واہ کیا ملک ہے!
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 28 / جنوری / 2023
واٹ آ کنٹری: انکل سرگم کے نام سے معروف فاروق قیصر کے ایک کیریکٹر کا یہ مشہور تکیہ کلام تھا۔ فاروق قیصر ان معدودے چند لوگوں میں سے تھے جن کے لکھے ہوئے اکثر ڈائیلاگ اور کردار ضرب المثال بنے۔
ان کی شاعری، وائس اوور ، پتلیوں کے کردار اور اسکرپٹ ہماری عام زندگی کا عکس تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے کم وبیش ہر کردار اور خاکے کو پذیرائی ملی۔ ماسی مصیبتے، خود انکل سرگم سمیت ان کے اکثر کرداروں کے نام ان کے کردار کا مظہر تھے۔ ان کی انفرادیت تھی کہ سماجی تضادات کے چھوٹے چھوٹے روزمرہ مسائل کو موضوع بناتے اور اپنے پتلی کرداروں کے ذریعے سماجی تضادات کا کچا چٹھا سامنے لےآتے۔ ان کا ایک ایسا ہی کردار انگریز سیاح کا تھا۔ پاکستان کی سیاحت پر آیا یہ کردار ٹریفک قوانین توڑنے، جعلسازی، ملاوٹ اور بد انتظامی کے واقعات کو دیکھ کر حیران ہوتا ہے، اس کی حیرانی اس وقت اسے مزید بوکھلا دیتی جب تضادات پر مبنی واقعات اور مناظر کی توجیح بد تر از گناہ کے طور پر کی جاتی تو وہ ورطہ حیرت میں ڈوبتے ہوئے انگشت بدنداں کہتا: واٹ آ کنٹری!
ہمیں یہ کردار اس وقت بے اختیار یاد آتا ہے جب ہم اپنے روزمرہ کے سیاسی سماجی تضادات پر ڈٹ کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دلیل اور دوسروں سے موازنے کے باوجود اپنی غلطی پر اڑے رہتے ہیں، بہت سے معاملات میں ہمیں معلوم بھی ہو کہ غلطی پر ہیں تو بھی اپنی ناک کی خاطر یا اپنے مفاد کی خاطر اس پر ڈٹ جانے کو کمال سمجھتے ہیں۔ دنیا اسی کام یا معاملے کو بالکل الٹ یا دوسرے انداز میں کہیں بہتر نتائج کے ساتھ کر رہی ہو مگر ہم اپنے اسی تجربے کو بار بار دوہرانے پر مصر رہنے میں قباحت نہیں سمجھتے جو بار بار ناکام رہا۔
اس وقت ملک بھر میں جاری روپے ڈالر کی شرح مبادلہ کی ہاہا کار کو لے لیجیے ۔ گلوبل فنانسنگ اور ٹریڈنگ میں ماضی کا وہ معاشی طرز کب کا متروک ہو چکا کہ کوئی ملک اپنی مرضی کی شرح مبادلہ کے ساتھ اپنی کرنسی کو ورلڈ کرنسی یعنی ڈالر کے ساتھ فکس کر دے۔ نوے کی دہائی میں بار بار کے تجربات نے دنیا کو سکھا دیا کہ دیرپا اقتصادی اور مالیاتی پالیسی یہی ہے کہ ملکی اکونومی زیادہ سے زیادہ ویلیو ایڈڈ پیداوار کرے، اس کی برآمدات درآمدات سے زیادہ ہوں، اس کی بیرونی مالی ادائیگیاں اس کے مالیاتی وسائل اور بیرونی ریزرو سے مطابقت رکھتی ہوں تو مالی استحکام یقینی ہے۔ ان بنیادی عوامل کی موجودگی میں ہی ملک کی کرنسی آزادانہ ٹریڈنگ میں مستحکم رہتی ہے۔ تاہم اگر ٹریڈ خسارہ اپنے پاؤں پسارے ہی چلا جائے، کرنٹ اکاؤنٹ کے چھید بڑھتے بڑھتے شگاف بن جائیں تو بھی کوئی ملک اپنی کرنسی کی ویلیو مصنوعی طریقے سے فکس کرنے بیٹھ جائے کہ وہ دنیا سے زیادہ سمارٹ ہے اور دنیا اس کے بہلاوے میں آ جائے گی تو اسکی بھول ہے۔ پتھر چاٹ کر واپس آنے کا شوق پورا کرنا ہو تو سو بسم اللہ ورنہ عاقل وہی ہوتے ہیں جو اپنی اور دوسروں کی غلطیوں سے سیکھتے ہیں۔
گزشتہ دس ماہ سے جاری مالیاتی تھیٹر میں بار بار ایسے مناظر دیکھے کہ بے اختیار زبان سے نکلا: واٹ آ کنٹری! دو روز قبل روپے ڈالر کی شرح مبادلہ کا تماشا دیکھ کر بے اختیار یہی فقرہ ذہن میں آیا واٹ آ کنٹری!!
زیادہ پیچھے نہیں جاتے، اپریل کے بعد کرنسی کے ساتھ ہوئے کھیل کو ہی لیں ۔ مفتاح اسماعیل کی سربراہی میں ہمیں فنانس ٹیم نے بار بار باور کرایا کہ ڈیفالٹ سر پر کھڑا ہے۔ ڈیفالٹ کیا ہوتا ہے ، اتفاق سے اس کی ایک مثال انہی مہنیوں میں سری لنکا نے پیش کر دی ۔ سو مالیاتی ٹیم کو سمجھانا آسان ہو گیا کہ ڈیفالٹ کسے کہتے ہیں۔ سری لنکا تو دو کروڑ ابادی کا چھوٹا سا ملک ہے جبکہ پاکستان اس سے گیارہ گنا بڑا ملک ہے، سوچیں ڈیفالٹ کی صورت میں یہاں ہونے والی ہڑبونگ اور دھما چوکڑی کیا رنگ دکھائے گی۔ یہ اور اس سے ملتے دلائل مع حسب توفیق سابق حکومت پر الزامات کے ساتھ قوم کو باور کرایا گیا کہ، مشکل تو ہوتی ہے اس طرح کے کاموں میں۔
مفتاح اسماعیل کے انداز بیان میں ان تلخ فیصلوں کی وضاحت میں شیرینی کی کمی پورا کرنے کے لئے ڈاکٹر مصدق نے ان کی معاونت کی۔ روپے کی شرح مبادلہ گرنے سے مہنگائی کا جو طوفان آیا اس پر دونوں نے یقین دلایا کہ تکلیف ہے ، عارضی ہے اور ہم آپ کی تکلیف میں برابر کے شریک ہیں۔ یہ البتہ انہوں نے بتانے سے گریز کیا کہ اس برابری کا اطلاق تکلیف سہنے پر بھی ہے یا صرف تکلیف دینے کی مجبوری تک ہے ۔ نیم شب پریس کانفرنسوں میں دونوں اصحاب منہ لٹکائے بتاتے کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کی مجبوری پھر سے آن پڑی ہے۔ اک ذرا صبر کہ جبر کے دن تھوڑے ہیں۔۔۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ معاشی جادوگر اسحاق ڈار وارد ہوئے اور لگی لپٹی رکھے بغیر بتایا کہ خواب تھا جو دیکھا تھا افسانہ تھا جو سنا تھا۔ اب ڈالر 200 روپے سے نیچے جائے گا۔ اب تک جو ہوا وہ غلط ہوا۔ بے اختیار زبان سے یہی نکلا: واٹ اے کنٹری!
اسحاق ڈار نے آتے ہی ان ناہنجار منافع خوروں کی خبر لینا شروع کی جنہوں نے میاں میرا گھر نہیں مجھے کسی کا ڈر نہیں، والے طور طریقے اپنا لئے تھے۔ بنکوں کے بہی کھاتوں کو ٹٹولا تو فارن کرنسی کی بڑھوتری سے کمائے منافعے گزشتہ کئی سالوں کی یافت سے بھاری نکلے۔ ڈالر کی ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کے دھندے نے بھی بہتی گنگا میں اشنان کی عادتیں اپنائیں ہوئی تھیں۔ انتظامی اختیارات کے استعمال سے ان چور راستوں پر پہرے بٹھانے سے کچھ بہتری تو ہوئی مگر دوسری طرف موصوف نے اپنے پچھلے دور میں آزمودہ نسخے کو رو بہ عمل لانا شروع کر دیا یعنی غیر اعلانیہ انداز میں اسٹیٹ بنک کے ذریعے اور انتظامی طاقت سے مشکیں کسنے کر انٹر بنک میں مصنوعی طور پر ڈالر کی شرح مبادلہ کو 223-225 کے درمیان فکس کرنا۔
تاہم اس عمل میں بیرونی ترسیلات زر میں کمی اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی شارٹیج نے اپنے اپنے ریٹ بنا لئے ۔ اس پر مستزاد اپنی ہی پرورش کی ہوئی سبسڈائزڈ امپورٹ کی عادت کی حوصلہ شکنی کی کوشش میں اسٹیٹ بینک کے ذریعے امپورٹ کے فلڈ گیٹ کے سامنے بند باندھنے کا کام ذمے لے لیا۔ ہزاروں کنٹینرز پورٹ پر رک گئے، ہر قسم کی انڈسٹری اور ٹریڈ کی سپلائی چین کو جھٹکے لگنے لگے تو ہاہا کار مچ گئی شور شرابا ہونے لگا ۔ اس کوشش میں جادوگری کا ہنر بھی جاتا رہا، الٹا جو بڑے بڑے بول بولے تھے، ان سے غیر اعلانیہ تائب بھی ہونا پڑا۔ اور یوں دو دن قبل کرنسی پر سے کیپ ہٹا تو روپے ڈالر کی شرح ایک ہی دن 30 روپے سے زائد چھلانگ لگا گئی یعنی 10٪ سے بھی زائد: 260 روپے۔ اس دوران موصوف کی جانب سے ایک لفظ بھی معذرت اور اشک شوئی کا نہ سنا۔ یہی سوچ کر چپ رہے کہ واٹ آ کنٹری!
کہاں یہ کہ وہ قوم کو یقین دلاتے رہے کہ میرے پیش رو کو آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا ہی نہیں آیا۔ میں نے انہیں ڈیل کیا ہوا ہے، انہیں سمجھتا ہوں اور سمجھانا جانتا ہوں۔ اور یہ بھی کہ وہ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن نہیں لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ مگر جب آئی ایم ایف کا جائزہ مشن آنے سے انکاری ہوا، دوست ممالک نے بھی امداد کو آئی ایم ایف کی خوشنودی سے مشروط کیا تو یہ ارشاد بھی سننے کو ملا کہ آئی ڈونٹ کئیر، اب ہم گڑگڑا کر تو بلانے سے رہے۔ ان موٹی ویشنل مکالموں کے ہم سادہ لوحوں کو یقین ہو گیا کہ آئی ایم ایف کو اب لگ پتہ جائے گا کہ اب کی بار سامنے
’ٹکر’ کا آدمی کھڑا ہے لیکن پھر یوں ہوا کہ ہوا ہی بدل گئی ، ادھر ادھر سے کانوں میں یقین انڈیلا جانے لگا کہ آئی ایم ایف کے بغیر چارہ نہیں۔ خواب تھا جو دیکھا افسانہ تھا جو سنا ۔ وزیر خزانہ خاموشی سے دوست ممالک کی سفارشوں سے آئی ایم ایف کی جبین سے شکنیں سیدھی کروانے کے بعد ان تمام نسخوں کی ترکیب استعمال سمجھنے میں مصروف ہو گئے جن کے بارے میں ان کا گلہ تھا کہ میرے پیش رو کو کچھ پتہ ہی نہ تھا۔
خزانے کی درماندگی کے باوجود دوسری طرف یہ جذبہ کہ ای سی سی نے ممبران پارلیمنٹ میں اپنے ممبران کے لیے پروجیکٹس کے لئے رقوم میں 30٪ اضافے کی منظوری دی یعنی اب 90 ارب روپے۔ اتنی لمبی چوڑی کابینہ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ سادگی اور کفایت کیسے کی جائے سو ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے وہی ڈھلے ڈھلائے نسخے تجویز کئے ہیں جن پر عمل کے لئے وقت کی رادھا موجود ہے نہ نو من تیل کی کوئی صورت۔۔۔ کیا کہہ سکتے سوائے اس کے کہ واٹ آ کنٹری!