عمران خان کے الزامات کے بعد مجھے، والد اور پارٹی کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے: بلاول
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے عمران خان کی جانب سے ان کے والد آصف زرداری پر عائد الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان الزامات کے بعد مجھے، میرے اہل خانہ اور میرے والد کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے مجھے اور میری پارٹی کو نام لے کر دھمکیاں دی گئیں اور اب عمران خان کی جانب سے میرے والد اور سابق صدر مملکت آصف زرداری پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کے بعد مجھے، میرے اہل خانہ اور میرے والد کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے اور تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ان الزامات کو انتہائی سنجیدگی سے لیں گے۔
ہم عمران خان کی جانب سے عائد کیے گئے ہتک آمیز اور خطرناک الزامات کے حوالے سے قانونی پہلوؤں پر غور کررہے ہیں، ماضی میں بھی وہ میرے والد کو دھمکیاں دے چکے ہیں کہ وہ ان کے نشانے پر ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ دہشت گردوں کے ہمدرد اور سہولت کار رہے ہیں۔ جب وہ اقتدار میں تھے تو دہشت گردوں کو رہا اور جمہوری نمائندوں کو گرفتار کرتے تھے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کو ایک دہشت گرد تنظیم کو سونپ دیا اور ان کی پارٹی آج بھی دہشت گردوں کو فنڈ کرتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مجھ پر، میرے والد یا پارٹی پر کوئی حملہ ہوا تو ان سب چیزون کو مدنظر رکھا جائے گا۔ عمران خان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کی بیوی جو خواب دیکھتی ہیں ہر مرتبہ وہ سچ بھی ثابت ہو اور آپ ان کی بنیاد پر ٹی وی پر آ کر کسی پر الزامات عائد نہیں کر سکتے۔ کیونکہ خوابوں کو عدالت میں ثابت نہیں کیا جا سکتا۔
بلاول نے کہا کہ عمران خان کے میرے خاندان کے دہشت گردوں سے تعلق یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کرنے کے تازہ الزامات ناصرف منطق سے عاری ہیں بلکہ اس سے ہمیں لاحق خطرات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی عمران خان کے الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ عمران خان کے سابق صدر آصف علی زرداری پر بے بنیاد اور خطرناک الزامات ناصرف غیر ذمے دارانہ ہیں بلکہ یہ اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف زہر اگلنے کی سازشی تھیوریز کا عملی نمونہ بھی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایسی بے ہودہ بیان بازی سیاسی طور پر متعلقہ رہنے کی کوشش ہے اور پوری قوم جانتی ہے کہ انہوں نے اقتدار کی خاطر معاشرے کو تقسیم کرنے کے لیے کس طرح سے نفرت کی سیاست کا سہارا لیا ہے۔