بھارت کی طرف سے پاکستانی وزیر خارجہ کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کی دعوت
بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو کو شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے جس سے ممکنہ طور پر دو جوہری حریف ممالک کے درمیان برف پگھلنے میں مدد ملے گی۔
شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس رواں برس مئی میں بھارتی شہر گووا میں ہوگا۔ بھارت کی جانب سے اس دعوت نامے سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے بھارت کو مقبوضہ کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کے حل کے لیے بات چیت کی پہیش کش کی تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق بلاول بھٹو کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں مدعو کرنے سے متعلق پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ نے فوری طور پر ردعمل نہیں دیا۔
بھارتی اخبار ’انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی جانب سے دعوت نامہ اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کو موصول ہوا جس میں کہا گیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس 4 اور 5 کو ہوگا۔ اگرپاکستان دعوت نامہ قبول کرلیتا ہے تو بلاول بھٹو پہلے وزیر خارجہ ہوں گے جو 12 سال بعد بھارت کا دورہ کریں گے۔ اس سے قبل جولائی 2011 میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے بھارت کا دورہ کیا تھا۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان، چین، بھارت، روس اور کرغزستان سمیت وسطیٰ ایشیا کے ممالک قازقستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں، جن سے پاکستان نے حال میں تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔
بھارتی اخبار کے مطابق بھارت کے اعلیٰ افسر نے کہا ہے کہ ’پڑوسی ممالک کے ساتھ پالیسی کو ترجیح‘ کو دیکھتے ہوئے بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں، بھارت کا ہمیشہ یہ نقطہ رہا ہے کہ خوف اور تشدد کے ماحول کو ختم کرکے بھارت اور پاکستان کے درمیان تمام مسائل دوطرفہ اور امن کے ساتھ حل ہونے چاہئیں۔’