سیاسی بلوغت و شائستگی کی کمی کیوں؟

سیاست حماقت کا نام نہیں، دانش زیر کی اور حاضر دماغی کا کام ہے جس میں بدلتے حالات کے تیور پڑھنے اور اُن کے مضمرات و ثمرات سے بچنے یا مستفید ہونے کی صلاحیت و لچک نہیں وہ اکھڑ مزاج، اکڑ اور جمود کا شکار ہے۔

 وہ جتنی مرضی کرکٹ کھیلے ، سیاست اس کے بس کا روگ نہیں۔ بہت سے احباب یہ استفسار کرتے ہیں کہ آپ تو کہتے تھے کہ یہ جو کرکٹ کا کھلاڑی ہے یہ سیاست کا اناڑی ہے لیکن اس کے باوجود دیکھیں وہ وزارت عظمیٰ کی کرسی تک پہنچ گیا تو یہی جواب ہوتا ہے کہ جن بیساکھیوں سے وہ یہاں تک پہنچا ان کی مدد سے تو کوئی سیاستدان یا کرکٹر کیا، کوئی ایک ٹانگ پر کھڑا ریڑھی والا چرب زبان بھی بغیر کسی سیاسی صلاحیت کے پہنچ سکتا تھا۔ جب طاقت کا کرین استعمال ہونا ہو تو پھر کہاں کی صلاحیت اور کون سی قابلیت۔ پنڈی کا ایک بڑھک باز خوشامدی نام نہاد لیڈر جو مرضی ہانکتا رہے لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ شخص اپنے ساڑھے تین سالہ دورِ آمریت میں ڈھنگ کا کوئی کام تو دور کی بات عقل کی کوئی بات تک نہیں کرسکا۔ جہاں جاتا تھا ایسی الٹی سیدھی ہانکتا تھاکہ میڈیا میں ایک نوع کا تماشا بنا رہا۔ حتیٰ کہ کہیں یوٹرن کا لفظ سامنے آتا تو اس کا نام ِ نامی اسمِ گرامی دماغ کی سکرین پر نمودار ہوجاتا ۔

اپنی عجیب و غریب حرکتوں یا حماقتوں کی وجہ سے اس نے اپنے نام کی اتنی بدنامی کروا دی ہے کہ ایک روز درویش کے کزن نے آکر درخواست کی بھائی جان میں اپنا نام بدلنا چاہتا ہوں آپ اس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کروا دیں۔ حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا عمران بھائی آپ کا نام اتنا خوبصورت ہے کیا آپ نے سور ہ آلِ عمران نہیں پڑھی آپ اتنے دکھی کیوں ہورہے ہیں۔ اور ایسی بات کیوں کہہ رہے ہیں۔ اس پر میرا بھائی رنجیدہ ہو کر بولا کہ بھائی جان جس طرح ایک خراب مچھلی پورے جل کو گندا کردیتی ہے اسی طرح ایک شخص نے ہمارے اس مبارک نام کو بدنام کرکے رکھ دیا ہے۔ اس لیے آپ میرا نام جو بہتر سمجھیں رکھ کر میری دستاویزات اس کی مطابقت میں بنوا دیں۔ درویش یہ رسمی و لفظی بات نہیں کررہا فی الواقعہ اسے اس سلسلے میں بھائی کو قائل کرتے ہوئے خاصی مشکل پیش آئی۔

عرضِ مدعا یہ ہے کہ آپ جو بھی ہیں چاہے کتنے بڑے سے بڑے رتبے پر پہنچ گئے ہیں لیکن اپنے اندر کی انسانیت کو کبھی نہ گنوائیں، یہ زندگی چار دن کی ہے اس میں اپنی اکڑ پھوں اور تعلی و خود نمائی کیلئے دوسروں کے خلاف منافرت پھیلاتے ہوئے حقارت میں اس حد تک نہ چلے جائیں کہ باقی سب کیڑے مکوڑے یا چور اچکے ہیں، بس آپ ہی کوئی انوکھی یا ماورائی مخلوق ہیں۔ آپ کبھی ٹھنڈے دماغ یا حوصلے کے ساتھ تنہا بیٹھ کر سوچیے کہ آپ اپنے مدمقابل یا اپنے سیاسی مخالفین کے متعلق عرصہ دراز سے جو تہذیب سے گری ہوئی زبان استعمال فرماتے چلے آرہے ہیں۔ چور چور ڈاکو ڈاکو کرپٹ کرپٹ… لیڈر کیا ، یہ اسلوب یا بازاری زبان توکسی عام مہذب انسان کو بھی زیب نہیں دیتی۔ نواز شریف یہاں تین مرتبہ کا منتخب وزیر اعظم ہی نہیں ہے اس سے محبت و عقیدت رکھنے والے پاکستانی عوام کروڑوں میں ہیں، ان کے خلاف آپ نے پیہم اخلاقیات سے گری ہوئی جو زبان استعمال فرمائی بلاثبوت و بلا جواز جو گھناؤ نے الزامات عائد کرتے چلے آرہے ہیں اگر کسی کے ضمیر میں ذرا سی رمق بھی ہوتو وہ ضرور اس پر شرمندگی محسوس کرتا ہے۔

مگر افسوس ہے اس ڈھٹائی پر اتنا کچھ کرگزرنے پر بھی کوئی شرمندگی ہے نہ پچھتاوا۔ ایک وقت میں وہ آپ کے محسن تھے جنہوں نے سب سے بڑھ کر ہسپتال کی تعمیر میں آپ کی طرف دستِ تعاون بڑھایا تھا۔ چلیں کوئی بات نہیں یہاں محسن کشی کی روایت کوئی نئی نہیں۔ جنرل مشرف اور جنرل باجوہ کو بھی انہوں نے عزت بخشی تھی اور پھر انہوں نے جس طرح پاکستان کے آئین کو بوٹوں تلے روندتے ہوئے عوامی اعتماد کی تذلیل کی وہ ہماری افسوسناک تاریخ کا حصہ ہے۔ اس سب کے باوجود نواز شریف کی آئین شکنی پر تلخی اپنی جگہ مگر انسانی وقار سے گری ہوئی کوئی ایک بات ان کے حوالے سے بیان نہیں کی جا سکتی وہ تو ایسا گریٹ انسان ہے کہ آپ کی اتنی بدزبانی کے باوجود آپ کی گراوٹ پر تیماداری کیلئے بنفس ِ نفیس جا پہنچا تھا۔ درویش جیسے ہمدردوں کو ایک غلط شخص کی عزت افزائی کیلیے اس حد تک جانے پر تکلیف پہنچی تھی۔ نواز شریف یا آصف علی زرداری تو چلیں آپ کے سیاسی حریف تھے۔ ہوسکتا ہے ان کے خلاف منافرت سے آپ کو کچھ سیاسی فائدہ پہنچتا ہو لیکن جنرل باجوہ تو اول و آخر آپ کے محسن تھے۔ جس نے ناروا طور پراقتدار طشتری میں رکھتے ہوئے آپ کو پیش کیا اور اس سنگھاسن پر آپ کو لا بٹھایا جس کے آپ اہل تھے اور نہ ہی بیس برس دھکے کھانے کے باوجود اس کے قریب پھٹک پائے تھے۔

آج اس کے متعلق کیا فرمودا ت جاری ہورہے ہیں۔ یہ کہ اس جیسا ملک کو برباد کرنے والا کوئی دشمن بھی پیدا نہیں ہوا اور یہ کہ مجھے ہٹانے سے بہتر تھا کہ اس ملک پر ایٹم بم گرا دیا جاتا۔ چلیں یہ سب باتیں تو ماضی کا حصہ ہوگئیں آپ نے اپنی مرضی سے پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں تڑوائیں اور ہر دو صوبوں کے نگران وزرائے اعلیٰ آئین و قانون کے مطابق تعینات کیے گئے۔ سید محسن نقوی جیسے ہونہار اور ہر دلعزیز صحافی کو پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ بنایا گیا ہے ان کی ساری زندگی ہمارے سامنے ہے۔ کو ن ہے جوان سے پیار نہیں کرتا۔ وہ چوہدری پرویز الہیٰ کی بہن کے داماد ہیں مرحوم اشرف مارتھ کی بے وقت موت کے پس منظر میں چوہدری پرویز کی مخالفت ہماری تہذیبی اقدار کے ہی خلاف ہے۔ جبکہ آپ اور آپ کی پارٹی جس نوع کی زبان استعمال فرما رہے ہیں بدترین مخالف، بڑا دشمن ،دشمن کا بیٹا ،۔باجوہ کا کارندہ، میری حکومت گرانے کا امریکا کے بعد سب سے بڑا کلپرٹ…. ان الزامات کے بعد اس شخص کے ذہنی لیول کو سمجھنے میں کوئی کمی رہ گئی تھی تو وہ پوری ہوجانی چاہیے۔

اب آپ اس کے خلاف کورٹ میں جائیں، منفی پروپیگنڈہ کریں یا جلوس نکالیں، محسن نقوی کی نگرانی کا دورانیہ پکا ہے۔ آپ لوگوں نے جس طرح سرکاری ملازمین کو اس ذمہ داری پر لانے کیلئے نام بھجوائے اس سے آپ دونوں کی پولیٹیکل میچورٹی کو جانچا پرکھا جاسکتا ہے۔ اندھوں کو بھی نظر آرہا تھا کہ محسن نقوی کے علاوہ الیکشن کمیشن کے پاس کوئی دوسرا موزوں شخص اس ذمہ داری کے لیے تھا ہی نہیں۔ مگر وہ کیا ہے کہ ”من پاپی حجتیں ڈھیر“جس شخص کی سیاسی قابلیت یہ ہو کہ کبھی قومی اسمبلی سے استعفے قبول کروانے کے لیے احتجا ج کرتا ہو اور جب قبول ہوجائیں تو قبول نہ کرنے کیلئے احتجاج شروع کردے۔ ایک دن کسی کی شان میں نعتیں اور نظمیں پڑھ رہا ہو اور اگلے روز اسے اپنا ہی نہیں ملک و قوم کا بدترین دشمن قرار دے رہا ہو۔

سیاسی اناڑی پن کو سمجھنے میں ہنوز اگر کسی کو کو ئی غلط فہمی تھی تو وہ آنے والے مہینوں میں مزید واضع ہوجائے گی۔ اس وقت مسئلہ صرف یہ ہے کہ آپ کا پھیلایا ہوا سارا کچرا بشمول معیشت کا کھلواڑ وزارت ِ عظمیٰ کے ایک اور حریص نے بخوشی اٹھا رکھا ہے۔ اس تباہ حال معیشت کا سامنا ہی اس وقت نواز شریف کا اصل چیلنج ہے۔