سفر درسفر

جوانی اور نوجوانی کے عالم میں ہم اپنے بزرگوں اور والدین سے بہت اچھی اچھی باتیں سنتے تھے۔ ان کی تمام تر توجہ ہمیں عادات واطوار میں باکردار اور بااخلاق بنانے پر مرکوز ہوتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمارے رویوں سے عمر رسیدہ لوگوں کے لئے بے انتہا احترام ہمارے قول اور فعل میں دکھائی دے۔

میں اپنے اور اپنےسے پہلے گزر جانے والے ادوار کی باتیں بتارہا ہوں۔ آج کل کے والدین جانیں اور ان کے متفرقہ کام جانیں۔ ویسے ایک راز کی بات بتادوں آپ کو؟ آج کل والدین اپنے بچوں سے ڈرے ڈرے اور سہمے سہمے سے رہتے ہیں۔ وہ بچے اپنے والدین کو ٹیکنالوجی کی مارمارتےہیں۔ انہوں نے دس موبائل فونز کے نام اور ایپلی کیشن اور برانڈڈلیپ ٹاپس کے نام یادرکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ سیاسی ، سماجی اور اخلاقی موضوع پر والدین کبھی بھولے سے بھی اپنے ہونہاربچوں سے بات کرنا چاہیں تو بچے ان کو یہ کہہ کر چپ کرادیتے ہیں کہ ’ ڈیڈی یہ ٹیکنالوجی کادور ہے۔ مشوروں اور نصیحتوں کا دورکب کاگزر چکا ہے‘۔ یہ الگ موضوع ہے۔ اس موضوع پر پھر کبھی بات ہوگی۔ فی الحال میں اپنے نوجوانوں اورجوانوں کویقین دلوانا چاہتا ہوں کہ میں ان سے غیرتکنیکی باتیں نہیں کرون گا۔ میں ان سے ٹیکنالوجی کی بھی باتیں نہیں کرون گا۔ میں اپنے بچوں سے آنے والےوقت کے بارے میں باتیں کروں گا۔ میں کوئی نجومی اور پیشگوئی کرنےوالا نہیں ہوں۔

میں آپ سے روزمرہ کے مشاہدے میں آنے والے ناقابل تردید حقائق کے بارے میں بات کروں گا۔ آپ فوراً کہہ اٹھیں گے: ارے، یہ سب توہم پہلے سے جانتے ہیں۔ درست۔ کسی کے پاس سنانے کے لئے ایسی کوئی بات نہیں ہے، جو آپ نے پہلے نہیں سنی ہوگی۔ ہمارے اطراف جو کچھ ہے اور جو کچھ ہم نے دیکھا بھالا ہے، سب پرانا ہے، دیکھا ہوا ہے، سنا ہوا ہے، محسوس کیا ہوا ہے ۔ کچھ بھی نیا نہیں ہے۔ بس اتنا ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں۔ ہم ہر وہ بات بھول جاتے ہیں جس بات کو ہم اہمیت نہیں دیتے، جو باتیں کسی واقعہ کسی سانحہ، کسی ماجرے، کسی حادثے کی صورت میں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ ایسی باتوں کو ہم رسمی، رواجی اور معمولی جان کر درگزر کردیتے ہیں مگر ایسی باتیں ہمارے لاشعور کی دیوار پر ابدی نشانیاں چھوڑجاتی ہیں۔ ہمارا شعور ان نشانیوں کو نظر انداز تو کرسکتا ہے مگر بھلا نہیں سکتا۔ وہی نوشتہ دیوار آج میں آپ کو یاددلانا چاہتا ہوں

۔ہم اپنے دوست احباب، جان سے پیاروں کو یہ دنیا چھوڑتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ الوداعی لمحوں میں ان کی ڈھارس بندھاتے ہوئے، اچانک منہ پھیر کر روپڑتے ہیں، بلک بلک کر رونےسے، آسماں کی طرف ہاتھ اٹھاکر گڑگڑاکر معافی مانگنے سے ہم جانے والے کو نامعلوم پر اسرار سفر پرروانہ ہونے سے روک نہیں سکتے ۔ ان کے چلے جانے کے بعد زندگی خالی خالی محسوس ہونے لگتی ہے۔ گھر میں بکھری ہوئی ان کی اشیا دیکھ کر وہ بہت یاد آتے ہیں۔ ہم ان کے لئے چھپ چھپ کر روتے اور بلکتے اس لئےہیں کہ ان کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے بہت یاد آتے ہیں۔ اس نوعیت کی کیفیت ہم سب کی ہوتی ہے۔ ہم کٹھور نہیں ہوتے۔ ہم پتھر کے بنے ہوئے نہیں ہوتے۔ اب میں آپ کو ایک ایسی بات بتاتا ہوں جس کو سن کر آپ حیرت میں پڑ جائیں گے کہ پہلے کبھی ہم نے اس طرح کیوں نہیں سوچا تھا، ہمارے آخری لمحے بے حد تکلیف دہ اور دردناک ہوتے ہیں۔ اپنی جان سے پیاروں کو سفر آخرت پر روانہ ہوتے ہوئے دیکھ کر ایک لمحے کےلئے ہمیں خیال تک نہیں آتا کہ ایک نہ ایک روز ہمیں بھی اپنے پیاروں کی طرح یہاں سےکوچ کرنا ہے۔ ہمیں بھی آتی جاتی سانسوں کے ٹوٹنےکے عذاب سے گزرنا ہے۔ ہمیں چاہنے والے، ہم سے محبت کرنےوالے ہمارے آس پاس ہون گے مگر وہ سب ہمیں سفر آخرت پر روانہ ہونے سے روک نہیں سکیں گے۔

روتے بلکتے وہ ہماری طرف دیکھ رہے ہون گے اور ہم چلے جائیں گے۔ اس نوعیت کا خیال ہمیں کبھی نہیں آتا۔ اپنے اطراف، اپنے ہم عمر، ہم عصر ساتھیوں کو سفر آخرت پر روانہ ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں مگر ہمیں کبھی خیال نہیں آتا کہ ایک روز ہمیں بھی سفر آخرت پر روانہ ہونا ہے۔ ہمارے اندر، ہمارے دماغ میں ایسا دفاعی سسٹم لگا ہوا ہے جو ہمیں کسی دوست احباب کی موت پر یقین دلاتا رہتا ہے کہ ساری دنیا کے لوگ مرجائیں گے مگر ہم نہیں مریں گے۔ ہمیں موت نہیں آئے گی۔

ایسی باتیں ہمارےبزرگ تب نہیں بتاتے تھے جب ہم نوجوان ہوتے تھے، جب ہم جوان ہوتے تھے۔ وہ ہمیں یہ نہیں بتاتےتھےکہ بچپن آتا ہے، گزر جاتا ہے۔ لڑکپن آتا ہے، گزر جاتا ہے، نوجوانی آتی ہے، گزر جاتی ہے۔ جوانی آتی ہے، گزر جاتی ہے۔ ادھیڑ عمر آتی ہے، گزر جاتی ہے مگر جب بڑھاپا آتا ہے، تب کبھی خالی ہاتھ واپس نہیں جاتا۔ بڑھاپا ہمیں اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ ہمارے بزرگ ہمیں نوجوانی اور جوانی کے عالم میں زندگی کاآخری پہر احسن طریقے سے گزارنے اور مسکراتے ہوئے ازلی سفر پر اطمینان سے روانہ ہونے کا ہنر نہیں سکھاتے تھے۔ زندگی کا الوداعی پہر بہت سونا سونا ہوتا ہے۔ طرح طرح کی بیماریاں ہمیں جکڑ لیتی ہیں۔ دن چھوٹے پڑ جاتے ہیں اور راتیں لمبی ہوجاتی ہیں۔ تنہائی ہمیں نگلنے لگتی ہے۔ اختتامی لمحوں کی اذیت ہم رفع نہیں کرسکتے مگر کسی حد تک آسان کرسکتے ہیں۔ اس کیلئےتیاری نوجوانی اور جوانی سے کرنی پڑتی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ جنگ)