وزیراعظم کا بجلی تعطل پر سخت نوٹس، اعلی سطحی تحقیقات کا حکم

  • سوموار 23 / جنوری / 2023

وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں بجلی کے تعطل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اعلی سطح کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطح کی کمیٹی بھی تشکیل دے کر وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ 

وزیراعظم نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بجلی کا اتنا بڑا بحران کس وجہ سے پیدا ہوا، آگاہ کیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔ وزیراعظم نے بجلی کی فوری بحالی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات برداشت نہیں۔

اس دوران وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ ملک بھر میں رات 10 بجے تک بجلی بحال کردی جائے گی۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی بحالی کے لیے جو سب سے اہم قدم اٹھایا گیا وہ یہ ہے کہ جنوب میں اچ کے مقام پر ایک پاور پلانٹ موجود ہے جس کے ذریعے سکھر، نوشہرو فیروز، لاڑکانہ اور خیرپور ناتھن شاہ میں معمول کے مطابق بجلی فراہم کی جارہی ہے۔ اسی پاور پلانٹ کو استمعال کرتے ہوئے کچھ بجلی بلوچستان، کچھ پنجاب اور کچھ جنوبی پنجاب میں بحال کی گئی ہے۔

تھرکول میں بجلی کی فراہمی کی سہولیات موجود ہیں جو اب کراچی الیکٹرک کو جزوی طور پر بحالی کا آغاز کردیا ہے اور جیسے جیسے نیشنل گرڈ بحال ہوگی اس کو بھی بڑھاتے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام ذمہ داران انتہائی سنجیدگی سے ملک میں بجلی کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں اور ہائیڈل سسٹم کو دوبارہ چلانے میں کچھ رکاوٹیں بھی آئی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ چونکہ بجلی کا ترسیلی نظام محفوظ ہے اس لیے بجلی کی بحالی میں یہ چیلنج ہے کہ ملک کے تمام بجلی بنانے کے کارخانے اور پلانٹس کو ایک ایک کرکے شروع کرنا ہے جس کے لیے بھی بجلی کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا کچھ گھنٹوں سے اس کا بھی انتظام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر نیشنل ٹرانزمیشن اتھارٹی کو ملک کے کسی بھی پاور پلانٹ کو چلانے کی اجازت دے دی ہے چاہے وہ مہنگے ایندھن پر کیوں نہ چلانا پڑے۔