سیاسی مہم جوئی یا سیاسی انجینرنگ کا کھیل
- تحریر سلمان عابد
- جمعہ 20 / جنوری / 2023
پاکستان کے داخلی، علاقائی یا خارجی حالات کا تقاضہ ہے کہ ہمیں ایک مضبوط سیاسی، معاشی اور انتظامی نظام کی طرف بڑھنا ہے۔اس کے لیے ہمیں ایک مضبوط سیاسی نظام یا سیاسی حکومت درکار ہے۔کمزور سیاسی و معاشی نظام یا ہاتھ باندھ کر مخلوط یا کمزور حکومتوں کا کھیل ہمیں کوئی مثبت نتائج نہ پہلے دے سکا ہے اور نہ آئندہ دے سکے گا۔
ہماری سیاست میں جو حد سے زیادہ بڑھتی ہوئی عدم اعتماد، سیاسی محاز آرائی پر مبنی سیاسی مہم جوئی، ٹکراو، سیاسی دشمنی یا سیاسی کشیدگی کا ماحول بھی قومی مفاد کے برعکس ہے۔ہم سیاسی، معاشی، انتظامی اور سیکورٹی جیسے مسائل کو بنیاد بنا کر جہاں کھڑے ہیں اس سے باہر نکلنے کے لیے ہمیں ان غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ سب کچھ کیسے ہوگا، کون کرے گا، کب کرے گااو رکیوں کرے گا جیسے سوالات کی روشنی میں ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کیونکر ان معاملات کے حل میں پیچھے رہ گئے ہیں۔
بنیادی طور پر ہماری سیاسی تاریخ سیاسی مہم جوئی یا سیاسی انجینئرنگ کے کھیل سے جڑی ہوئی ہے۔ ہم کسی کی حمایت میں یا کسی کی مخالفت میں اپنے سیاسی، انتظامی او رقانونی اقدامات کرتے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ قومی سطح پر سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا نظام آج بھی اپنے ارتقائی عمل سے گزررہا ہے۔ موجودہ حالات میں ہمارا کمزور سیاسی نظام ہماری سب سے بڑی سیاسی رکاوٹ بھی ہے۔ اس میں یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ جہاں اس کی ذمہ داری اسٹیبلیشمنٹ پر عائد ہوتی ہے وہیں ہماری سیاسی قیادت یا سیاسی جماعتیں سمیت دیگر فریقین بھی کسی نہ کسی حوالے سے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ ہماری سیاسی کمزوری کی داستان کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوئی بلکہ اس میں سب نے ہی اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔اس لیے مسئلہ کا حل کسی ایک پر الزام دے کر آگے بڑھنے کا نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب کو سر جوڑبیٹھنا ہوگا کہ کیسے ہم خود بھی اور ملک کو بھی بحرانی کیفیت سے باہر نکال سکتے ہیں۔
اگر پاکستان میں موجود تمام فریق اپنے اپنے سیاسی، انتظامی، قانونی یا آئینی دائرہ کار میں رہ کر کام کریں تو حالات کو بہتری کی طرف جایا جاسکتا ہے۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کرنے کی بجائے دوسروں کے دائرہ کار میں مداخلت کرکے کام کرنے کے عادی بن گئے ہیں۔ہمیں دو سطحوں پر سیاسی مہم جوئی یا سیاسی انجیرنگ کے بحران کا سامنا ہے۔ اول اسٹیبلیشمنٹ کی جانب سے سیاسی عمل میں مداخلتوں کا کھیل یا سیاسی قوتوں کو اپنے حق میں او رکسی کی مخالفت میں استعمال کرنا۔دوئم سیاسی قوتیں خود بھی سیاسی عمل میں جاری عمل کو کمزور کرنے یا کسی کی حکومت کو بنانے یا گرانے کے کھیل میں خود بھی سازشی کھیل کو ترتیب دینا یا کسی کا حصہ بننا بھی ہمارے سیاسی نظام کی کمزوری کا سبب بن رہا ہے۔لیکن شاید یا تو ہمیں انداز ہ نہیں یا ہم لاشعوری طور پر منفی کھیل کا حصہ بن گئے ہیں یا ہمارے سامنے ریاستی، ملکی مفاد کے مقابلے میں ذاتیات پر مبنی سیاست نے اہمیت اختیار کرلی ہے۔
ہماری موجودہ اسٹیبلیشمنٹ کے بقول ماضی کے تجربوں کی بنیاد پر ہم نے خود کو سیاسی معاملات یا سیاسی مداخلتوں کے کھیل سے دور کرلیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو یہ قابل تعریف ہے۔ کیونکہ سیاسی عمل میں مداخلتوں کے کھیل نے ہمیں آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف دھکیلا ہے۔ لیکن اسٹیبلیشمنٹ کی یہ کمٹمنٹ جہاں قابل تعریف ہے وہیں اس پر عملدرآمد کا نظام یا اس پر ان کی مضبوط کمٹمنٹ جو عملی بنیادوں پرنظر آئے وہ بھی توجہ طلب ہے۔ کیونکہ اہم بات کا کرنا اور اس پر مکمل عمل کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔ جب آپ کے خیالات عمل میں بھی واضح طورپرسب کو نظر آئیں تو اس کی اہمیت بھی بڑھتی ہے اور ساکھ بھی۔اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ بھی اپنے عمل سے یہ ثابت کرے کہ وہ سیاسی نظام کی مضبوطی چاہتی ہے او راس عمل میں کسی بھی سطح کی مداخلت اب ان کی جانب سے کوئی ایجنڈا نہیں ہوگا۔
اس وقت بھی ہماری سیاسی قیادت چاہے ان کا تعلق حکومت سے ہو یا حز ب اختلاف سے سب کی نظریں اسٹیبلیشمنٹ پر ہی ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ اصل طاقت کا مرکز بھی یہ ہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اہم بات سیاسی قوتوں کی خواہش یا فرمائش پر اسٹیبلیشمنٹ کو خود کو نیوٹرل رکھنا ہوگا۔یہ تاثر بہت مضبوط بنیادوں پر سیاسی قوتوں کو جانا چاہیے کہ وہ اپنے سیاسی معاملات خود حل کریں اور بلاوجہ سیاسی معاملات میں ہمیں مت الجھائیں۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ جس انداز میں ہمارے اداروں او ربالخصوص سیکورٹی اداروں پر سوشل میڈیا پر تنقید ہورہی ہے وہ بھی ہماری ریاستی مفاد کے برعکس ہے۔اس لیے اسٹیبلیشمنٹ سمیت عدلیہ جیسے اداروں کا بیک فٹ پر ہونا خود ان ہی ریاستی اداروں کے حق میں ہوگا۔
پچھلے دنوں کچھ ایسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں جس سے دوبارہ یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ کیا واقعی ہماری اسٹیبلیشمنٹ نیوٹر ل ہے۔ مثال کے طور پر کراچی میں ایم کیو ایم کے مختلف گروپوں کا متحد ہونے کا کھیل، سندھ کے گورنر کا سہولت کار کا کردار، پنجاب میں سابق گورنر چوہدری سرور، جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان اور آصف زرداری کی مدد سے عمران خان کے مقابلے میں نئی سیاسی پارٹی یا کنگز پارٹی کی بازگشت، بلوچستان میں باپ پارٹی سمیت بہت سے لوگوں کی پیپلزپارٹی میں شمولیت اورانتخابات کے مقابلے میں انتخابات میں تاخیری حربے یا انتخابات سے فرار کی باتیں یا نگران حکومت کے مقابلے میں عبوری حکومتی ماڈل جو معاشی ماہرین پر مشتمل ہو، عمران خان کی نااہلی یا یہ کہنا کہ طے ہوگیا ہے کہ کس کو لانا ہے او رکس کا راستہ روکنا ہے۔ یہ کھیل محض سوشل میڈیا تک محدود نہیں بلکہ اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے کئی سیاسی پنڈت یا تجزیہ کار بھی اسی طرز کے کھیل میں اپنے سیاسی رنگ بھرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ اسٹیبلیشمنٹ کو اب عمران خان قبول نہیں ہونگے۔یہ سب کچھ کس مقصد کے تحت سامنے لایا جارہا ہے، اس کے پیچھے کون ہیں اور کیا اس سے سے مقاصد حاصل کرنے ہیں پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
ممکن ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ خود کو واقعی نیوٹرل رکھنا چاہتی ہو اور اگر ایسا ہے تو یہ کون لوگ ہیں جو اسٹیبلیشمنٹ کو بنیاد بنا کراپنی سیاسی مہم جوئی کے کھیل کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔کیونکہ خود جہانگیر ترین، عبدالعلیم خان اور چوہدری سرور تردید کررہے ہیں کہ وہ کسی کے اشارے پر نئی جماعت بنارہے ہیں ان کے بقول ان باتوں میں کوئی صداقت نہیں۔بظاہر یہ سارا کھیل ظاہر کرتا ہے کہ ہم آج بھی قومی سیاست میں سازشی کھیل اور ذاتی مفاد یا پسند و ناپسند کو فوقیت دے رہے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا اس کھیل سے ہم قو می
سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی سمیت آئین کی بالادستی کی جنگ کو تقویت دے سکتے ہیں۔ اسی طرح کیا یہ سارا کھیل قومی معیشت اور سیکورٹی کے معاملات میں بہتری کے نئے امکانات کو پیدا کرسکتا ہے تو جواب یقینا نفی میں ہوگا۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم ریاستی و سیاسی ترجیحات کو تبدیل کریں او رایک مستحکم سیاسی نظام کی طرف پیش رفت کی جائے۔ بلاوجہ قومی سیاست یا ریاستی نظام کو تجربہ گاہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ کیونکہ اب موجودہ حالات میں ہم اس طرح کے نام نہاد او رناکام تجربوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ہماری ترجیحات بدلنی چاہیے اور اس میں بنیادی کنجی سیاسی او رمعاشی استحکام کی ہونی چاہیے۔ اگر ہم نے ماضی کے کھیل کو بنیاد بنا کر ہی آگے بڑھنا ہے تو یہ عمل مزید سیاسی انتشار، ٹکراؤ او رہیجانی کیفیت کو پیدا کرے گا۔ اس لیے ہمیں اب کچھ نئی سوچ اور فکر کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔2023کا انتخاب بنیادی طور پر یہ فیصلہ کرے گا کہ ہم نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا بھی ہے کہ نہیں۔