کراچی کے بلدیاتی انتخابات دوبارہ کروانے کا مطالبہ
کراچی اور حیدر آباد میں بلدیاتی انتخابات کو تقریباً ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود حتمی نتائج میں تاخیر پر احتجاج کرنے والی کئی اپوزیشن جماعتوں نے اس پورے انتخابی عمل کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
احتجاج کرنے والی جماعتوں نے پیپلز پارٹی پر دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے دوبارہ انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کے بعد بلدیاتی انتخابات کے دوبارہ انعقاد کا مطالبہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے سامنے آیا ہے جو بلدیاتی انتخابات میں کراچی کی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔
15 جنوری کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) نے بھی نئی حلقہ بندیوں کے بعد دوبارہ انتخابات کا مطالبہ دہرایا ہے۔ اس کے برعکس کراچی کی 2 سرکردہ جماعتیں پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی اپنے آئندہ لائحہ عمل پر بات چیت میں مصروف نظر آئیں کیونکہ میئر کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے دونوں جماعتیں مختلف آپشنز پر غور کررہی ہیں۔
صدر پی ٹی آئی کراچی اور رکن سندھ اسمبلی بلال غفار کی قیادت میں ایک وفد نے الیکشن کمیشن کے صوبائی ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور سینیئر حکام سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنماؤں نے کہا کہ انہوں نے بعد از انتخابات دھاندلی کے دستاویزی شواہد الیکشن کمیشن کو فراہم کیے ہیں اور پیپلزپارٹی کی غیر قانونی کارروائیوں کے خلاف الیکشن کمیشن سے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔