اقتدار میں واپس آئے تو آئی ایم ایف پر انحصار کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا: عمران خان

  • جمعرات 26 / جنوری / 2023

سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ مالی معاونت کے لیے پاکستان کا آئی ایم ایف سے رجوع نہ کرنا فوری طور پر ممکن نہیں ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے  بلوم برگ کو ایک انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اقتدار میں واپس آتی ہے تو اس کے پاس آئی ایم ایف کی مالی معاونت پر انحصار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوگا۔ اگر ہم اقتدار میں واپس آئے تو ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں ہوگا، فوری فیصلے کرنا ہوں گے۔

چیئرمین پی ٹی آئی سے سوال کیا گیا کہ کیا ان کے منصوبے میں آئی ایم ایف کے ساتھ تعلق برقرار رکھنا شامل ہے؟ جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے‘۔

موجودہ حکومت ستمبر 2022 سے زیر التوا جائزے کو مکمل کرنے کے لیے آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی بھرپور کوششیں کر رہی ہے جس کے بعد فنڈز جاری کیے جاسکیں گے۔ تاہم اس اقدام سے جڑی سخت شرائط آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہونے میں رکاوٹ کا سبب ہیں۔ ان شرائط میں بجلی کی سبسڈیز ختم کرنے، عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے مطابق گیس کے نرخوں کو معقول بنانے، مارکیٹ کی جانب سے طے شدہ شرح تبادلہ اور ایل سی کھولنے پر پابندی کا خاتمہ شامل ہے۔

انتخابی سال میں داخل ہونے کے بعد حکمران اتحاد آئی ایم ایف کے مطالبات پر عمل درآمد میں محتاط ہے کیونکہ اس سے مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہوگا جو پہلے ہی دسمبر میں 24.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جس نے مبینہ طور پر ملک میں معاشی بحران میں اضافہ کیا۔

بلومبرگ کو دیے گئے انٹرویو کے دوران سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت کو اقتدار میں واپس آنے کے بعد غیر معمولی پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ پاکستان کو درپیش دیوالیہ کے خدشے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہمیں سری لنکا جیسی صورتحال کا خدشہ ہے، اقتدار میں واپس آئے تو شوکت ترین کو دوبارہ وزیر خزانہ مقرر کریں گے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ایک آزاد خارجہ پالیسی پر عمل کرے گی جو کسی ایک ملک  پر انحصار نہ کرے۔ پی ٹی آئی حکومت کے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ بہترین تعلقات تھے لیکن جو بائیڈن کے منتخب ہونے کے بعد ان تعلقات کو دھچکا لگا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب جو بائیڈن اقتدار میں آئے تو میں نے کسی وجہ سے ان کی جانب سے ہچکچاہٹ محسوس کی۔ عمران خان کے مطابق پاک امریکا تعلقات اس لیے خراب ہوئے کیونکہ امریکا کو افغانستان سے انخلا کا الزام عائد کرنے کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔

ملک کی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اپنے اختلافات پر تبصرہ کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ پوری سیاسی اشرافیہ میرے خلاف ہے، اس وقت مجھے ڈر ہے کہ میرے دشمن طاقتور ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ انہیں اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے اگلے عام انتخابات میں دھاندلی کی جاسکتی ہے۔