آفریں ہے خارجہ پالیسی کے معماروں پر

ہمارے ہمسایہ ملک افغانستان میں جب سے طالبان حکومت برسر اقتدار آئی ہے شاید ہی کوئی دن گزرتا ہے جب ہمارے خیبر پختونخواہ صوبے میں دہشت گردی یا خونریزی کی کوئی واردات نہ ہوتی ہو۔

تازہ رپورٹ کے مطابق پشاور سے ملحق قبائلی ضلع خیبر میں دہشت گردوں کا راکٹ حملہ ہوا ہے جس میں ہمارے یونیفارم میں ملبوس دو سرکاری اہل کاروں سمیت تین افراد جان بحق اور 8زخمی ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں نے تختہ بیگ پولیس چیک پوسٹ پر فائرنگ کی پھر خودکش حملہ کیا جبکہ راکٹ لگنے سے پولیس وین جل گئی۔ پولیس حکام کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کے جسمانی اعضا اور دیگر شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔ قائم مقام وزیر اعلیٰ نے خود کش حملے کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

اس سے ایک روز قبل کی رپورٹ ہے کہ بلوچستان کے ضلع پنجگور میں پاکستانی سیکیورٹی اہل کاروں پر ایرانی حدود سے اس وقت دہشت گردی کا حملہ کیا گیا جب سرکاری اہل کار وہاں معمول کی پٹرولنگ کر رہے تھے۔ دہشت گردی کی اس واردات میں پاکستان کے چار سیکیورٹی اہل کار جاں بحق ہوگئے اس پر پاکستان نے حکومت ایران سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین سےحملہ آور ہونے والےدہشت گردوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائے۔ گزشتہ روز ایرانی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے حکومت پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ ایرانی حکومت اس حملہ کے ذمہ داران کو انصاف کے کٹہرے میں لائے اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

ہمارا تیسرا بڑا ہمسایہ انڈیا ہے جس نے کبھی ہمارے ساتھ مذاکرات کیلئے درخواستیں کی ہیں نہ التجائیں کرتا پایا گیا ہے جبکہ ہماری کمزورسے کمزور حکومت بھی نہ جانے کیوں اس نوع کی اپیلیں کرتی پائی جاتی ہے۔ قومی اسمبلی سے عدم اعتماد کے ذریعے نکالی جانے والی سابقہ حکومت کا وزیر اعظم اکثر یہ کہتا سنائی دیتا تھا کہ میں بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی کو مذاکرات کیلئے فون کرتا ہوں مگر وہ تو میرا فون ہی نہیں اٹھاتے۔ جبکہ حال ہی میں ہماری اتحادی حکومت کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں انڈین وزیراعظم سے اس نوع کی استدعا کی ہے لیکن جواب میں بھارتی دفتر خارجہ نے یہ کہا ہے کہ پاکستان پہلے مذاکرات کیلئے ماحول سازگار بنائے جس کی انہوں نے وضاحت بھی کردی ہے کہ ماحول سے مراد یہ ہے کہ پاکستان کے ہمارے خلاف دہشتگردی، تشدداور دشمنی کو ختم کرنے پر ہی کسی نوع کے مذاکرات کی بات کی جاسکتی ہے۔

رہ گیا بھارتی آئین میں شق 370کی ترمیم کا معاملہ انڈین حکومت نے اسے بھارت کا اندرونی معاملہ کہتے ہوئے بات ختم کردی ہے۔ جہاں تک چوتھے ہمسایہ ملک چین کا معاملہ ہے، اس کے ساتھ سی پیک کا اتنا بڑا منصوبہ بالفعل اس وقت کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔ گوادر میں اس کے انجینئرز پر بھی وقتاً فوقتاً قاتلانہ یا خود کش حملے ہوتے رہتے ہیں اور اپنی کافی لاشیں وہ بھی یہاں سے اٹھواکر چائینہ لے جاچکے ہیں۔ پاکستان اس وقت ساری دنیا کے سامنے اپنی معاشی بدحالی کے باعث دیوالیہ پن کے کنارے کھڑا ہے جبکہ ہمارا شہد سے میٹھا ہمسایہ دنیا کی دوسری بڑی اکانومی کا حامل ہوتے ہوئے ہماری اس طرح مدد نہیں کررہا جس طرح وہ کرسکتا ہے۔

چینیوں کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بغیر مطلب کے کسی کو چائے کا ایک کپ بھی نہیں پلاتے۔ یہ پاکستان کی دریا دلی تھی جو اس نے جنرل ایوب خان کے زمانے میں اپنے حصے کے کشمیر کی ہزاروں مربع میل زمین چین کوگفٹ کردی تھی تاکہ اس طاقتور ہمسائے کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار رہ سکیں۔ آج بھی چینی جنوب مغربی خطے سنکیانگ میں آباد ترکی النسل ایغور مسلمانوں پر چاہے مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ان کی جبری نس بندی کی جاتی ہے یا انہیں اپنے عقائد کے مطابق جینے اور عبادت کرنے کا حق بھی نہیں ہے، انہیں اپنے مذہبی شعار کو اپنانے کی اجازت بھی نہیں ہے۔ اگر کوئی ایغور مسلمان اس کے خلاف زبان کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے غائب کروا دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان مصلحت اوردوستی دکھاتے ہوئے سب کچھ جانتے بوجھتے کبھی لب کشائی نہیں کرتا۔ وہ جس طرح انڈیا کے خلاف بولنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتا بلکہ موقع نہ بھی بنتا ہو پھر بھی بنا لیتاہے اس کے برعکس چائینہ کے متعلق ہماری ابدی پالیسی یہ ہے کہ چاہے کچھ بھی ہوجائے بشمول امریکا و یورپ اور ترکی دیگر سب جتنا چاہیں ان مظلوم مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھائیں، ہم اپنے طاقتور ہمسائے چین کی ہمیشہ تعریفیں کرتے ہی پائے جائیں گے۔ اس کی دوستی کو ہمالہ سے اونچی اور بحیرہ ہند سے گہری قرار دیتے ہوئے کوئی کمی نہ چھوڑیں گے۔

کچھ اسی نوع کی صورتحال ہمارے مغربی ہمسایہ ملک افغانستا ن میں برسراقتدارطالبان کی ہے۔ وہ چاہے ہمارے فوجیوں کو ماریں یا ہمارے معصوم بچوں کو قتل کریں، ہمیں ان پر زیادہ غصہ اس لیے نہیں آتا کہ وہ ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔ ایک طرف ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ افغان جنگ یا دہشت گردوں کی وجہ سے ہمارے ستر سے اسی ہزار پاکستانی لقمہ اجل بنائے جا چکے ہیں، ہم نے یہ قربانیاں افغان جہاد کی وجہ سے دی ہیں ہم مدتوں اپنی قوم کو اس نوع کی پٹیاں پڑھاتے رہے ہیں کہ فلاں گڈ طالبان ہیں اور فلاں بر ے طالبان۔ یعنی جو کرزئی یا غنی حکومت یا اس کے حمائیتیوں کو قتل کرتے تھے تو ہم بولتے تھے کہ یہ اچھے طالبان ہیں اور جو ہماری طرف رخ موڑتے تھے تو ہم بولتے تھے کہ یہ برے طالبان ہیں۔ حالانکہ طالب تو طالب ہوتا ہے ان بیچاروں نے تو باہمی کوئی ایسی سرحد قائم نہیں کررکھی بلکہ وہ تو اپنے ابدی نظریہ حیات کے زیر اثر کم از کم انگریز کی کھینچی ہوئی غیر منصفانہ لکیر ڈیورنڈ لائن کو ہی سرے سے تسلیم نہیں کرتے۔

ہم نے لکیر کو واضح کرنے کے لیے جو مہنگی باڑ لگائی تھی موقع ملنے پر وہ اسے بھی اکھاڑتے رہتے ہیں۔ وہ تو اپنے پختون بھائیوں کو چاہے وہ اس ڈیورنڈ لائن کے آر رہتے ہوں یا پار اپنی ہی قوم سمجھتے ہیں۔ ہمارے دو قومی نظریے کے وہ منکر ہیں۔ دیکھا جائے تو ایک لحاظ سے تو یہ بات ہمارے لیے ناقابل فہم بھی نہیں ہے۔ ہمارا موقف بھی تو یہی ہے کہ ہماری قومیت کی بنیاد صرف اور صرف مسلمانی پرہے۔ وہ بھی مسلمان ہم بھی مسلمان تو پھر دو قومی نظریہ تو نہ رہا۔ اگر ہم غیر جذباتی ہوکر ٹھنڈے ذہن سے غور کریں آج جس طرح ہمارے ہر دو مسلمان ہمسایہ ممالک افغانستا ن اور ایران کی سر زمین سے ہمارے سیکیورٹی اہل کاروں اور عام شہریوں کو بلادریٖغ اور بلاجواز دہشت گر د حملے کرتے ہوئے قتل کیا جارہا ہے، اور آئے روز ہم اپنے ان بھائیوں اور بچوں کی لاشیں اٹھاتے ہیں۔ بالفرض اگر اس نوع کی کارروائیاں ہمارے مشرقی ہمسائے انڈیا سے ہورہی ہوتیں تو نہ صرف یہ کہ ہمارے میڈیا میں کرش انڈیا کے نعروں سے ایک طوفان برپا ہونا تھا بلکہ ہمارے شہریوں میں انڈیا کے خلاف احتجاجی جلسوں جلوسوں اور ریلیوں کا نہ تھکنے والا سلسلہ جاری و ساری ہونا تھا۔ اور زہر آلود منافرت بھرے کسی لفظ کو ہم نے استعمال کیے بغیر نہیں چھوڑنا تھا۔

آج ہماری معشیت ڈوبی پڑی ہے ہم کشکول لیے پوری دنیا میں گھوم رہے ہیں، ملک کے اندر انارکی کی فضا ہے۔ سیاسی عدم استحکام سب کے سامنے ہے۔ عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں ہمیں نہ تو طالبانی دہشت گردی میں نظر آتی ہیں نہ ولایت فقیہ کی ملائیت میں۔ اور نہ کمیونسٹ جبر میں۔ ہاں البتہ ایک سیکولر مستحکم ڈیمو کریسی  میں ہمیں یہ غم کھائے جارہا ہے۔ آفرین ہے خارجہ پالیسی کے ان معماروں پر۔