سارا قصور آئی ایم ایف کا ہے !

فرض کریں آج ہی کوئی اجنبی پاکستان میں وارد ہوتا ہے تو اسے میڈیا سے پاکستان کے معاشی حالات پتہ چلتا ہے۔ ایک دو دن اخبارات اور ٹی وی دیکھ کر اسے یہ گمان گزرتا ہے کہ اس ملک پر آئی ایم ایف نام کی کسی بلا کا سایہ ہے جس کے سبب ملک میں حرکت تو تیز تر ہے مگر برکت ندارد ہے۔

ملک میں معیشت معیشت کی مالا تو بہت جپی جا رہی ہے لیکن اکنامک گروتھ کا سفر ہے کہ منفی اشاریوں کی طرف لڑھکنے سے باز ہی نہیں آتا۔  یہی اجنبی اخبارات اور میڈیا کو فوکس کرکے دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی حکومت  نے آئی ایم ایف کے حضور کچھ وعدے وعید کئے تھے لیکن واپس آ کر مملکت اور سیاست کے بکھیڑوں میں الجھ کر وہ وعدے یاد نہ رہے اور جو یاد رہے ان پر عمل درآمد کا حساب کتاب لگایا تو سیاسی خسارہ ہی حاصل حساب ٹھہرا۔  اسی ادھیڑ بن میں معیشت مزید ادھڑتی رہی۔

اجنبی کو افسوس ہوتا ہے آئی ایم ایف کے کٹھور پن پر کہ اگر کوئی ملک بے چارہ مجبوری اور ضرورت کا مارا اس کے پاس آہی گیا ہے تو اسے اعلی ظرفی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ یہ کیا کہ خزانے کا مونہہ کھولنے کی بجائے پرانے مہاجنوں کی طرح بہی کھاتہ کھول کر بیٹھ  جائے۔ اجی آپ نے تو پچھلا بیاج بھی چکتا نہیں کیا، اب نیا ادھار مانگنے آن کھڑے ہیں۔

آئی ایم ایف کو برا بھلا کہتے ہوئے اگر اجنبی ادھر ادھر پڑھنے سننے سمجھنے کی کوشش کرے کہ ان حضرت آئی ایم ایف کا تکیہ کہاں ہے؟ کس سلسلے کے بزرگ ہیں؟ کن شرائط پر بیعت لیتے ہیں ؟ مریدوں میں کس طرح کے لوگ حلقہ ارادت میں شریک ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔ اس کوشش میں اسے یہ جان کر  مایوسی ہوگی کہ آئی ایم ایف کسی فلاحی ادارے یا لنگر خانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک عالمی مہاجن ادارہ ہے۔  دارالمقام جس کا واشنگٹن میں پایا جاتا ہے۔ سلسلہ نسب اس کا ورلڈ آرڈر سے جا ملتا ہے جس پر اس کے امریکی اور یورپی برادران کی کامل گرفت ہے۔ دہشت اور اثرو رسوخ اس قدر کہ بڑے بڑے ملک اور مالی ادارے کسی بھی ملک کو امداد دینے سے قبل اس کی جبیں کے ناز دیکھتے ہیں۔ جبیں شکن آلود ہو تو دوستانے کے باوجود پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور ضرورت مند دوست ملک سے ان کی جبین ناز کو آسودہ کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

اجنبی اگر یہ کھوج لگانے کی کوشش کرے کہ آئی ایم ایف کی بزم ناز میں پاکستان کے ساتھ یہ سلوک کیوں؟ بائیس کروڑ کی آبادی ہے، دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، ایٹمی طاقت رکھتا ہے، دنیا داری میں بڑی طاقتوں کے ہمیشہ ساتھ کھڑا ہوا گو اس میں اکثر اپنا ہی نقصان ہوا، بلکہ تعاون پر اس قدر کشادہ دل اور مستعد کہ پرائی لڑائیاں بھی گھر لانے سے گریز نہیں کرتا۔ بڑی طاقتیں کوئی ایک بھی واقعہ بتائیں کہ انہوں نے آواز دی اور اس پر لبیک کہنے میں کوتاہی کی ہو۔ غرض ایک ایسا ملک جس کے بارے میں شاعر بھی حلفیہ کہ چکا کہ:

ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

اس کے باوجود اس عالمی مہاجن کا پاکستان کے ساتھ بے اعتنائی بلکہ ترش رویہ کیوں؟ یہ جاننے کی کوشش میں اجنبی کو انکشاف ہوتا ہے کہ اخبارات اور میڈیا کی ہیڈ لائینز میں اس ملک کے حکمران سیدھے سادے اور یہ ملک مجبور نظر آتا ہے لیکن  حقیقت میں ایسا شاید ہے نہیں۔ تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ دنیا میں تین ممالک ہی ایسے ہیں جنہوں نے آئی ایم ایف کا راستہ یوں یاد رکھا ہے کہ آنکھ بند کرکے بھی چلیں تو سیدھا اس کے دفتر پہنچتے ہیں۔ 1958 سے لے کر اب تک 23 بار آئی ایم ایف سے قرض پروگرام منظور کروا چکے ہیں جس میں صرف ایک پروگرام اپنی طبعی تکمیل کو پہنچا، باقی سب پروگرام راستے میں خجل خوار ہو کر رزق راہ ہوئے ۔ معروف اکونومسٹ ثاقب شیرانی کے حساب کتاب کے مطابق  پاکستان اوسطا ہر تیسرے سال ایک قرض پروگرام کا طالب  ہوا۔ آئی ایم ایف سے اس قدر بے تکلفی سے قرض کا تقاضا کرنے میں سبھی سیاسی اور غیر سیاسی حکومتوں کا ریکارڈ  ملتا جلتا رہا ہے۔ ن لیگ چار بار، پی پی پی چھ بار، پرویز مشرف دو بار اور پی ٹی آئی حکومت ایک بار اس کوچے کے مسافر ہوئے۔  تواتر سے اس گلی میں آنے جانے کی عادت  سے پاکستان نے گریز نہیں کیا جس میں جانے سے جان و دل کو عزیز رکھنے والے سبھی ممالک گریز کرتے ہیں۔ اب تو یہ عالم ہے کہ پاکستان کی معاشی ٹیم میں سلیکشن کی بنیادی اہلیت یہ سمجھی جاتی ہے کہ موصوف ملک کے مسائل سے شناسا ہوں نہ ہوں آئی ایم ایف کی غلام گردشوں سے اچھی طرح واقف ہوں۔ پاکستان کی ہمہ وقت آئی ایم ایف کمپاؤنڈ میں موجودگی کے سبب اب اس علت کو حکمران برا نہیں سمجھتے۔

اجنبی کو یہ کھوج لگانے میں زیادہ دقت نہیں ہو گی کہ پاکستان اپنی لاپرواہی اور تن آسانی کے سبب اپنی معیشت درست کرنے کے مشکل راستے سے گریزاں ہے کہ بقول شاعر:

اس میں لگتی ہے محنت زیادہ 

جبکہ قرض پروگرام اور اسے شاہانہ خرچ کرنے میں ایسی مشکلات نہیں۔ حالیہ چار دہائیوں میں ملکوں نے بذریعہ ایکسپورٹ غیر معمولی ترقی کی لیکن پاکستان نے یہ مشکل اور مسابقتی راستہ چھوڑ دیا یا شاید دل کو یہ طریقہ بھایا نہیں۔  بیس سال قبل پاکستان کی ایکسپورٹس جی ڈی پی کا تناسب 14 ٪ تھا جو گرتے گرتے دو سال قبل آدھا رہ گیا یعنی فقط 7٪ رہ گیا ۔ پچھلے دو سال کے دوران البتہ اس تناسب میں قدرے بہتری ہوئی مگر دس فیصد سے ابھی بھی نیچے ہے۔ دنیا سے موازنہ کریں تو عالم ہی کچھ اور ہے، بھارت میں یہ تناسب 21٪ ، ملائیشیا میں 69٪ اور ترکی میں 35٪ ہے۔

 اجنبی کو شاید یہ سمجھنے میں دقت پیش آئے کہ جہاں دنیا کے ممالک اپنی برآمدات بڑھانے کے لیے ہلکان ہیں، پاکستان درآمدات بڑھانے سے پریشان ہے۔ کہاں بیس سال قبل ایک سو ڈالر  ایکسپورٹ کے مقابلے میں درآمدات 150 کے لگ بھگ تھیں جو اب 250 سے بھی زائد ہیں۔ اجنبی کو کچھ ہی پرکھ پرچول پر پتہ چل جائے گا کہ شہروں کی بڑی شاپنگ مالز میں صابن شیمپو سے لے کتوں کی خوراک تک امپورٹڈ بہ آسانی دستیاب ہے۔ خریداروں کا رش کم ہونے کا نام نہیں لیتا، اسی لئے نئی سے نئی اور بڑی شاپنگ مالز کھل رہی ہیں لیکن دوسری طرف خزانے میں انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد وہیں کی وہیں ہے۔  اس قدر ٹیکس فری کلچرہے کہ ٹیکس جی ڈی تناسب بمشکل دس فیصد بھی نہیں۔ بلیک اکونومی کا حجم دستاویزی اکونومی سے کہیں زائد ہے۔ ایک تخمینہ ہے کہ کہ جی ڈی پی کا ساٹھ فی صد سے زائد بلیک اکونومی پر مشتمل ہے یعنی دستاویزی کیکھڑ اور نہ ٹیکس نیٹ میں شمولیت۔ 

اجنبی کو زیادہ تردد نہیں کرنا پڑے گا یہ معلوم کرنے کے لئے کہ پورا معاشی نظام اشرافیہ کی سہولت اور مفاد پرستی پر استوار ہے۔ رئیل اسٹیٹ ، سٹے بازی اور غیرپیداواری زرائع سے منافع بھی چوکھا ہے اور سرمایہ بھی محفوظ رہتا ہے ۔ فیکٹریاں لگانے چلانے اور زراعت پیداوار میں مٹی کے ساتھ مٹی ہونے کی نسبت اس قدر آسان کمائی کے ہوتے ہوئے اسے حیرت نہیں ہو گی کہ ملک میں پچھلے پندرہ سال سے ڈی انڈسٹریالائئشن کا عمل جاری ہے۔  زرعی ملک پر اب فوڈ سیکیورٹی کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ سیاسی اشرافیہ اپنے ووٹ بنک کو آسودہ رکھنے کے چکر میں پبلک سیکٹر اداروں میں سالانہ سات سو ارب سے زائد کے نقصانات کو نظر انداز کرتی ہے، بجلی کا سرکلر ڈیٹ تین ہزار روپیہ تک پہنچنے کو ہے۔

تھوڑی سے پرکھ پرچول کے بعد اگر اجنبی کے ذہن میں یہ گمان گزرے کہ حکومتیں ، معاشی نظام اور سیاست دان اس مایوس کن معاشی منظر کے زمہ دار ہیں تو اس کے خیال کو کوئی ہم خیال سیاسی اشرافیہ میں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔ اسے یہی سننا پڑے گا کہ آئی ایم ایف کی شرائط بڑی سخت ہیں۔ پچھلی حکومت نے بڑی زیادتی کی یعنی قصور پھر بھی آئی ایم ایف کا ہی ہے۔ خود پسندی  وہاں لے آئی ہے کہ نوشتہ دیوار نہیں پڑھا جا رہا ہے ۔ نوشتہ دیوار کیا شاید دیوار ہی نظر نہیں آ رہی:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا