل کو بھی گزشتہ سال خارج کر دیا گیا تھا۔
بی بی سی کی مودی سے متعلق دستاویزی فلم کے دو حصے ہیں جن میں سے ایک 17 جنوری کو ریلیز ہوا جبکہ اس کی دوسری قسط 24 جنوری کو نشر کی جائے گی۔ اس کا خلاصہ کچھ یوں کیا گیا ہے کہ ’نریندر مودی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے رہنما ہیں۔ وہ ایک ایسے شخص ہیں جنہیں دو بار انڈیا کا وزیر اعظم منتخب کیا گیا اور انہیں اپنی نسل کے سب سے طاقتور سیاستدان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ مغرب انہیں ایشیا میں چینی تسلط کے خلاف دفاع کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہیں امریکہ اور برطانیہ دونوں اہم اتحادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘
تاہم نریندر مودی کی حکومت پر الزامات لگتے رہے ہیں اور اس کی وجہ انڈیا کی مسلم آبادی سے متعلق اس کا رویہ ہے۔ اس سیریز میں ان الزامات کی حقیقت پر تحقیقات کی گئی ہے۔ مودی کی پس پردہ کہانی اور انڈیا کی سب سے بڑی مذہبی اقلیت سے متعلق ان کی سیاست پر اٹھنے والے سوالات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ پہلی قسط میں اس چیز پر نظر دوڑائی گئی ہے کہ نریندر مودی نے سیاست میں کون سے ابتدائی قدم لیے جس میں دائیں بازو کی ہندو تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) میں شمولیت سے لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی میں عروج شامل ہے۔ اس میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ وہ کیسے گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے جہاں ’2002 کے فسادات پر ان کا ردعمل تنازع کا باعث بنا۔‘
جبکہ دوسری قسط میں 2019 کے بعد نریندر مودی کی حکومت کا ٹریک ریکارڈ دیکھا گیا ہے۔ ’کشمیر کی خصوصی حیثیت کے آرٹیکل 370 کے خاتمے سے لے کر شہریت کے نئے قانون تک، کئی متنازع پالیسیاں اختیار کی گئیں۔ ایسے کئی واقعات ہوئے ہیں جن میں ہندوؤں نے مسلمانوں پر پُرتشدد حملے کیے۔‘
قسط کے خلاصے کے مطابق مودی اور ان کی حکومت ایسے الزامات کی تردید کرتی ہے جن میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف متعصب رویہ رکھتے ہیں۔ تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ انڈین حکومت کے مطابق مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات میں اس تنظیم کے بینک اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے ہیں جس کے بعد اس نے دلی میں اپنے دفاتر بند کر دیے ہیں۔ ایمنسٹی اس الزام کی تردید کرتی ہے۔‘
یہ دستاویزی فلم برطانوی دفتر خارجہ کی ایک غیر شائع شدہ رپورٹ پر مبنی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2002 میں گجرات میں پُرتشدد ماحول پیدا کیا گیا اور مودی اس کے ’براہ راست قصور وار‘ تھے۔
بی بی سی کے ترجمان نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ’بی بی سی دنیا بھر کے اہم مسائل پر آواز اٹھانے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس دستاویزی فلم میں انڈیا کی اکثریت ہندوؤں اور اقلیت مسلمانوں کے درمیان تناؤ کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس کشیدگی میں وزیر اعظم مودی کی سیاست پر نظر دوڑائی گئی ہے۔‘ بی بی سی نے کہا ہے کہ اس دستاویزی فلم کے لیے گواہان، تجزیہ کاروں اور عام لوگوں سے بات کی گئی ہے جس میں بی جے پی کے لوگ بھی شامل ہیں۔
بھارتی وزارت خارجہ نے مودی پر بی بی سی کی دستاویزی فلم کو ’پروپیگنڈا‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں ’مسترد شدہ بیانیے‘ کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی نے بی بی سی کی ڈاکومنٹری کو ’متعصب‘ کہا ہے۔ ان کے مطابق اس میں ’نوآبادیاتی ذہنیت‘ اور ’جانبداری‘ صاف نظر آتی ہے۔