الیکشن کمیشن نے محسن نقوی کو پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ مقرر کردیا
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پنجاب حمزہ شہباز کی جانب سے نامزد کردہ محسن رضا نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب تعینات کرتے ہوئے باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔
اس سے قبل نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کے لیے اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے بنائی گئی دوطرفہ پارلیمانی کمیٹی مقررہ وقت میں کسی نام پر اتفاق رائے میں ناکام رہی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے آج ہونے والے اجلاس میں نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کا انتخاب کیا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں کمیشن سیکریٹریٹ میں الیکشن کمیشن کے ارکان کا خصوصی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن خیبر پختونخوا کے رکن اکرام اللہ خان، سندھ کے رکن نثار درانی، بلوچستان کے رکن شاہ محمد جتوئی اور پنجاب کے رکن بابر حسن بھروانہ نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں سیکریٹری الیکشن کمیشن سمیت 15 افسران کو شریک ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سیکریٹری عمر حمید، اسپیشل سیکریٹری ظفر اقبال حسین نے بریفنگ دی، ایڈیشنل سیکریٹری ایڈمن منظور اختر، ڈائریکٹر جنرل ثنا اللہ، ڈی جی لا محمد ارشد کو بھی مشاورتی اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا۔ اجلاس سے قبل متعلقہ شعبوں کے ڈی جیز اور ایڈیشنل ڈی جیز کو بھی اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی تھی، اجلاس میں آئینی اور قانونی معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی کا آئین کے آرٹیکل 224 (اے) (3) کے تحت نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر کا تقرر کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے مکمل غور و خوض کے بعد محسن رضا نقوی کو نگران وزیر اعلیٰ پنجاب مقرر کیا اور اس سلسلے میں باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں گورنر پنجاب کو خط بھی لکھ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ نگران وزیر اعلیٰ پنجاب سے عہدے کا حلف لیں۔
پرویز الہٰی نے سردار احمد نواز سکھیرا اور نوید اکرم چیمہ کے نام تجویز کیے تھے جبکہ حمزہ شہباز نے نگران وزیر اعلیٰ کے لیے محسن نقوی اور احد چیمہ کے ناموں کی توثیق کی تھی۔ خیال رہے کہ نگران وزیر اعلیٰ محسن رضا نقوی ایک نجی میڈیا ہاؤس کے مالک ہیں اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے بہت قریب سمجھے جاتے ہیں۔