پاکستان دلدل میں کھڑا ہے، معاشی ترقی اللہ کے ذمے ہے: اسحاق ڈار
- تحریر بی بی سی اردو
- جمعہ 27 / جنوری / 2023
وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ کہ سابقہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کی غلطیوں کی وجہ سے پاکستان اس وقت دلدل میں کھڑا اور معیشت تباہ حال ہے۔ تاہم ان کا ایمان ہے کہ ’پاکستان کی حفاظت، ترقی اور خوشحالی اللہ کے ذمے ہے۔‘
پاکستان اس وقت معاشی اعتبار سے ایک بار پھر ’ایک نازک دور‘ سے گزر رہا ہے جہاں مصنوعی ریٹ کے خاتمے کے بعد گزشتہ روز امریکی ڈالر کی قیمت میں 25 روپے کا ریکارڈ اضافہ ہوا اور آج اب تک انٹر بینک ریٹ میں یہ قدر 10 روپے مزید اوپر جا چکی ہے۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق انٹربینک میں ایک امریکی ڈالر کی قدر 260 روپے سے اوپر چلی گئی ہے۔
گزشتہ دو روز کے دوران نہ صرف روپے کی قدر میں کمی کے نئے ریکارڈ بنے ہیں بلکہ آئندہ آنے والے دنوں میں ’مزید سخت فیصلوں‘ کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ اس سب کے دوران، جہاں تنقید کا رُخ کچھ ماہ پہلے تک سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل کی طرف تھا، اس وقت سوشل میڈیا صارفین کی توپوں کا رُخ موجودہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی طرف ہے جنہوں نے عہدہ سنبھالتے ہی یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ڈالر کی قیمت 200 روپے سے بھی نیچے لے جائیں گے۔
اس دوران وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پانچ سال میں پاکستان کی معیشت تباہ کی گئی مگر اتحادی جماعتوں کی حکومت اگلے عام انتخابات تک بہتری لانے کی خواہاں ہے۔ گرین لائن ٹرین کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ’یہی وہ ملک تھا جس کے بارے میں (2013 میں) کہا گیا تھا کہ یہ مالی طور پر مستحکم نہیں۔ اس وقت بھی کہا گیا تھا کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ ڈیفالٹ کا اعلان کرے گی۔‘ قوم کی بدقسمتی ہے کہ آج ہم (2018 کے) پانچ سال بعد کہاں کھڑے ہیں، اس کا احتساب ہونا چاہیے۔ پوری طرح تحقیقات ہونی چاہیے کہ کیا ہوا۔‘
وہ کہتے ہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو بے پناہ چیلنجز ملے ہیں مگر وہ بہادر ہیں اور لڑ رہے ہیں۔ یہ اس حکومت نے نہیں کیا۔ آج پاکستان ڈان اور پانامہ ڈرامے کو بھگت رہا ہے۔
پوری ٹیم دن رات کام کر رہی ہے، پانچ سال میں تباہی ہوئی۔ ہم اگلے جنرل الیکشن میں جانے سے پہلے بہتری لائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’انشا اللہ ہم معاشی دلدل سے نکلیں گے۔ پاکستان ترقی کرے گا، یہ میرا ایمان ہے۔ پاکستان دنیا میں رہنے کے لیے اللہ تعالی نے قائم کیا ہے، یہ واحد ملک ہے جو کلمہ شریف کے نام پر بنا تھا۔ حتی کہ سعودی عرب کلمہ شریف کے نام پر نہیں بنا۔ اگر اللہ نے اسے بنایا تو اس کی حفاظت، ترقی اور خوشحالی بھی اللہ تعالی کے ذمے ہیں۔ ہم لوگوں کی بطور قوم سخت محنت درکار ہے۔
اس وقت اوپن مارکیٹ میں ڈالر 260 سے بھی تجاوز کر گیا ہے جس کے بعد اس بات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ دنوں میں پاکستان میں ایک بار پھر مہنگائی میں اضافہ اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران دوسری مرتبہ ایسا ہو گا کہ پی ڈی ایم اتحاد کی حکومت اور پاکستان مسلم لیگ ن کے وزیرِ خزانہ کو ’مشکل فیصلے‘ لینے پڑے ہیں جن کا بوجھ عام عوام پر پڑنے جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ مفتاح اسماعیل کی جانب سے جب یہ ’سخت فیصلے‘ لیے گئے تھے تو انہیں پاکستان مسلم لیگ ن میں ہی خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا اور پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی جانب سے بھی مفتاح اسماعیل پر تنقید کی گئی تھی۔
پاکستان مسلم لیگ ن میں ان فیصلوں پر خاصی تنقید کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ گزشتہ موسمِ گرما میں ہونے والے ضمنی میں انتخابات میں جماعت کی شکست کے ذمہ دار بھی مفتاح اسماعیل اور ان کی پالیسیاں ہیں۔