فواد چوہدری کی گرفتاری سیاسی نہیں ہے: مریم اورنگزیب
وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی گرفتاری کو سیاسی رنگ دینے اور آزادی اظہار رائے پر پابندی سے جوڑا جا رہا ہے۔ لیکن یہ سیاسی گرفتاری نہیں۔ آج عوام، میڈیا اور اداروں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کہاں لائن کھینچنی ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں اس پریس کانفرنس میں پاکستان کے عوام، میڈیا اور ان تمام حلقوں سے مخاطب ہوں جو اس گرفتاری کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں اور اس کو آزادی اظہار رائے پر پابندی سے جوڑنے کوشش کررہے ہیں۔ انہوں فواد چوہدری کے خلاف درج ایف آئی آر کی نقل دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ وہ ایف آئی آر ہے جو الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کے خلاف درج کرائی اور سیکریٹری الیکشن کمیشن اس ایف آئی آر کے مدعی ہیں جنہوں نے یہ تھانہ کوہسار میں جمع کرائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ سیاسی گرفتاری نہیں ہے۔ ہم نو ماہ سے حکومت میں ہیں اور نو ماہ سے عمران خان، ان کے سارے ترجمان، فواد چوہدری اور دیگر نے جو زبان حکومت اور پارٹی قیادت سمیت ہم سب کے بارے میں استعمال کی ہے تو اگر سیاسی گرفتاری کرنی ہوتی تو عمران خان کی طرح اپوزیشن کی فرنٹ کی دو بینچوں کے تمام رہنما اس وقت جیلوں میں ہوتے۔ فاشزم، اختیارات کے ناجائز استعمال، ریاست کی طاقت کے استعمال کا عملی نمونہ عمران خان نے 2018 سے 2022 تک پیش کیا۔ لوگوں کی بیٹیوں کو ہسپتالوں میں گھسیٹا گیا، باپ کے سامنے بیٹی کو گرفتار کیا گیا۔ نواز شریف کی اقامے پر گرفتاری، نااہلی اور پارٹی کی صدارت سے ہٹانا سیاسی انتقام تھا۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ اسی طرح شہباز شریف کو گرفتار کیا گیا، ان کی بیٹی کے گھر کی چاردیواری پھلانگ کر نیب کے اراکین اور پنجاب پولیس نے دھاوا بولا۔ ہم نے کیا اداروں کو گالی دی، کیا ان کے بچوں کو دھمکیاں دیں، شاہد خاقان عباسی کو بغیر وارنٹ گرفتار کیا گیا، وہ تھا سیاسی انتقام۔
نو ماہ سے ہم ان کی باتیں سن رہے ہیں، ہم صبر رکھتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی تنقید سننا جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ بولتے ہیں۔ آج عوام، میڈیا اور اداروں نے یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کہاں لائن کھینچنی ہے۔
مسلم لیگ(ن) کی رہنما نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کے شہدا کے خلاف آفیشل پارٹی اکاؤنٹ سے مہم چلائی گئی۔ میڈیا چینلز کو استعمال کرکے افواج پاکستان اور اس کے افسران کو غداری اور بغاوت پر اکسایا گیا، کوئی سیاستدان کسی سیاستدان کی گرفتاری کے خلاف خوش نہیں ہوتا۔ یہ جمہوریت کی روح کے خلاف ہے لیکن یہ سیاسی گرفتاری نہیں ہے۔
یہ ایف آئی آر کسی سیاسی جماعت نہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئین کے مطابق کٹائی ہے اور سیکریٹری الیکشن کمیشن اس کا مدعی ہے۔ اس پر کسی سیاسی جماعت کا نام نہیں ہے، آپ کو فیصلہ کرنا ہو گا، یہ لائن کھینچنی ہو گی۔ آپ فارن فنڈنگ میں پکڑے گئے لیکن اس پر آپ الیکشن کمیشن کو گالی دیں اور کہیں کہ تم نااہل کرو تو میں تمہارے بچوں کو دیکھ لوں گا، تم ہمارے لیڈر کو نااہل کرو تو تمہارا اور تمہارے بچوں کا باہر نکلنا بند ہو جائے گا۔