سپریم کورٹ نے سائفر تحقیقات، چیمبر اپیلیں سماعت کیلئے مقرر
سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف مبینہ سائفر کی تحقیقات کے لیے دائر چیمبر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کردی گئیں۔ جسٹس سردار طارق مسعود 24 جنوری کو سائفر کی تحقیقات کے حوالے سے دائر اپیلوں پر ان چیمبر سماعت کریں گے۔
ایڈووکیٹ ذوالفقار بھٹہ اور دیگر نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے اعتراضات کے خلاف چیمبر اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ اس سے قبل پی ٹی آئی کی حکومت کو مبینہ طور پر سازش کے تحت ہٹانے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کی گئی تھیں تاہم رجسڑار آفس نے درخواستوں پر اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھیں۔
سپریم کورٹ میں درخواستوں سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کو خطوط لکھے تھے، جس میں ان سے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کی تحقیقات کے لیے پبلک انکوائری اور جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سابق وزیراعظم نے کہا تھا کہ چیف جسٹس اور صدر کے پاس اس مراسلے کی کاپیاں ہیں جو اس وقت کے پاکستانی سفیر اسد مجید خان کو امریکی معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو نے دی تھیں۔
پی ٹی آئی حکومت کا خیال تھا کہ مراسلے کے مندرجات ’وزیراعظم عمران خان‘ کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے حکومت کی تبدیلی کی سازش کو واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں۔ چیف جسٹس اور صدر مملکت کے لکھے گئے خطوط میں کہا گیا تھا کہ اس وقت کی حکومت کی اتحادی جماعتوں کی وفاداری بدلنے اور پی ٹی آئی کے کچھ اراکین کی وفاداری کی خریدے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ ’انجینئرڈ‘ تھا۔
قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے برطرف کیے جانے کے بعد سے عمران خان نے شہباز شریف حکومت کو ’امپورٹڈ‘ قرار دیتے ہوئے نامنظور کیا ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد غیر ملکی سازش کا حصہ ہے۔
مراسلے کا معاملہ پہلی بار عمران خان نے 27 مارچ کو ایک عوامی ریلی میں عوامی سطح پر اٹھایا تھا۔ سابق وزیر اعظم نے 27 مارچ کو اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک خط نکالتے ہوئے کہا تھا کہ ملک میں باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہمیں لکھ کر دھمکی دی گئی ہے۔