ملکی معیشت اللہ کے حوالے کرکے اسحاق ڈار کیوں بدستور وزیر خزانہ ہیں؟

جس ملک کے وزیر خزانہ اپنے کام میں ناکامی کے بعد  اسے بچانے کی ذمہ داری اللہ کو سونپ رہے ہیں تو سب سے پہلے تو اس وزیر خزانہ کو خود اللہ کومنہ دکھانے کا وقت یاد کرتے ہوئے اس عہدہ سے  علیحدہ   ہوجانا چاہئے۔ انہیں اعتراف کرلینا چاہئے   کہ اللہ  کی صوابدید سے ملکی  معیشت کی اصلاح کا جو کام انہیں سونپا گیا تھا، وہ اپنی نااہلی اور کم سمجھی کی وجہ سے اسے  پورا کرنے  میں  کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ۔ 

اس ناکامی پر اللہ اور پوری قوم سے معافی مانگنے کے بعد  اسحاق ڈا ر کو اس بات کا اعتراف کرلینا چاہئے کہ  وہ پاکستان کے معروضی معاشی حالات، عالمی  اداروں کی ترجیحات اور  اقتصادی ضرورتوں کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے  لندن میں کئی سال گزارنے اورعملی سیاست سے علیحدہ ہونے کے بعد پاکستان کی وزارت خزانہ  کا عہدہ سنبھالنے کی غلطی کرکے درحقیقت نہ صرف پاکستانی قوم،  ملکی معاشی صورت حال بلکہ اپنی ذات کے ساتھ بھی بے حد زیادتی کی ہے۔ کہ جو کام انہیں کرنا نہیں آتا  تھا، وہ اسے کرنے بلکہ شاندار طریقے  سے انجام دینے کا وعدہ کرتے ہوئے  ملک واپس آئے، تبدیل شدہ سیاسی انتظام کی وجہ سے اپنے خلاف مقدمے ختم  کروائے  اور عدالتی فیصلے تبدیل کروائے   گئے اور   اب وہ قوم کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ’ملک دلدل میں کھڑا ہے۔ لیکن اس کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ  پر عائد ہوتی ہے کیوں کہ یہ اسی کی رضا سے وجود میں آیا تھا۔ اس لئے اب وہی اسے بچا سکتا ہے‘۔

اسحاق ڈار کی اس دلیل کو اگر تسلیم کرلیا جائے کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک  ہے  جو اللہ تعالی  ٰ کی صوابدید و مرضی  سے وجود میں  آیا تھا تو  یہ بھی مان لینا پڑے گا کہ پاکستان کی نصابی کتابوں میں مسلم لیگی قیادت کی ہوشمندی، محمد علی جناح  کی زیرکی  وسیاسی چابکدستی اور  لاکھوں عوام کی بے مثال قربانیوں کے جو قصے معصوم ذہن طالب علموں کو ازبر کروائے جاتے  ہیں،  وہ بے بنیاد جھوٹ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔  پاکستانی قوم  کو جذباتی جہالت کی جس سطح  پر پہنچا دیا گیا ہے، اس میں اسحاق ڈار کا فلسفہ محض ایک بیان سے  قابل فہم نہیں ہوسکاگا لہذا بہتر ہوگا کہ وہ وزارت خزانہ چھوڑنے کے بعد لندن یا دوبئی کے کسی   عشرت کدہ میں فر کش ہونے کی بجائے پاکستان میں کسی نئی تحریک کا  آغاز کریں  اور بتائیں کہ پاکستان ہی دنیا  کا واحد ملک ہے جسے اللہ تعالیٰ نے خود بنایا ہے حتی کہ سعودی عرب بھی اللہ کی ’مرضی‘ سے قائم نہیں ہؤا تھا۔

اس  سطحی  اور  احمقانہ بیان کی فقہی توجیہات پر بحث کی بجائے، اسحاق ڈار کی حد تک ہمارا مشورہ ہوگا کہ اب وہ مشن کے طور پر اپنی اس جہالت کو عام کرنے کے لئے پاکستان ہی میں کوئی نئی تحریک شروع کریں ۔ انشاللہ ان کی یہ کاوش بہت کامیاب ہوگی کیوں کہ جاہلانہ پیغامات کو سوال کئے بغیر مان لینے کی ایسی  صلاحیت اس خطہ زمین پر آباد لوگوں میں پیدا کردی گئی ہے کہ  کوئی بھی  شخص کسی بھی ناممکن کو   اللہ کی مرضی بتا کر چورن کے طور پر قوم کو فروخت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔ کیا وجہ ہے کہ اسحاق ڈار  اپنی اس کاوش  میں سرخرو نہ ہوں؟  ان سے پہلے بہت سے جاہل قوم کے نجات دہندہ کی مسند پر فائز ہو چکے ہیں، ان میں اضافہ سے کسی اور کا فائدہ ہو یا نہ ہو  مستقبل میں سیاسی حالات تبدیل ہونے کے بعد نیب کے کسی سوال نامہ میں اگر   ’معلوم ذرائع سے زائد‘ آمدنی کا  کوئی سوال سامنے آیا تو اسحاق ڈار باآسانی بتا سکیں گے کہ انہوں نے اپنی   دولت غریب، عقل و شعور سے نابلد اور انہونی  پر یقین کرنے والے جاہل لوگوں کو جہالت کا نیا چورن فروخت کرکے  جمع کی ہے۔   ماضی کے تجربات سے اسحاق ڈار بخوبی جانتے ہوں گے کہ نیب جیسی کسی مشکل میں  اللہ مدد کے لئے نہیں آتا بلکہ خود اپنی  مد آپ کے تحت ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے ہیں۔ یہ نیا سفر اسحاق ڈار کو مستقبل میں کسی ناگہانی مشکل سے بچانے میں بھی تیر بہدف نسخہ ثابت ہوسکتا ہے۔

آئی ایم ایف کے تقاضے کو  اسحاق ڈار کے جھوٹی تسلیوں  کی بنیاد پر کئی ماہ  تک ٹالنے کے بعد بالآخر وزیر اعظم کو جب  یہ مطالبے منظور کرنے پڑے تو اس کا سب سے پہلا اثر روپے اور  ڈالر کی قدر کی صورت میں دیکھنے میں  آیا ہے۔ جمعہ کی دوپہر تک  ایک ڈالر 260 پاکستانی  روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اب یہ نوید دی گئی ہے کہ نویں جائیزے کے لئے  آئی ایم ایف کی ٹیم  31 جنوری کو اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔  یہ ٹیم جو مطالبات لے کر پاکستان آرہی ہے وہ پاکستان میں معاشی  شعبہ  سے وابستہ ہر شخص کو ازبر ہے۔ بس اسحاق ڈار یہ بتانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ وہ ’آئی ایم ایف  جیسے اداروں کو ٹھیک کرنے کے ہزار گن جانتے ہیں، اس لئے پریشان ہونے کی   ضرورت نہیں ہے۔ روپیہ اپنی اصل قدر 200 روپے پر لوٹ آئے گا‘۔ اب اسحاق ڈار نے یہ سارے معاملات چونکہ اللہ پر چھوڑ دیے ہیں ، اس لئے  یہ مان لینے میں شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ شہباز حکومت کی موجودہ لولی لنگڑی ا ور ناکارہ حکومت جلد ہی  ایک  نامکمل  قومی اسمبلی میں ایک منی  بجٹ پیش کرے گی جس میں عوام کی بہتری اور قوم و ملک کے عظیم ترین مفاد کے لئے کئی سو ارب روپے کے نئے محاصل  لگانے کا اعلان کیا  جائے گا۔  پیٹرولیم مصنوعات اور گیس کی قیمتوں  کو  عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبے پر  منڈی کے بھاؤ پر فراہم کرنے کی وجہ سے   ان مصنوعات کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوگا  جس کے نتیجہ میں مہنگائی کی جو شرح اس وقت تیس فیصد کے قریب ہے،   وہ ناقابل یقین حد تک  بڑھ سکتی ہے۔

چار ماہ پہلے اگر  مفتاح اسماعیل کو برطرف کرکے اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ   مقرر نہ  کیا جاتا تو دو باتیں پورے یقین سے کہی جاسکتی ہیں ۔  ایک:  ملکی معیشت مزید خرابی کی بجائے تعمیر کی طرف پیش قدمی جاری رکھتی۔ عوام کو ضرور مہنگائی اور اضافی محاصل کی صورت میں تکلیف ہوتی لیکن  آئی ایم ایف سے غیر ضروری تصادم  سے بچتے ہوئے  بے یقینی میں اضافہ نہ ہوتا۔ نہ صرف آئی ایم ایف بلکہ دیگر عالمی اداروں اور دوست ممالک کی طرف  سے سرمایہ کاری  کا سلسلہ جاری  رہتا اور ملکی معیشت  میں جمود کی بجائے تحرک  کی صورت دیکھنے میں آتی جو قومی پیداوار میں اضافہ کی بنیاد بن سکتی تھی۔   دوئم : آج پاکستانی معیشت کو بچانے کے لئے اللہ سے ’اپائنٹمنٹ‘ کا انتظار کرنے کی بجائے پاکستانی قوم خود ہی اپنی جد و جہد سے   بہتری کا راستہ تلاش کرنے کی طرف گامزن ہوچکی ہوتی۔ اسحاق ڈار نے  وزیر خزانہ کے  طور پر ملکی معیشت کو چند ماہ میں جو ناقابل یقین نقصان پہنچایا ہے،  وہ  سابقہ حکومت یا مفتاح اسماعیل پر  اس کی ذمہ داری  ڈال کر اس سے  بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ اسحاق ڈار کے پاس اگر اپنے معاشی شعور کی بجائے غیر ذمہ دارانہ  سیاسی   ضرورتوں  کی بنیاد پر اختیار کئے گئے رویہ کا کوئی جواب ہوتا تو وہ  قوم کو معاشی دلدل میں پھنسا ہونے کی نوید سنا کر  اللہ کی امداد کا انتظار کرنے کا پیغام نہ دے رہے ہوتے۔

تاہم اس سارے قضیہ میں صرف اسحاق ڈار کو مورد الزام ٹھہرانا کافی  نہیں ہے بلکہ اس کی براہ راست ذمہ دار وزیر اعظم شہباز شریف پر  عائد ہوتی ہے  جو اپنے کامیاب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل  کی حمایت میں ایک لفظ نہیں بول سکے اور لندن میں بیٹھے رہبر اعلیٰ اور بڑے بھائی نوازشریف کے حکم پر اسحاق ڈار کو  واپس لاکر قوم پر  مسلط کرنے کی وجہ بنے۔ شہباز شریف  اگر  71 سال کی عمر میں بھی سیاسی انتظامی فیصلے کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور انہیں اپنے جلاوطن  بھائی نواز شریف کی پراکسی کے طور پر ہی ملک پر حکمرانی کرنا تھی تو انہیں اس ملک کا وزیر عظم رہنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ اسی طرح اگر نواز شریف کو صرف اپنی پارٹی کی مقبولیت ختم ہونے کا غم  ستاتا ہے تو وہ مقدمات سے بری ہونے کا کوئی  ’جھرلو’‘ تلاش کرنے کی بجائے تبدیلی حکومت کے ساتھ فوری طور سے ملک واپس آتے ، جیل جاتے، عدالتوں کا سامنا کرتے۔ باجوہ عمران تنازعہ کے بعد جو معلومات سامنے آچکی ہیں، ان کی  روشنی میں ملک کی کوئی بھی عدالت تادیر نواز شریف کو جیل میں بند نہیں رکھ سکتی تھی اور نہ ہی انہیں اپنی نام نہاد سیاسی مقبولیت قائم رکھنے کے لئے اسحاق ڈار کی اس  ’مہارت‘ پر انحصار کرنا پڑتا جس  نے چار ماہ بعد ہی معاملہ اللہ کے سپرد کرکے خود اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہونے کا بزدلانہ اعلان کیا ہے۔ اور مسلم لیگ (ن) کا سیاسی مستقبل بھی مخدوش کردیا ہے۔

کیا اب بھی نواز شریف کو لگتا ہے کہ انہیں ملک اور  اپنی سیاسی پارٹی کے سارے فیصلے کرنے کے لئے محض اپنے ہی خاندان کے ’نابغوں‘ پر انحصار کرنا پڑے گا؟  سیاسی پارٹیاں موروثی بھی ہوں  تو بھی ان کی صلاحیت و قوت میں اسی وقت اضافہ ہوسکتا ہے جب وہ اپنے ساتھ ملنے والے لوگوں کی صلاحیتوں  پر بھروسہ کریں، مشاورت  اور فیصلہ سازی کے وسیع  فورم قائم کریں اور عہدے بانٹتے ہوئے اس اندھے کا طرز عمل اختیار نہ کریں   جس کے بارے میں کہا گیا ہے  کہ ’اندھا بانٹے ریوڑیاں اپنوں اپنوں کو دے‘۔