کراچی بلدیاتی انتخابات میں بدنیتی ثابت ہونے پر سخت کارروائی ہوگی: چیف الیکشن کمشنر
کراچی میں منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا نے کہا ہے کہ بدنیتی ثابت ہونے پر صرف انتخابات کا نتیجہ درست نہیں ہوگا بلکہ ملوث لوگوں کے خلاف سخت کارروائی بھی ہوگی۔
جماعت اسلامی کی درخواست پر الیکشن کمیشن میں سماعت ہوئی۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جماعت اسلامی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چلیں میں دھاندلی کا الزام نہیں لگاتا لیکن بڑے پیمانے پر بے ضابطگی ہوئی۔ یہ 6 یونین کونسلز ایک مثال ہیں جن کو الیکشن کمیشن لایا ہوں۔ پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے ایک کونسل میں ایک سے 2 ہزار ووٹوں کی گنتی میں ہی غلطی کردی گئی۔
وکیل نے کہا کہ مثال کے طور پر منگھوپیر یو سی 12 میں 4 ہزار 538 ووٹ ڈالے گئے جب کہ لکھا گیا کہ درست ووٹ 5 ہزار 110 ہیں، ایک یو سی میں فارم الیون کے مطابق جماعت اسلامی کے 2 ہزار 88 اور پیپلز پارٹی کے 546 ووٹ تھے، آر او رزلٹ میں پیپلز پارٹی کے ووٹ 1988 کر دیے گیے، ہر یو سی میں سیکڑوں ووٹوں کا فرق ہے۔ آر او تو غائب ہوگئے، وہ تو الیکشن کمیشن کے ملازم نہیں، آر اوز اور پولنگ عملے نے بہت زیادتی کی۔
پیپلز پارٹی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک حتمی نتائج مرتب نہیں ہوئے، الیکشن کمیشن فوری حتمی نتائج جاری کرے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ رزلٹ کو جلد مرتب کیا جائے۔
اس دوران چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ نتیجہ جلدی مرتب کرلیں، چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہو؟ حتمی نتائج الیکشن کمیشن کے حکم پر روکے گئے ہیں۔ رکن الیکشن کمیشن نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ ریٹرننگ افسر سے غلطی ہوئی یا جان کر نتیجہ بدلا گیا۔
پیپلزپارٹی کے وکیل نے کہا کہ جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ جو فارم 11 ان کے ہاتھ میں ہیں، اس پر نتیجہ بنے۔ جماعت اسلامی کی درخواست ہی قابل سماعت نہیں ہے۔