نعرے بیانیہ نہیں ہوتے، مریم نواز نفرت کی نئی مہم کا آغاز نہ کریں
- تحریر سید مجاہد علی
- ہفتہ 28 / جنوری / 2023
لندن سے لاہور پہنچ کر مریم نواز کی تقریر سے ملکی سیاست میں مسلم لیگ (ن) کے مستقبل کو مزید مشکوک کیا ہے۔ مریم ہی نہیں بلکہ ان کے والد نواز شریف کو بھی یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ اب محض نعروں سے پاکستانی سیاست میں حاوی ہوجانے کا وقت بیت چکا ہے۔ اقتدار کے لئے درپردہ قوتوں پر سیاست دانوں کے انحصار نے ملک کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے کہ ایٹمی طاقت کے حامل ملک کے پاس محض تین ارب ڈالر کے لگ بھگ زر مبادلہ موجود ہے اور آنے والے چند ماہ میں اسے دس ارب ڈالر محض قرضوں کی اقساط میں ادا کرنے کے لئے درکار ہیں۔
مریم نواز نے اسحاق ڈار کی معاشی صلاحیتوں پر بھروسہ کرنے کا مشورہ دیا ہے اور قوم کو یقین دلایا ہے کہ اللہ پر یقین رکھیں، اسحاق ڈار ہی اس ملک کو مشکل حالات سے باہر نکالیں گے۔ کسی بھی ملک کو تاریخ کے مختلف ادوار میں بحرانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس حد تک تو پاکستان کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہوسکتا لیکن اگر کوئی حکومتی ترجمان غلطیوں پر اصرار کرے اور ملک کی مشکلات کا ذکر آنے پر سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا کر جان چھڑانا چاہے تو اندازہ کرلینا چاہئے کہ اس ملک کے لیڈروں میں مسائل کو سمجھنے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق ان کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی قیادت اور مرکز ی حکومت میں اس کے نمائیندے اس وقت اسی طرز عمل کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا خیال ہے کہ جیسے عمران خان نے گزشتہ 9 ماہ تک سیاسی مخالفین کو تختہ مشق بنا کر سیاسی مہم چلائی اور خود کو ایک مضبوط لیڈر کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسی طرح اب مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) بھی جوابی حملے کرکے عمران خان کی مقبولیت میں کمی لانے کا مقصد حاصل کرلیں گی۔ حالانکہ مسلم لیگ (ن) سمیت سیاسی عناصر اور تجزیہ نگار اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ عمران خان کی منفی سیاسی مہم جوئی نے انہیں اور ملک کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پھر یہ کیسے گمان کرلیا جائے کہ اگر عمران خان کی بجائے مریم نواز کی سرکردگی میں مخالفین کی کردار کشی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جائے تو لوگ جوق در جوق ان کی باتوں پر صاد کہیں گے اور چند ماہ میں ہونے والے دو صوبوں کے انتخابات میں بیلٹ باکس نواز لیگ کی حمایت میں بھر دیے جائیں گے۔ کسی ٹھوس سیاسی اور معاشی پالیسی کے بغیر عوام کی حمایت حاصل کرلینے کا خیال ہی گمراہ کن ہے ۔ یہ حکمت عملی کسی بھی پارٹی کے مستقبل کے لئے تشویشناک ثابت ہوگی۔
عمران خان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پرجوش مہم جوئی کی ہے، اس کے نتیجہ میں وہ اپنا کوئی بھی سیاسی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ حتی کہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی حکومتیں گنوا چکے ہیں اور پنجاب میں ایک ایسا وزیر اعلیٰ مقرر کروانے کا سبب بنے ہیں جسے وہ تحریک انصاف کا دشمن سمجھتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے قومی اسمبلی واپس جاکر راجا ریاض کو اپوزیشن لیڈر کی نشست سے محروم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو اتحادی پارٹیوں کے اسپیکر نے دھڑا دھڑ تحریک انصاف کے ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرکے اس کوشش کو بھی فی الحال ناکام بنا دیا ہے۔ اگرچہ یہ امکان موجود ہے کہ مارچ میں قومی اسمبلی کی 33 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں تحریک انصاف ایک بار پھر کامیابی حاصل کرلے اور ماضی کی ضد چھوڑ کر فوری طور سے قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر حلف اٹھا کر اپوزیشن کا جائز کردار ادا کرنے پر تیار ہوجائے تاکہ اس سال کے آخر میں قومی اسمبلی کے انتخابات سے قبل مقرر ہونے والی عبوری حکومت میں اس کی رائے کو اہمیت حاصل ہو۔ لیکن اس معاملہ میں بھی تحریک انصاف نے ابھی تک تو یہی اعلان کیا ہے کہ ضمنی انتخاب میں تمام نشستوں پر عمران خان ہی امید وار ہوں گے۔ اگر پارٹی یہ افسوسناک پالیسی تبدیل نہ کرسکی تو ملکی سیاست میں اس کا رہا سہا اثر و رسوخ بھی ختم ہوتے دیر نہیں لگے گی۔
مقبولیت کے باوجود عمران خان کی ناکامی کی دو ہی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ انہوں نے پارلیمانی نظام سے علیحدہ ہوکر یہ کوشش کی کہ اداروں کو دباؤ میں لاتے ہوئے کسی بھی طرح شہباز حکومت کو قبل از وقت عام انتخابات پر مجبور کیا جائے۔ یہ کوشش ناکام ہوئی ۔ دوئم ان کی سیاسی مہم میں نعرے، الزامات اور مخالفین کی کردار کشی کے تمام عناصر تو موجود تھے لیکن وہ کسی بھی مرحلہ پر نہ تو ملکی معیشت کو درپیش مسائل کا کوئی واضح نقشہ پیش کرسکے اور نہ ہی یہ بتا سکے ہیں کہ اگر انہیں واقعی ایک بار پھر اقتدار حاصل ہوگیا تو وہ کیسے ملک میں سیاسی ہم آہنگی کا ماحول پیدا کریں گے۔ اسی غیر واضح اور کسی ٹھوس نظریہ کے بغیر چلائی گئی سیاسی مہم ہی کی وجہ سے اب عمران خان کی مقبولیت کا حلقہ محدود ہونے لگا ہے۔ امریکہ پر الزام تراشی اور سازشی نظریہ کو اپنے زوال کا سبب قرار دینے کے بعد ان کی مقبولیت میں یک بیک اضافہ ضرور دیکھنے میں آیا تھا لیکن آہستہ آہستہ جب عوام کو حقائق کا ادراک ہونے لگا اور ایک کے بعد دوسرے مؤقف کو تبدیل کرکے الزام تراشی کا کوئی نیا ہتھیار نکالنے کی کوشش کی گئی تو نواز شریف اور آصف زرداری کی مخالفت میں عمران خان کو بہتر لیڈر ماننے والے لوگوں کی تعداد میں بھی کمی ہونے لگی۔ اس حوالے فی الوقت صرف اندازے ہی قائم کئے جاسکتے ہیں اور حقیقت احوال تو انتخابات کے دوران ہی واضح ہوگی لیکن یہ تو دکھائی دے رہا ہے کہ عمران خان کی مقبولیت میں اب وہ جولانی ہے اور نہ ان کے احتجاج کی اپیل میں وہ جان باقی ہے کہ ملک میں اچانک کوئی طوفان اٹھتا دکھائی دے۔
یہ مختصر سا پس منظر بیان کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اب اینٹی عمران مہم جوئی کا عزم کیا ہے اور مسلم لیگی عناصر یہ دعوے کررہے ہیں کہ وہ کوئی ایسا ’بیانیہ‘ سامنے لانے والی ہیں جو ملک کی تقدیر تبدیل کرکے رکھ دے گا۔ یہ دعوے سننے والے عوام کو ابھی یہ بات بھولی نہیں ہے کہ نواز شریف کی طرح مریم نواز بھی گزشتہ چار ماہ تک ملک سے غائب تھیں اور اس دوران عوام پر مہنگائی اور بدحالی کا ایک کے بعد دوسرا صدمہ گزرتا رہا ہے۔ لیڈر اگر عوام کی دلجوئی کے لئے مشکل وقت میں ان کے درمیان موجود نہ ہو تو اس کی قیادت مشکوک ہوجاتی ہے۔
یہ قوم بیانیہ کے نام پر الزام تراشی کا کھیل سال ہا سال سے دیکھ رہی ہے۔ اب سیاست دانوں کی باتوں پر نہ تو یقین باقی رہا ہے اور نہ ہی ان کے وعدوں پر اعتبار کرنے کی کوئی بنیاد موجود ہے۔ان سطور میں تواتر سے ملک کو موجودہ مشکل تک پہنچانےوالے عوامل کا احاطہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز نے جب اپنی حکومت و سیاست کے خلاف فوجی شب خون کے خلاف اعلان جہاد کیا تھا اور ’ووٹ کو عزت دو ‘ کو ماٹو کے طور پر پیش کیا گیا تھا تو ان سطور میں اس مؤقف کی پرزور تائد بھی کی جاتی رہی ہے۔ لیکن مریم نواز اور ان کے ہمنواؤں کی اس رائے کی تائد نہیں کی جاسکتی کہ وہ عوامی رابطہ مہم کے نام پر سیاسی فساد کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیں۔ مریم کا یہ دعویٰ بھی بے بنیاد اور ناقابل قبول ہے کہ موجودہ حکومت کے نو ماہ کا حساب کرنے سے پہلے عمران حکومت کے چار سال کا حساب لینا پڑے گا۔ یہ نعرہ چلے ہوئے کارتوس کی مانند ہے۔ مریم نواز کو اب سیاسی بلوغت کی اس سطح تک پہنچ جانا چاہئے کہ کوئی بھی سیاسی پارٹی اپنے دور حکومت میں کیے گئے کارناموں کو ہی بڑھا چڑھا کر پیش نہ کرتی رہے بلکہ اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کرے اور ان سے سبق سیکھنے کی کوشش کرے۔
اسحاق ڈار نے گزشتہ روز ملکی معیشت کے بارے میں برملا کہا تھا کہ ’یہ دلدل میں پھنسی ہے اور اب اللہ ہی اسے بچائے گا کیوں کہ یہ ملک لاالہ ۔۔۔ کے نام پر بنا تھا۔ جس اللہ نے اسے بنایا ہے، وہی اسے موجودہ مشکل سے نکالے گا‘۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور بزدلانہ بیان تھا جس میں ملکی معیشت کی کمزوریوں کا احاطہ کرکے ان سے نکلنے کا کوئی پیشہ وارانہ حل پیش نہیں کیا گیا تھا۔ اگر سب کام اللہ پر ہی چھوڑنے ہیں تو نہ تو اس ملک کو فوج کی ضرورت ہے، نہ ایٹم بم چاہئیں، نہ حکومت اور سیاست دان۔ بلکہ عوام گھروں میں بیٹھ کر من و سلوی اترنے کا انتظار شروع کردیں۔ امید کی جارہی تھی کہ مسلم لیگ (ن) کی اعلی قیادت اس ناقص اور سیاسی ناکامی کے اعتراف پر مشتمل بیان کا نوٹس لے گی اور انہیں اس عہدہ کی ذمہ داریوں سے فارغ کیا جائے گا۔ حیرت ہے کہ نواز شریف سے ہدایات لے کر وطن واپس آنے والی مریم نواز نے اپنی تقریر میں اسحاق ڈار کی پر زور حمایت پر اصرار کیا ہے۔ ملکی معیشت کو تباہی کے گڑھے میں دھکیلنے والے ایک شخص کی غیرمشروط سیاسی حمایت مسلم لیگ (ن) کے لئے سیاسی موت کا پروانہ ثابت ہوسکتی ہے۔
عمران خان پر طعن زنی کرتے ہوئے مریم نواز یہ کہہ رہی ہیں کہ انہیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ عوام کی حالت کیا ہے اور وہ اشیائے ضروریہ کس قیمت پر خریدتے ہیں جبکہ نواز شریف غریبوں کے غم میں گھلے جارہے ہیں اور جلد وطن واپس آئیں گے۔ نواز شریف کا بدستور ملک سے باہر رہنے پر اصرار دراصل اپنے خلاف مقدمات میں قبل از وقت ضمانت اور بریت کا انتظام کرنا ہے۔ یہ رویہ کسی عوم دوست قومی لیڈر کے شایان شان نہیں ۔ عوام کی حالت کو سمجھنا ہے تو ان کے ساتھ ملیں ، ان کے شب و روز کا مشاہدہ کریں ، نعرے لگانے کی بجائے ان مشکلات کا عملی حل تجویز کریں۔ اگر نون لیگ جیسی بڑی پارٹی کے پاس اسحاق ڈار کے علاوہ معیشت دیکھنے والا کوئی شخص موجود نہیں ہے تو یہ اس پارٹی کے لئے شدید پریشانی کا سبب ہونا چاہئے۔ نواز شریف کو اب رشتے داری اور سیاست میں حد فاصل قائم کرکے عملی اقدامات کا اعلان کرنا چاہئے۔
مریم نواز کے ذریعے نفرت کی ایک نئی مہم سے دکھوں اور غموں کی ماری اس قو م کو مزید زیر بار نہ کیا جائے ۔ورنہ عوام کا غصہ اس ملک کے ہر اس شریف زادے کے لئے قہر بن جائے گا جو خود تو سونے کا نوالہ کھاتا ہے لیکن قوم کے غم میں آنسو بہانے کا دعوے دار بنا پھرتا ہے۔